صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

وقف املاک اور گؤچر کی زمین سے لفظ” سرکاری "منسوخ کیا جاۓ ۔ رئیس خان پٹھان 

1,821

 

رئیس خان پٹھان 

ممبئی: ملک میں چار لاکھ سے زائد وقف کی املاک پر سرکاری وغیرسرکاری ناجائز قبضہ بدعنوانی بدنظمی اور سابقہ حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے 2005 میں سچر کمیٹی کی شفارشات پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی وقف املاک و گؤچر کی زمینوں سے ماخوز لفظ” سرکاری” ہٹایا گیا جب تک  وقف املاک سے سرکار کا تخلص نہیں ہٹایا جاۓ گا تب تک وقف املاک مسلمانوں کو ملنا ناممکن ہے بلکہ گؤچر کی زمینیں بھی آزاد نہیں ہوسکتی؟

اس بات کا اظہار خیال سینٹرل وقف کونسل کے ممبر رئیس خان پٹھان نے کیا
انھوں نے کہا کہ ملک کے 28 ریاستوں میں سے  اترپردیش میں واقع ایک لاکھ تیئس ہزار ایک سوپندرہ سننی وقف ملکیت اور شعیہ کی دس ہزار پانچ سو عدد ملکیت موجود ہیں ان ملکیت پر سرکاری دفتر موجود ہیں اور وہاں پر سرکار کا نام چل رہا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جس زمین پر سرکاری دفاتر موجود ہیں وہاں باقاعدہ وقف بورڈ کی تختی ہونی چاہیئے لیکن ایسا نظر نہیں آتا ہے علاوه اس ملک کے 70 فی صد دیہی علاقوں کی گرام پنچایتوں میں گؤچر کی زمین اور چھوٹے تالاب جو جانوروں کو پینے کے لیۓ پانی کا انتظام تھا ایسی زمینوں پر قبضہ کرلیا گیا
رئیس خان پٹھان نے بتایا کہ کرناٹک میں جہاں مسلم اکثریت موجود ہیں وہیں 30ہزار سے زائد وقف کی املاک بھی ہیں اور ان ملکیت کے ہونے کے باوجود بھی کرناٹک کے مسلمانوں کی بدترین حالات ہیں وہاں پر آج بھی مزدور کی یومیہ 200روپیہ سے زیادہ مزدوری نہیں ہے اگر حکومتیں سچر کی شفارشات پرعمل کرتی تو ان کی پسماندگی دور ہوسکتی تھیں
مہاراشٹرا کا ذکر کرتے ہوۓ رئیس خان نے بتایا کہ ریاست میں آٹھ ہزار سے زائد ملکیت موجود ہے قبرستانوں درگاہوں اور خانقاہوں پر زیادہ تر متولی اور سرکار کا قبضہ ہے ممبئی میں واقع ناریل واڑی قبرستان کا ذکر کرتے ہوۓ مزید کہا کہ  اس قبرستان میں 70 مکانات موجود ہیں جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انھوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوۓ کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ قبرستان سے متصل ٹاٹا کمپنی کو دی ہوئی سرکاری  زمین کی لیز کی معیاد ختم ہوچکی ہے اسی زمین پر قبرستان میں مقیم 70 خاندانوں کی بازآبادکاری کی جاۓ تاکہ قبرستان وسیع ہوجاۓ رئیس خان پٹھان نے بالخصوص ممبئی سمیت تمام شہروں کے قبرستانوں میں پکی قبروں کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ ممبئی شہر میں جہاں قبرستانوں کی کمی ہے وہیں قبرستانوں میں پکے قبروں کی زیادہ تعداد موجود ہیں پکی قبروں کے لیۓ لوگ کیرایہ دیتے ہیں ایسی صورت میں اگر کسی غریب کی تدفين ہو اور اسے تدفین کے لیۓ جگہ نہ ملے حتیٰ کے دوسرے قبرستان میں لے جاناہے اور اس غریب کے پاس کیرایہ نہیں ہے تو کیا کرے ؟رئیس خان نے زور دیتے ہوۓ کہا کہ ممبئی سمیت ملک کے تمام شہروں کے قبرستانوں میں ناجائز قبضہ ہٹایا جاۓ اس ضمن میں کہا کہ سینٹرل  وقف کونسل کے  صدر مختار عباس نقوی صاحب سے مطالبہ کیا جاۓ گا کہ جلد از جلد ایک میٹنگ بلا کر قبرستانوں میں ناجائز قبضہ کے خلاف نوٹیفکیشن جاری کریں تاکہ قبضہ ختم ہوں اور مسلمانوں کو تدفین میں آسانی ہو

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.