صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’’کلب ہائوس‘‘ فحش چیٹ معاملے میں ہریانہ سے تین افراد کی گرفتاری

72,055

ممبئی : کلب ہائوس ایپ پر فحش چیٹ معاملہ میں تین لوگوں کو گرفتاری کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ممبئی پولس کے سائبر سیل کے ذریعہ تینوں ملزمین کی گرفتاری ہریانہ سے کی گئی ہے ۔ان پر الزام ہے کہ اس سنگین معاملہ میں مسلم خواتین کے خلاف فحش گوئی کی گئی تھی ۔ ہال ہی میں بُلی بائی اور سُلی ڈیلز کے بعد اس گروپ کا نام سامنے آنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے جسے کلب ہائوس کے نام سے جانا جاتا تھا ۔

اس گروپ کے لوگ نہ صرف خواتین کیلئے فحش الفاظ کا استعمال کرتے تھے بلکہ اس گروپ میں خواتین کے ایک ایک عضو کی بھی بولی لگائی جاتی تھی ۔ اس کی معلومات تب ہوئی جب پونے کی ایک خاتون نے اس معاملہ میں شکایت ممبئی سائبر سیل میں نامعلوم افراد کیخلاف کی ۔ سائبر پولس نے آئی پی سی کے دفعات ۱۵۳اے ، ۲۹۵اے ، ۳۵۴اے، ۳۵۴ڈی اور آئی ٹی کے دفعہ ۶۷ کے تحت معاملہ درج کر تفتیش کے بعد اس گھنائونے جرائم کا انکشاف ہوا۔

اس معاملہ میں شیو سینا رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ملزمین کی گرفتاریوں پر ممبئی پولس کی تعریف کی ۔ پرینکا نے ٹوئٹ میں لکھا ’’میں ممبئی پولس کو مبارکباد دیتی ہوں کہ انہوں نے کلب ہائوس کی چیٹ پر بھی شکنجہ کسا ہے اور کچھ گرفتاریاں بھی کی ہیں ، نفرت کو نا کہیں‘‘۔

مذکورہ گرفتاری سے قبل دہلی پولس نے کلب ہائوس ایپ و سرچ انجن گوگل کو خط لکھ کر وائرل کئے گئے اس بدنام زمانہ آڈیو گروپ کے منتظمین کی تفصیلات مانگی تھی۔ اس گورپ پر مسلم، خواتین کیخلاف بیہودہ ریمارک پاس کئے گئے تھے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پولس نے اس گروپ کے کچھ ارکان کو پہچان لیا تھا ۔ گروپ میں دونوں فرقوں کی خواتین و مرد شامل بتائے گئے ہیں ۔ اس کے بعد بدھ کے روز ممبئی کی ایک تنظیم نے پولس میں شکایت کی تھی کہ کلب ہائوس ایپ پر مسلم خواتین کیخلاف فحش ریمارک پاس کئے جارہے ہیں ۔ شکایت میں مقدمہ درج کرنے و اس گروپ کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

فی الحال اب اس پورے معاملہ میں تعزیرات ہند کے دفعات ۱۵۳اے، ۲۹۵اے اور ۳۵۴ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ اس کے مطابق کسی مذہب ، نسل ، جائے پیدائش ، زبان کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان منافرت ، مذہبی جذبات مجروح کرنے  کے مقصد سے اس عقیدہ کے لوگوں کے مذہب کی توہین کرنا ، جنسی ہراسانی جیسے جرائم شامل ہیں ۔

سائبر سیل کے ذریعہ معاملہ میں گرفتار کئے گئے ملزمین کا نام کے ایل اے ایکس ڈی عرف آکاش ہے جو کہ گروپ کا ایک موڈریٹر اور ترجمان بتایا جارہا ہے ۔ خبر کے مطابق اس کے دو گروپ تھے ۔ ملزم آکاش کی عمر ۱۹ سال بتائی گئی ہے ، جبکہ اس معاملہ میں گرفتار دوسرے ملزمین کا نام جیشنو ککر ہے جس کی عمر ۲۱ سال ہے اور یہ بی کام کا طالبعلم ہے ۔ تیسرے گرفتار ملزم کا نام یش کراشر ہے جس کی عمر ۲۲ سال ہے اور یہ قانون کا طالب علم ہے ، اسے فرید آباد سے گرفتار کیا گیا ہے ۔

سائبر سیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس گروپ میں ہورہی گفتگو میں کئی خواتین بھی شامل تھیں ، اس میں جو لوگ گفتگو کررہے ہیں ان کا آڈیو سن کر تکنیکی تفتیش کے بعد ان کی پہچان کر لی گئی ہے ۔

ممبئی پولس آڈیو چیٹ گروپ کے ارکان کی پہچان کرنے اور انہیں تلاشنے کی بھی کوشش کررہی ہے ۔ پولس کے مطابق ممبئی کرائم برانچ کے سائبر پولس کے ذریعہ جمعرات کی شب تینوں ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.