صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کانگریس اقلیتی کنونشن میں گئوکشی کے خلاف این یس اے کا معاملہ اٹھا

نسیم خان نے گئو کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

669

نئی دہلی : ملک کی راجدھانی دہلی میں واقع جواہر لال نہرو اسٹیدیم میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے قومی کنونشن کاآج انعقاد عمل میں آیا جس میں کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت اعلیٰ کانگریس لیڈران اور پورے ملک کے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کانگریسی قائدین نے شرکت کی جس کے دوران مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کے خلاف ہی بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے گئو ھتیا کے خلاف سخت قانون نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کو نافذ کئے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پورے ملک کے مسلمان برادران وطن کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ کی مخالفت کرتے ہیں لیکن جس طرح سے گئو ہتیا کے نام پربے گناہ مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قتل و غارت گری کے بازار کو گرم کیا جاتا ہے ایسے افراد کے خلاف بھی این ایس اے جیسے سخت قانون کونفاذ کیا جانا چاہئے اور سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔

نسیم خان نے مزید کہا کی آج جس طرح سے فرقہ پرست طاقتیں گئو ھتیا کے نام پر ملک کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستی کا ننگا ناچ رچی ہوئی ہے اس پر فوری روک لگانے کی ضرورت ہے ۔ آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت آئین میں ہی تبدیلی کر رہی ہے اور گذشتہ دنوں تین طلاق کے تعلق سے جو قانون تشکیل دیا گیا ہے وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور شریعت میں براہ راست مداخلت کے مترادف ہے ۔ ملک کی موجودہ صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی نسیم خان نے مختلف صوبوں اور ریاستوں سے آئے مندوبین کی موجودگی میں کہا کہ جس طرح سے آزادی وطن سے قبل مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں کانگریس نے انگریزوں کے خلاف محاذ تیار کیا تھا اور جنگ آزادی کی لڑائی لڑی گئی تھی آج اسی طرز پر ضرورت اس بات کی ہے راہل گاندھی کی قیادت میں اس فرقہ پرست سرکار کے خلاف ملک کی تمام عوام کو کمر بستہ ہوجانا چاہئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.