صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

شہر میں انسداد پلاسٹک قانون پر عمل آوری کی آڑ میں بدعنوانی 

پبلک فرینڈس دستوں کے ملازمین تقرر میں دھاندلیوں اور گھپلوں کا الزام،اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری نے میونسپل کمشنر سے طلب کی تفصیلات

473

اورنگ آباد:(جمیل شیخ)حکومت لوگوں کی بھلائی اور ان کی فلاح وبہبود کے لئے اسکیمات جاری کرتی ہیں لیکن جب ان اسکیمات پر عمل آوری کی ذمہ داری میونسپل کارپوریشن پر آتی ہے تویہاں اس اسکیم کا نہ صرف ستیاناس کردیا جاتا ہے بلکہ اس اسکیم پر عمل آوری کی آڑ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور گھپلے کئے جاتے ہیں ۔ایسی ہی ایک اسکیم حکومت نے پلاسٹک بندی سے متعلق جاری کی ہے۔ اور پلاسٹک بندی پر سختی سے عمل کرنے کے لئے چند رہنما اصول ترتیب دئے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن نے ان اصولوں پر عمل کرنے سے پہلے گھوٹالہ کردیا ہے۔اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کے اندر اور باہر یہ چرچہ ہے کہ اس معاملے میں برسرکار جماعت کے ذمہ داران بالخصوص میئر اور اعلی افسران نے ملی بھگت سے لاکھوں کا گھپلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پلاسٹک بندی پر پابندی اور اس پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت ریاستی حکومت نے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کو دی ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ناکارہ اورنالائق ملازمین اس اسکیم پرسختی سے عمل کروانا تو دور پلاسٹک بندی قانون پر عمل کروانے میں ناکام ثابت ہوئے۔ اس کے لئے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے پبلک فرینڈ اسکواڈ قائم کئے۔ یہ اسکواڈ کارپوریشن کے تمام ۹ زون کے تحت تشکیل دئے گئے۔ ان اسکواڈ میں سابق فوجیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اسکواڈ پر نگرانی کی ذمہ داری زون آفیسر کو دی گئی ہے۔ اسکواڈ کا کام وارڈ میں گلی گلی گھوم کر پلاسٹک کیری بیگ کے استعمال پر روک لگانا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس اسکواڈ کو سزا کے طور پرپلاسٹک استعمال کرنے کے خلاف کاروائی کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے یہ اسکواڈ ۱۱ ستمبر ۲۰۱۸ کو منعقدہ جنرل میٹنگ کی تجویز ۶۷۷ کے تحت تشکیل دئے گئے۔ اس تجویز کی منظوری کے بعد ایک سلیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی جسے سابق فوجیوں کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ہر اسکواڈ میں ۹ سابق فوجیوں کو شامل کیا گیا ہے اس طرح نو اسکواڈ کے لئے ۸۱ سابق فوجیوں کو ۱۵۰۰۰ روپئے ماہانہ معاوضے پر رکھا گیا ہے۔ کارپوریشن سے جاری حکم کے مطابق ان فوجیو ں کا تقررخالص طور پر عارضی ہے۔لیکن چونکہ میونسپل کارپوریشن کو اس اسکیم کی آڑ میں لوٹ کھسوٹ کرنا ہے تو اس نے ان ملازمین کو معاوضہ میں سے پی ایف وضع کرنے کی سہولت دے رکھی ہے ۔اسی طرح ان فوجیوں کی صحت کا بھی خیال رکھا گیا ہے ۔ انہیں ای ایس آئی کی سہولت بھی دے رکھی ہے تاکہ وہ وہاں سے وہ بہتر طبی سہولت حاصل کرسکے۔یہ سہولت تو میونسپل کارپوریشن کے بیشتر مستقل ملازمین کو بھی حاصل نہیں ہے۔ جبکہ میونسپل کارپوریشن میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو یہ سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان سابق فوجیوں کے لئے دوجوڑی کپڑے دینے کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے جس کے لئے چھ لاکھ اڑتالیس ہزار روپئے مختص کئے جاچکے ہیں۔ہر خصوصی دستے کے ساتھ ایک کیمرہ مین دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے اس کیمرہ مین کو یومیہ ایک ہزار روپئے طئے کئے گئے ہیں۔ یعنی دو لاکھ ستر ہزار روپئے سالانہ کیمرہ مین پر استعمال کئے گئے ہیں۔میونسپل کارپوریشن انتظامیہ میں کئی غیر ضروری ملازمین وافسران کو گاڑیاں دی گئی ہیں جن پر سالانہ لاکھوں روپیہ خرچ ہورہے ہیں ان گاڑیوں کا استعمال کرنے کے بجائے نو خصوصی دستوں کے لئے نو گاڑیاں کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہر گاڑی کو ماہانہ ۳۳ ہزار ۸۱۰ روپئے کرایہ ادا کیا جائے گا۔میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان نو خصوصی دستوں پر سالانہ کل خرچ دو کروڑ اکیس لاکھ ایکیس ہزار چار سو اسی روپئے خرچ ہونگے ۔ اس خرچ کے اوپر میونسپل کارپوریشن کے اندر اور باہر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا تو کہنا یہ ہے کہ یہ دستے کارپوریشن حدود میں پلاسٹک بندی پر قابو پانے کے لئے نہیں بلکہ میونسپل کارپوریشن کی تجوری کو چاٹنے کے لئے تشکیل دئے گئے ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جب دو کروڑ اکیس لاکھ روپئے ان دستوں پر خرچ ہونگے تو یہ رقم آئے گی کہاں سے خصوصی دستوں کی تشکیل ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ کارپوریشن میں یہ بتانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے کہ ان دستوں نے اب تک پلاسٹک بندی قانون کے تحت کتنے لوگوں کے خلاف کاروائی کی اور ان سے کتنا جرمانہ وصول کیا۔سوال ۸۱ سابق فوجیو ں کے تقرر پر بھی اٹھ رہے ہیں کہا جارہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے پبلک فرینڈ اسکواڈ میں شامل کرنے کے لئے جن فوجیوں کا تقرر کیا ہے۔ کیا ان کے نام سینک کلیان بورڈ سے منگوائے گئے تھے۔ یا سینک کلیان بورڈ نے ان کے ناموں کی سفارش کی ہے۔ سابق فوجیوں کے تقرر کے لئے میونسپل کارپوریشن نے نہ تو کوئی اصول ترتیب دئے تھے نہ ہی ضوابط۔یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ نو اسکواڈ کے لئے نو گاڑیاں کرائیے پر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو کیا م یونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے کرایہ پر گاڑیاں لگانے کے لئے ٹینڈر طلب کیا تھا۔ سوال اٹھانے والوں کا دعویٰ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کا ایک بڑا گھوٹالہ ہے اس بڑے گھوٹالہ میں میونسپل کارپوریشن عہدیداران وافسران شامل ہیں ۔ایک سابق کارپوریٹر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نمائندہ کو بتایا کہ حکومت مہاراشٹر کے شہری ترقیات محکمہ نے ۱۰ نومبر ۲۰۰۳ کو اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کے نام ایک سرکولر جاری کیا ہے۔ جس میں حکومت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کارپوریشن انتظامیہ کو پابند کیا کہ وہ حکومت کی منظوری کے بنایومیہ اجرت پر یا فکس معاوضے پر یا اور کسی طریقے سے ملازمین کا ہر گز ہرگز تقرر نہ کرے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے ۸۱ سابق فوجیوں کا تقرر کیا ہے کیا اس کے لئے حکومت کے لئے منظوری حاصل کی گئی تھی اگر نہیں تو سابق فوجیوں کے تقرر میں میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے محکمہ شہری ترقیات کے حکم کو یکسر نظر انداز کیا ہے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کے اندر یہ چرچہ زور سے جاری ہے کہ جن ۸۱ لوگوں کو میونسپل کارپوریشن نے سابق فوجی بتاکر تقرر کیا ہے ان میں سے بیشتر کا تعلق کبھی فوج سے نہیں رہا اور یہ میونسپل عہدیداران کے قریبی رشتہ دار ہیں جن کی جانچ کی جانی چاہئے ۔کارپوریشن میں حزب اختلاف ایم آئی ایم نے اس پورے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات شروع کردی ہے۔ میونسپل اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری نے کمشنر نپون ونائک کے نام ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے پبلک فرینڈ اسکواڈ کی تشکیل ا ور ۸۱ سابق فوجیوں کے تقرر سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔انہو ں نے اپنے مکتوب میں کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اٹھائے گئے سوالات کی تفصیلات معہ دستاویزات فوراً دیں ورنہ وہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع ہوں گے اور اس کے بعد کی تمام تر ذمہ داری میونسپل کمشنر اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔اتحاد گروپ قائد ناصر صدیقی نے اس پورے معاملے کو ایک بڑا گھوٹالہ بتایا انہو ں نے بتایا کہ جو اسکواڈ میونسپل کارپوریشن نے تشکیل دیا ہے ان میں بیشتر ملازمین شرابی ہیں اور نشہ کی حالت میں وہ محلہ محلہ گھوم رہے ہیں۔ انتظامیہ کو ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ کاروباریوں نے اس اسکواڈ سے متعلق شکایت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی کے مقصد سے دوکان پر آتے تو ہیں لیکن ان کی جیب گرم کردی جائے تو یہ کاروائی کرے بناء واپس لوٹ جاتے ہیں اور اگر ان کی خواہش کو پورا نہ کیا گیا تو یہ طرح طرح کے ہتھکنڈے کرکے کاروائی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس کے باعث ناخوشگوار واقعات بھی پیش آنے کا خطرہ ہے۔ ایسے میں میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو اس اسکواڈ کے ساتھ اعلی افسران کو بھی شامل رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ اسکواڈ زون آفیسر کے ساتھ مل کر کاروباریوں کے ساتھ زیادتی اور من مانی نہ کرسکے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.