صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق پر الزامات ثابت

48,657

جیب رزاق پر ملائیشیا کی سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ترقیاتی ادارے ‘ون ملائیشیا ڈویلپمنٹ برہد’ (ون ایم ڈی بی) میں اربوں ڈالرز کی خرد برد، اختیارات کا ناجائز استعمال اور کرپشن سمیت سات الزامات ہیں۔

کوالالمپور ہائی کورٹ کے جج محمد نزلان محمد غزالی نے منگل کو نجیب رزاق کے خلاف پہلے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام ثبوتوں اور شواہد کی روشنی میں وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے اور وکیل صفائی اپنا کیس ثابت نہیں کر سکے۔

نجیب رزاق پر ‘ون ایم ڈی بی’ کرپشن اسکینڈل میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانا، منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق چارجز بھی شامل تھے۔ عدالت نے ان تمام الزامات کو درست قرار دیا ہے۔

اس مقدمے میں نجیب رزاق پر الزام تھا کہ انہوں نے ‘ون ایم ڈی بی’ کے سابقہ یونٹ ‘ایس آر سی انٹرنیشنل’ کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ ڈالر کی رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرائی۔

نجیب رزاق عدالتی فیصلے سے قبل صحتِ جرم سے انکار کر چکے تھے اور انہوں نے اپنے خلاف آنے والے ممکنہ فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

نجیب رزاق کا مؤقف ہے اُن کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات سیاسی ہیں اور اس معاملے میں اُنہیں بینکرز نے گمراہ کیا تھا۔

منگل کو نجیب رزاق جب عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے حامی بھی بڑی تعداد میں عدالت کے باہر جمع موجود تھے۔ ان کے حامیوں نے ‘نجیب زندہ باد’ کے نعرے بھی لگائے۔

جیب رزاق پر ثابت ہونے والے تمام الزامات میں سے ہر جرم کی سزا 15 سے 20 برس قید ہے۔

خیال رہے کہ ‘ون ایم ڈی بی’ اسکینڈل کے تحت سابق وزیرِ اعظم پر کرپشن کے الزامات گزشتہ پانچ برسوں سے لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن ان پر کرمنل چارجز اس وقت لگائے گئے جب وہ سن 2018 میں الیکشن ہار گئے تھے اور سابق وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے اقتدار سنبھال کر نجیب رزاق کے خلاف تحقیقات شروع کرائی تھیں۔

نجیب رزاق ‘ون ایم ڈی بی’ فنڈز میں سے ساڑھے چار ارب ڈالرز کی رقم غائب ہونے کے معاملے پر پانچ مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ اس اسکینڈل کا حصہ بننے پر تقریباً ایک ارب ڈالر سابق وزیرِ اعظم کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.