صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

رامدیو اور سمبت پاترا کے متنازعہ تبصرے پر مسلم تنظیمیں خاموش

سمبت پاترا نے مسجد کا نام بدل کر وشنو رکھنے کی دھمکی دی تھی اور رام دیو نے مسلمانوں کوگئو متر پینے کا مشورہ دیا

501

سلوڑ : (اعظم پٹھان) ۸؍نومبر کو سمبت پاترا نے ایک نیوز چینل کے مباحثہ کے دوران ایم آئی ایم کے نمائندے کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹھ جا ورنہ کسی مسجد کا نام بدل کر وشنو رکھ دونگا اسی طرح یوگ گرو مانے جانے والے رام دیو نے ایک اسلامک مذہبی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں سے گائے کا پیشاب پینے کا مشورہ دیا تھا دونوں کے اس غیر ذمہ دارانہ تبصرے اور مشورے کے بعد مسلم سماج میں سخت نارضگی پائی گئی تھی ۔ حالانکہ رام دیو بابا کو کورٹ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور جواب طلب کیا گیا ہے ۔ لیکن دونوں کوملک میں ایک اہم اور ذمہ دار اشخاص مانا جاتا ہے ۔ اگر ایسے افراد کسی ایک طبقہ کیخلاف زہر افشانی کریںیا ان پر ذلت آمیز تبصرے کریں تو ظاہر ہے سماج نارضگی ظاہر تو کرے گا ہی لیکن چند مقامات یا شہروں کو چھوڑ کر تمام جگہوں پر ان دونوں کے تبصرے پر مسلم سماجی تنظیموں نے خاموشی اختیار کی ، حالانکہ سلوڑ میں بہت ساری مسلم تنظیمیں سرگرم ہیں جو مسلمانوں کی فلاح کیلئے کا م کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں اور قوم کی پریشانیوں میں ان کی مدد کا دعویٰ بھی کرتی ہیں لیکن یہ تمام تنظیمیں ا یسے وقت خاموش ہوگئیں جب راست طور پر قوم کے عقیدے کونشانہ بنایا گیا ۔ اگرایسے وقت میں مسلم سیاسی ، اور ملی تنظیموں نے خاموشی اور مصلحت پسندی سے کام لیا تو آئندہ اس سے خطرناک دھمکیاں اور تبصرے سننے کو مل سکتی ہیں ۔ ہماری تنظیمیں بے حسی میں مبتلاء نظر آتی ہیں ، صرف چندہ وصول کرنا ، عوامی بیداری پیدا کرنے اور ان کی ترقی کیلئے کوشش کرنے کے دعوے ، بس یہی کام رہ گئے ہیں ۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کیخلاف آواز بلند کرنا بھی ان تنظیموں کا اولین کام ہونا چاہئے ۔ کسی مسلم قائد سے سوال کیا جائے تو وہ منفی رائے دینے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہے تاکہ اپنے آپ کو سیکولر ثابت کرسکیں ۔ لیکن ایسے وقت میں خاموشی پر مسلمانوں میں میں ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.