صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’حالات حاضرہ اور ہم‘ پروگرام میں مسلمانوں کو صبرو استقامت کی تلقین

جو مصائب آتے ہیں ہم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، ہمیں ایک امت بن کر اس کا سامنا کرنا ہوگا

842

ممبئی : ہندوستان کے موجودہ حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے مسلمانوں کی مختلف تحریکی تنظیمیں میدان عمل میں آکر انہیں انتشار سے بچانے کی حتی المقدر کوششیں کررہی ہیں اسی کوشش میں وحدت اسلامی ہند بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں افراتفری کو دور کرکے انہیں موجودہ اور آئندہ حالات سے نبرد آزما ہونے کے قابل بنا سکے ۔ ممبئی کے صابو صدیق مسافر خانہ میں وحدت اسلامی ہند نے مسلمانوں کو ’حالات حاضرہ اور ہم‘ کے تحت یہی پیغام دیا کہ وہ صبر استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ یہ تو زمانے کے حالات ہیں آتے جاتے رہیں گے لیکن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم کسی بھی حال میں اپنے ایمان و عقیدے سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔ بابری مسجد کے تعلق سے کہا گیا کہ وہ مسجد ہے اور مسجد ہی رہے گی ۔ تاریخ کو افسانہ اور افسانہ کو تاریخ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نشست میں تقلین کی گئی کہ ’جو مصائب آتے ہیں ہم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، ہمیں ایک امت بن کر اس کا سامنا کرنا ہوگا‘ ۔

امیر وحدت اسلامی ہند مولانا عطا الرحمن وجدی کی ممبئی آمد کے موقع پر صابو صدیق مسافر خانہ میں مذکورہ نشست معززین شہر کے ساتھ رکھی گئی ۔ نشست کا آغاز حافظ رضوان کی تلاوت قرآن اور اسکے ترجمہ سے ہوا ۔ افتتاحی گفتگو وحدت کے مغربی مہاراشٹر ریجن کےسالم صدیقی کو کرنی تھی لیکن کسی سبب سے وہ نہیں آسکے ، ان کی جگہ پر عادل کھوت نے افتتاحی گفتگو میں کہا کہ وحدت اسلامی کا یہ قافلہ جو رواں دواں ہے وہ اس پیغام کے ساتھ چلا ہے کہ ’تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس جو نظری فکری و عملی پیمانے ہیں وہ آفاقی سطح کے ہیں کہ چنانچہ عقیدہ کی اصلاح فکری علاج اور نظریاتی اصلاح وقت اور حالات کی ضرورت ہے ۔ ایمان استقامت اور متحدہ سنگھرش کے ذریعہ اس پیغام کو سمجھایا گیا ہے ۔ وحدت اسلامی میں کوئی شریک ہو یہ ضروری نہیں  بلکہ ایسی امت تشکیل دی جائے جو انسانوں کی بقا و رہبری میں اپنا کردار ادا کرے ۔

امیر وحدت اسلامی مولانا عطا الرحمن وجدی نے اپنے صدارت اور مرکزی گفتگومیں فرمایا کہ نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہیں کرنا چاہئے ۔ یہی ہماری تحریک کا مختصر اور جامع تعارف ہے ۔ ہمیں جتنا ایک دوسرے کے قریب ہونا چاہئے تھا نہیں ہو سکے ، جانور بھی مصیبتوں میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور وہ مل کر چیخ و پکار کرتے ہیں مگر ہم مصیبتوں اور آلام میں بھی ایک ساتھ نہیں آتے تو پھر کب ہم اجتماعی طور پر سامنے آنے کی کوشش کریں گے ۔ امیر وحدت اسلامی ہند نے بابری مسجد کے مسئلہ پر کہا کہ جو کام پہلے ہونا چاہئے تھا وہ موخر ہو گیا ۔ اب لکیر پیٹنے کا کام کیا جارہاہے ۔ مولاناوجدی نے فرمایا ہندوستان کو کسی خاص قوم سے منسوب نہیں کیا جاسکتا جتنا یہ ملک دوسروں کا ہے اس سے زیادہ ہمارا ہے ۔ ہمیں  اپنے حقوق کے سلسلے میں کسی کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں خود شناسی سے کام لیتے ہوئے اپنی حیثیت کو سمجھنا چاہئے ۔ مختصر نشست میں ممبئی اور مضافات کے مختلف مکاتب فکر کے علما ومعززین نے شرکت کی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.