صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

چودہ سوسال قبل اللہ نے میسیج دیا تھا اسے پڑھنے کی ہمیں توفیق نہیں ہوتی

مولانامحمدشاکرنوری نے کامیاب زندگی گزارنے کے لیے پانچ نکاتی فارمولہ پیش کرتے فرمایا’ دینے والے بنولینے والےنہیں، مومنین کے لیے بہترین گمان کرو،اپنے وجودکودوسروں کے لیے بوجھ نہ بنائوبلکہ دوسروں کی ضرورت بنو

405

ممبئی : سنی دعوت اسلامی کا۲۸؍واں سالانہ اجتماع آج مغفرت کی دعائوں ، دینی تعلیمات پرعمل کرنے کی تلقین اورمعاشرے کوامن وامان کاگہوارہ بنانے کے عزم کے ساتھ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا ۔ آج کاایک اہم خطاب معروف خطیب مولاناسیدامین القادری کا تھا ۔ انہوں نے ’نوجوان اوروقت کی ناقدری‘ کے موضوع پردینی ودنیاوی حیثیت سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسلام میں وقت کی بڑی اہمیت ہے ۔ قرآن کریم نے وقت یعنی زمانے کی قسم یادفرمائی ہےاس سے پتہ چلتاہے کہ وقت کواللہ نے کتنی اہمیت دی ہے ۔ مولاناسیدامین القادری نے فرمایاکہ وقت کی اہمیت اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ساری عبادات اپنے متعینہ وقت پرہی اداکرنے کاحکم ہے اگروقت گزرنے کے بعدیہ عبادت اداکی جائیں گی تووہ قبول نہیں ہوں گی ۔ اس ضمن میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ افسوس آج ہمارے نوجوان سب سے زیادہ ضائع کرتے ہیں ۔ سوشل میڈیاپروقت ضائع کرناآج عا م سی بات ہو چکی ہے ۔ انہوں نے ایک اہم بات بتاتے ہوئے کہاکہ آج لوگ واٹس ایپ پردرجنوں گروپس میں ایڈ ہو گئے ہیں اورجوں ہی کسی میسیج کی رنگ ٹون بجتی ہے توفوراًمیسیج پڑھنے کے لیے موبائل اٹھالیتے ہیں مگرچودہ سوسال قبل جواللہ نے میسیج دیاتھا اس میسیج کوپڑھنے کے لیے ہمیں توفیق نہیں ہوتی ۔
سنی دعوت اسلامی کے مبلغ عارف پٹیل (نگراں سنی دعوت اسلامی ،یوکے)نے اپنے انگریزی خطاب میں انہوںنے کہاکہ آج بہت سارے لوگ میلادپراعتراض کرتے ہیں اوراسے بدعت قراردیتے ہیں حالاں کہ اعترا ض کرنے والوں کومعلوم ہوناچاہیے کہ اگرچہ میلادکاثبوت خودقرآن وحدیث سے ثابت ہے مگراس کے ساتھ ساتھ یہ عشق کامعاملہ ہے ۔ عشق کی باتیں اگرکتابوں میں نہ بھی ملیں توکیاہمیں سیرت صحابہ سے اس کادرس نہیں ملتا ۔ عارف پٹیل نے کہاکہ آپ ہرچیزکتابوں میں ہی کیوں تلاش کرتے ہیں ، صحابہ کے طرزعمل کوکیوں نہیں دیکھتے ۔ عارف پٹیل نے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ آج بہت سارے لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کونمازکی طرف کیسے راغب کریں ۔
امیرسنی دعوت اسلامی مولانامحمدشاکرعلی نوری نے ’باہمی محبت کے نبوی اصول‘ پرنہایت پرمغز اور فکر انگیز خطاب کیا اورسامعین کوسال بھرعمل کرنے کے لیے پانچ نکات ارشادفرمائے ۔ قرآن کریم اورسیرت نبوی کی روشنی میں کہاکہ باہمی محبت کاپہلااصول یہ ہے کہ آپس میں سلام کوعام کرو ، سلام کوزیادہ سے زیادہ پھیلائو ۔ کسی سے بھی تین دن سے زائد ترک تعلق نہ کریں ۔ دوسرااصول یہ بتایاکہ مجلس میں دوسروں کے لیے جگہ دوتاکہ دلوں میں محبت پیداہو ۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ لوگوں کوآپس میں ہدیہ دو ، ہدیہ عام کرو،یہ سنت ہے اس سے بھی دلوں میں محبت پیداہوتی ہے ۔ چوتھااصول یہ ہے کہ لوگوں سے اچھے ناموں سے پکارو ، غلط ناموں سے پکاروگے تودلوں میں رنجشیں بڑھیں گی ۔ پانچواں اورآخری اصول فرمایاکہ نرمی اختیارکی جائے ، شدت نہ برتی جائے ، سختی سے ہمیشہ لوگ ایک دوسرے دورہوجاتے ہیں ۔
