صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سابق ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹر بھالچندر منگیکر کا مراٹھی ساہتیہ سمیلن کی صدر کو کھلا خط

493

محترمہ ارونا تائی ڈھیرے صاحبہ

ہرسال کسی نہ کسی تنازعات میں الجھے رہنے والے مراٹھی ساہتیہ سمیلن کی صدارت کے لئے اس سال بغیر کسی مقابلے کے آپ کا انتخاب ہوا ، یہ مراٹھی ادب ومراٹھی زبان کے لوگوں کے لئے اطمینان بخش ہے ۔

لیکن اس بار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ مشہور ادیبہ محترمہ نین تارا سہگل کو افتتاح کے لئے دیا گیا دعوت نامہ منتظمین نے اچانک منسوخ کردیا اور تنازعات کی روایت کو برقرار رکھا ۔

سہگل کا دعوت نامہ منسوخ کئے جانے کے بعد مراٹھی ادب کی دنیا میں پیدا ہوئی بے چینی سے آپ بھی بخوبی واقف ہونگی ۔ دعوت نامہ کی اس منسوخی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ سہگل چونکہ انگریزی زبان کی ادیبہ ہیں اور ہجومی مزاج کے کچھ حاملین نے سمیلن میں ان کی شرکت پر احتجاج کی دھمکی دی تھی ، اس لئے ان کی شرکت کا دعوت نامہ رد کیا گیا ۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ سہگل ایک حساس ادیبہ ہیں اور وہ سمیلن میں ملک میں جاری عدم برداشت وعدم رواداری کے خلاف بات کرنے والی تھیں ۔ اب سملین کی صدر کی حیثیت سے آپ کا رول اہمیت کی حامل ہے ۔

آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر بغیر کسی مقابلے کے آپ کو ساہتیہ سمیلن کی صدارت اور احترام مل ہی چکا ہے ۔ اب سمیلن کے اسٹیج سے صدارتی تقریر کرنا محض ایک رسمی امر ہے ۔ جسٹس مہادیو گووند راناڈے سے مراٹھی ادب کا علم حاصل کرنے والے مجھ جیسوں کو اس رسم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے ۔ لیکن موجودہ صورت حال میں اگر آپ نے سمیلن میں حاضر رہ کر صدارتی تقریر کی تو یہ سمیلن کے مفلوج منتظمین کی طرح آپ کے بھی عدم برداشت کے حاملین و ہجومیوں سے خوف زدہ ہونے جیسا ہوگا اور بھارت میں رواداری کے بانی عظیم شخصیت جسٹس راناڈے کے نظریات سے یہ بغاوت جیسا ہوگا ۔ آپ کی صوابدید پر مجھے اعتماد ہے ۔

آپ کا

ڈاکٹر بھالچندر منگیکر

Leave A Reply

Your email address will not be published.