صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’نفرت کا ناش ، مانوتا کا وکاس‘ مہم کا اختتام

یہ مہم امن پسند لوگوں کو متحد اور منظم کرنے کی خاطر چلائی جارہی تھی

459

ممبئی : ملک کی موجودہ تشویشناک صورتحال سے سب واقف ہیں ۔ انسانی حقوق کی پامالی میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔ فرقہ واریت اور ذات پات کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی نفرت سے ہونے والے تشدد نے ہر انصاف پسند شہری کو فکر مند کردیا ہے ۔ نفرت کی بڑھتی ہوئی تاریکی کو محبت کی روشنی سے منور کرنا امت مسلمہ کا فرض منصبی ہے ۔ اس کے تحت ۲۰ دسمبر ۲۰۱۸ تا ۶جنوری ۲۰۱۹ کے درمیان ایک مہم ’نفرت کا ناش ، مانوتا کا وکاس‘ شروع کیا تھا جس کا اختتامی اجلاس ۵/۶ جنوری ۲۰۱۹ اندھیری اسپورٹس کامپلیکس میں ہوگا ۔ مہم کا مقصد معاشرے سے نفرت اور عدم برداشت کا ماحول خاتمہ کر کے محبت و انسانیت کا فروغ ہے ۔

سدبھاونا منچ ممبئی کے تحت ۳ نومبر ۲۰۱۹ کو ساڑھے تین بجے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس میں ’نفرت کا ناش ، مانوتا کا وکاس‘ عنوان کے تحت مہم کے کنوینر شاکر شیخ نے قومی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ۳ فیصد لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر سماج کو نفرت سے بھر دیا ہے ۔ ملک کی بڑی اکثریت امن پسند ہے ۔  مہم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے کہا سدبھاونا منچ عوام کے دلوں سے نفرت کا خاتمہ کرکے امن وشانتی کے جذبات پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ معاشرے میں بھائی چارہ پروان چڑھے اور عوام مل جل کر خوشحال زندگی گزاریں ۔

سدبھاونا منچ کرلا کے صدر جناردھن جنگلے نے کہا پچھلے دوسالوں سے ہم لوگ  اپنے علاقہ میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعہ سماج کو جوڑنے کا کام کررہے ہیں اور حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہورہے ہیں نیز کرلا کی امیج بدل رہی ہے ۔  انہوں نے آئینی حقوق کی بحالی پر زور دیا ۔ جنگلے نے مزید کہا کہ کرلا کی طرح ممبئی کے ہر علاقہ میں اس کی شاخیں قائم ہونی چاہئیں اور یہ بھی بتایا کہ ۴ جنوری شام ۷ بجے کرلا میں اسی عنوان کے تحت ہندی اردو اور مراٹھی زبانوں کے مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے ۔ آپ نے امید ظاہر کی کہ اندھیری میں منعقد ہونے والی  مہم کے اختتامی تقریبات میں کرلا سے بڑی تعداد میں سبھی مذاہب کے ماننے والے لوگ  شریک ہوں گے ۔

ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ آدمی کے اندر سے اگر انسانیت ختم ہوجائے تو درندے سے بدتر ہوجاتا ہے ۔ محبت انسان کی فطرت میں ہے ۔ نفرت اس کی شخصیت کو مسخ کردیتی ہے ۔ ہمارے خالق و پروردگار نے  ہمیں ایک خاص مقصد کے تحت اس دنیا میں بھیجا ہے اور ہمیں واپس جاکر اپنے عقیدہ و ایمان کا حساب دینا ہے ۔ ان سے سوال کیا گیا آج کل کے ماحول میں اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی تو انہوں نے بتایا جب دھوپ  تیز ہوتو پیاس زیادہ لگتی ہے اور سماجی تشدد کی مختلف مثالیں دیں ۔

آج کل نفرت کے شعلے آسمان کو چھو رہے ہیں اس لیے انسانیت کے فروغ کی بہت زیادہ  ضرورت ہے ۔ آج کے ماحول میں اس آواز پر کون کان دھرے گا ؟ اس کا کیا فائدہ ہے اور کامیابی کا امکان کیا ہے ؟ ان سوالات کے جواب میں آپ نے کہا  کہ کچھ کام فائدے اور نقصان سے بے نیاز ہوکر کرناچاہیے  نیز کامیابی کا امکان بہت  ہے اس لیے کہ یہ ہر دل کی آواز ہے ۔ آج نفرت پھیلانے والے کم تعداد میں ہونے کےباوجود منظم ہونے کے سبب طاقتور لگتے ہیں جبکہ محبت کے علمبردار منتشر ہونے کی وجہ کمزور لگتے ہیں ۔ یہ مہم امن پسند لوگوں کو متحد اور منظم کرنے کی خاطر چلائی جارہی ہے ۔

جماعت اسلامی ہند (ممبئی) کے سکریٹری شیخ ہمایوں نے بتایا کہ اس مہم کا آغاز ۲۰ دسمبر کو ہوچکا ہے ۔ اس دوران سدبھاونا منچ کے کارکنان نے تقریباً۴۰ ہزار لوگوں سے انفرادی ملاقات کرکے انہیں  امن و محبت کا پیغام پہنچایا ۔ اس کے تحت کئی این جی اوز ، اہم شخصیات اور سماجی تنظیموں سے رابطہ کیا گیا اور انہیں اس مہم میں شرکت کی دعوت دی گئی ۔ اس مہم کی سب اہم تقریب نمائش اور سمینار ہے ۔ یہ پروگرام ٥-٦ جنوری کو اندھیری اسپورٹس کامپلیکس ، آزاد نگر میٹرو اسٹیشن اندھیری (مغرب) میں منعقد ہوں گے ۔

اس موقع پر مختلف مذاہب کے ماننے والے دانشور اور سماجی  کارکن جیسےجناب وشوناتھ کامتھ ، پربودھک جیون ودیا مشن (ممبئی) ، ڈاکٹر رام پنیانی (آئی آئی ٹی ، ممبئی) ، چرنجیت سنگھ گور ، صدر پنجابی سانجھی سبھا(ممبئی) ، شنکر چلپ ، سکریٹری شری سد گرو سیوا منڈل(ممبئی) ، انتھونی ڈائس ، ممبئی کیتھولک سبھا(ممبئی) ، برہما کماری تپسونی بہن جی (ممبئی) اورمولانا اعجاز اسلم (دہلی) اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔ اس پروگرام میں خواتین ، اساتذہ اور دیگر پروفشنلز کے لیے خصوصی سیشن رکھے گئے ہیں ۔ نمائش کے علاوہ انعامی مقابلے(کوئز) اور کونسلنگ وغیرہ کا بھی اہتمام ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.