مولانامحمدشاکرعلی نوری مزیدپیغام دیاکہ بھلائی کے کاموں میں سبقت کی جائے ، یہ بھلائی کے کام چاہے کسی بھی نوعیت کابھی ہو۔دینے والے بنولینے والے نہ بنوکیوں کہ دینے والاہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہترہوتاہے۔انہوں نےکہاکہ مومنین کے لیے بہترین گمان کرو،اپنے وجودکودوسروں کے لیے بوجھ نہ بنائوبلکہ دوسروں کی ضرورت بنواوراللہ ورسول کی تعلیمات پرعمل کرو۔ ان پانچ نکات پرزوردیتے ہوئے کہاکہ سنی دعوت اسلامی کے ۲۸ویں اجتماع کے اس پیغام کولے کرجائیے اوران پرعمل کریے اوردینی ودنیاوی طورپرکامیابی حاصل کیجیے ۔
حضرت مفتی محمدزبیرمصباحی نے شرعی سوالات کے جواب دیے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہیوی ڈپوزٹ پرگھرلینے کے لیےکرایہ مقررکرناضروری ہے ۔ بغیرکرایہ مقررکیے ہیوی ڈپوزٹ پرگھرلیناسود ہے اوریہ حرام ہے ۔ کچھ کرایہ مقررکرناضروری ہے ۔ ایک سوال یہ کیاگیاکہ بہت ساری عورتیں نظربدسے بچنے کے لیے اپنےبچوں کے ماتھے پرکالا ٹیکا لگا دیتی ہیں اوران کایہ تصوراوریقین ہوتاہے کہ بچہ محفوظ رہے گا ۔ اس کے جواب میں مفتی زبیر نے فرمایاکہ اسلام میں نظربدکی حقیقت توہے مگراس طرح کاتصور اسلامی نہیں ہے ۔
مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پربہت گہرائی کے ساتھ روشنی ڈالی اورپھراس کاحل بھی پیش فرمایا ۔ مفکراسلام نے کہاکہ ایک وقت وہ تھا کہ دشمنوں کی فوج تین لاکھ کی تعداد میں اس وقت کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہوتی تھی مگران کے مقابلے میں مسلمان بالکل نہتھے ہوتے تھےاور ان کی تعداد بھی دشمنوں کے مقابلے میں اقل قلیل ہوتی تھی مگراس کے باوجودمسلمان فاتح ہوکرابھرتے تھے اس کی وجہ یہ تھی ان کا خدا پراعتماد پختہ تھا ۔ خداپراسی اعتمادکے بھروسے انہوں نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا تھا مگرجب سے مسلمانوں کا خدا پر سے اعتماد کم ہوگیا تب سے دشمن ہم پرغالب ہوتاچلاگیا اورہم زوال کے شکارہوگئے ۔ مفکراسلام نے فرمایاکہ اگرآج بھی ہم نے خداپراپنااعتمادپختہ نہ کیاتوخدشہ یہ ہےکہ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے بھی زیادہ پسماندہ ہوجائیں گی۔مولانامحمدشاکرنوری نے دعاکرائی اور سامعین سے کھچاکھچ بھراآزادمیدان بہت دیرتک آمین ثم آمین کی صدائوں سے گونجتارہا۔الحاج عثمان زرودر والانے حکومتی عملہ ، پولیس ، بی ایم سی اور دیگر معاونین کاشکریہ اداکیا ، اس اجتماع کے انتظامی امور میں بطورخاص سابق وزیرمہاراشٹر عارف نسیم خان نے حصہ لیا اور اپناتعاون پیش کیا ۔ اللہ پاک انھیں اجرعظیم عطافرمائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.