صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کانگریس کے تعلقہ عہدیدار اور کارکنان کی مجلس اتحاد المسلمین میں شمولیت

انتخاب ۹۱۰۲ میں ایک رکن میں اضافہ اور مہاراشٹر میں پذیرائی سے مجلس کے لیڈروں اور کیڈروں کے حوصلے بلند

502

ممبئی : ۹۱۰۲ کے الیکشن میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے بھلے ہی پارلیمنٹ میں صرف ایک سیٹ میں اضافہ کیا ہولیکن پرکاش امبیڈکر کے ساتھ بھارپ بہوجن میں شامل ہو کر مہاراشٹر میں تقریباً چالیس لاکھ ووٹوں کے حصول سے مجلس کے لیڈروں اور اس کے کیڈروں کے کے حوصلے ضرور بلند کردیئے ہیں۔ اس کے بلند ہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ عام طور پر مسلمانوں نے مہاراشٹر میں پذیرائی بخشی ہے۔ پہلے کے مقابلہ میں مجلس کو اب زیادہ مقبولیت مل رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے تعلقہ اور مقامی سطح کے عہدیدار اور کارکنان مجلس کا رخ کرنے لگے ہیں۔خصوصی طور سے کانگریس کے مسلم عہدیدار اور کارکنان کی نظر میں بھی اب مجلس اتحاد المسلمین ہی وہ پارٹی ہے جو مسلمانوں کے مسائل کے تئیں سنجیدہ اور مخلص ہے۔

عبد الرحمن شاکر پٹنی جو اس وقت مجلس اتحاد المسلمین ممبئی کے صدر ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے محسوس کرلیا کہ کانگریس ان کی نمائندگی نہیں کرتی۔اب نیا دور ہے جہاں چہرے نہیں کام کی بنیاد پر عوام میں پذیرائی ملے گی۔ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کا نام اب ختم ہے۔ کانگریس سے مسلمان دور ہو رہے ہیں۔ عوام کو بھی یہ سمجھنا ہے کہ کون ان کے مسائل کو بہتر ڈھنگ سے قومی سطح پر اٹھاتا ہے اور کون ہے جو مسلمانوں کے مسائل سے باخبر ہی نہیں اس کے حل کیلئے مخلص بھی ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین ممبئی کے دفتر میں ایک سادہ سی تقریب میں دھاراوی تعلقہ کانگریس کے کئی عہدیدار اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین میں شامل ہو گئے۔ مجلس میں ان کا استقبال مجلس اتحاد المسلمین ممبئی کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی کیا۔ کانگریس کے ضلع یوتھ صدر سید منور اور جعفر شیخ ضلع یوتھ کانگریس جنرل سکریٹری، متین شیخ کانگریس یوتھ تعلقہ صدر اور مستقیم سیٹھ نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کل ہند مجلس اتحادلمسلمین میں شمولیت اختیار کی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس سے مسلمانوں کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور اب مسلم لیڈر شپ کے عروج کا دور شروع ہورہا ہے۔مجلس ممبئی کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی بھی کہتے ہیں کہ عوام کی امیدیں کانگریس سے ٹوٹ چکی ہیں اور ستر برسوں کی سیاسی پسماندگی کے بعد اب مسلمانوں میں یہ شعور بیدار ہو رہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی اور اپنی قیادت کو سیاسی بساط پر مضبوط کریں۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مسلمانوں کی نئی نسل جو پہلے سے زیادہ باشعور اور دنیا کے بدلتے منظر نامہ میں اپنی قوم کی حالت سے پریشان اور ہراساں تھا اسے قومی سطح پر ایسی پارٹی اور ایسے قائد نظر آنے لگے ہیں جو ان کی توقعات کو پوری کرسکیں اور اس میں مسلم نوجوانوں کو کے سامنے سب پہلے جس شخصیت کی شکل سامنے آتی ہے وہ کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی ہیں۔ شاکر پٹنی کہتے ہیں کہ کانگریس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔جو لوگ مسلمانوں کے مسائل کو سمجھیں گے وہی اب مسلمانوں کی سیاسی پارٹی مانی جائے گی۔ جن لوگوں نے کانگریس یا دیگر سیاسی جماعتوں سے علیحدہ ہوکر مجلس میں شامل ہوئے ہیں وہ اپنا مقصد قوم کی خدمت اور اس کے مسائل کا نپٹارا بتاتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.