صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

گدھے کو ٹکر لگنے کے بعد جب انسان بھی بن گیا گدھا

بھیڑ نے نوجوان کو پیٹا ، نئے سال کی شروعات میں ہی ماب لنچنگ ، بھیڑ کیخلاف معاملہ درج

670

کوشامبی : نئے سال کے شروع میں ہی یو پی میں ماب لنچنگ کی واردات سامنے آئی ہے لیکن غنیمت یہ ہے کہ جن دو مسلم نوجوانوں کو بھیڑ نے نشانہ بنایا تھا وہ جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ۔ مقامی پولس اسٹیشن سرائے عاقل نے ۲۵ افراد کے خلاف مارپیٹ کا معاملہ درج کیا ہے ۔

یہ معاملہ ہے الہ آباد کے پڑوسی ضلع کوشامبی کی جب پرکھاس کے رہائشی ضیا ہاشمی شام کے وقت اپنی بائیک سے دوسرے دوست سبحان کے ساتھ جارہے تھے ۔ اسی دوران گدھوں کی بھیڑ لے کر ایک شخص جارہا تھا کہ اچانک بائیک سوار ضیا ہاشمی کے سامنے سڑک پر گدھے کا آجانے سے ان کا بائیک پر کنٹرول نہیں اور وہ گر گئے ۔

اس بات کو لے کر گدھے لے جانے والے شخص نے گالی گلوچ شروع کردی جس کی وجہ سے معاملہ طول پکڑ گیا اور اس تو تو میں میں ، میں تقریبا ۲۰ سے زیادہ لوگ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اپنے ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈے اور پتھر لے کر آدھمکے اور دونوں بائیک سواروں کو پیٹنا شروع کردیا ۔ بھیڑ دیکھ کر کسی طرح سے جان بچاکر دونوں نوجوان کھیت کی طرف بھاگ گے ، بھیڑ نے دور تک ان کا پیچھا کیا لیکن نوجوان اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب رہے ۔

پولس نے متاثر نوجوانوں کی شکایت پر بھیڑ کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ نوجوانوں کے ساتھ ہو رہے زیادتی کی کسی راہگیر نے ویڈیو بنا لی جس میں متاثر نوجوانوں کو بھیڑ کے ذریعہ پیٹتے ہوئے اور نوجوانوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔ ویڈیو میں آواز آرہی ہے ’مسلمان ہیں کیا ، جم کر مارو‘ بھیڑ نوجوانوں پر لاٹھی ڈنڈے لے کر ٹوٹ پڑی ۔ واردات کی جانکاری ڈی جی پی یوپی پرکاش سنگھ کو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں جانچ ہوگی اور متاثرین انصاف ملے گا ۔ بہر حال پولس نے مار پیٹ کا معاملہ درج کرلیا ہے جبکہ ایسے معاملوں میں اقدام قتل سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے تاکہ لاقانونیت اور موبو کریسی کی لعنت پر قد غن لگ سکے ۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.