صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

علمائے دین کو سدھارو، قوم خود بخود سدھر جائیگی

214,737

ممتازمیر

۱۶۔اپریل کی صبح واٹس ایپ پر ایک ویڈیو دیکھنے کو ملا ۔ وہ ویڈیو نہیں بلکہ ایک نوجوان فہد اور ABPنیوز کی ٹی وی اینکر روبیکا لیاقت کی گفتگو کی آڈیو ہے قریب سات منٹ کی گفتگو ہے ۔ روبیکا لیاقت آج مسلمانوں کے درمیان بہت بڑی ویلن ہے مگر اس نے گفتگو بڑے طریقے سلیقے سے کی ہے ۔ فہد صاحب فی الوقت Frustratedمسلم نوجوانوں کے نمائندہ ہیں۔وہ روبیکا سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ اپنی جرنلزم کے ذریعے زہر کیوں پھیلا رہی ہیں،گند کیوں پھیلارہی ہیں؟اب آپ کی ساری ہیکڑی نکل گئی ہے کیونکہ آپ پر کیس درج ہو گیا ہے،خدا کے لئے یہ سب بند کیجئے آپ ۔ معلوم نہیں آپ خدا کو مانتی بھی ہیں یا نہیں،یا جسے بھی آپ مانتی ہوں ۔اس کے لئےآپ کے پاس پاور ہے ۔حکومت آپ کے ساتھ ہے۔وہ ’بیچاری‘ جواب دیتی ہیں کہ میرے پاس کوئی پاور نہیں ہے ۔ میں تو روزی روٹی کمانے کے لئے نوکری کر رہی ہوں۔اب سب سے زیادہ حیرت انگیز بات بھی سن لیجئے۔ عالی جناب فہد صاحب مد ظلہ سعودی عرب میں نوکری کرتے ہیں۔ہے نا کتنی دلچسپ بات!پہلے تو ہم یہی سمجھے تھے کہ یہ ایک جذباتی مسلم نوجوان کافرسٹریشن ہے ۔

مگر جب سعودی عرب کا نام آیاتو ہم سمجھے کہ جناب کا ٹاپ فلور بالکل خالی ہے ۔یا پھر جناب اول درجے کے منافق ہیںورنہ یہ ویڈیو وائرل کرنے کی حماقت ہرگز ہرگز نہ کرتے۔ارے ، سعودی عرب ہی تو وہ ملک ہے جو ہندوستانی ارباب اقتدار کو وہ اخلاقی جراء ت عطا کر رہا ہے جس سے ہمت پاکر مودی اور اس کے تمام چیلے چانٹے چاہے وہ سیاسی ہوں یا صحافتی ، مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ تو جناب فہد صاحب ،اب دیکھا جائے تو آپ روبیکا لیاقت کے بھی باپ ہیں ۔ اگر خدا کو مانتے تو (زبانی نہیں عملی) ایک آدھ فون ایم بی ایس کو نہ سہی اس کے باپ شاہ سلمان کو کردیتے ۔ اس کو بھی کھری کھری سنا دیتے اور یہ سب کچھ نہ کرپاتے تو اس کی نوکری کو لات مار کرانڈیا چلے آتے۔ اب یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس ویڈیو یا آڈیو پر ہم نے کیا کمنٹ کیا ۔ہم نے لکھا ۔بھائی جب آپ کے مہارتھی علمائے کرام بک جاتے ہیں تو صنف نازک سے شکایت کیا۔آپ کے علماء کے پیچھے قوم کھڑی ہے ۔ وہ آپ سے کما رہے ہیں ، پیٹ بھر رہے ہیں ۔ یہ نہ آپ سے پیسے لے رہی ہے نہ آپ اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ہمت ہے تو انھیں پکڑیئے جو دین کے نام پر آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

اسلام میں دین اوردنیا کی دوئی کا تصور نہیں ۔اور نہ دینی و دنیاوی تعلیم کے جدا ہونے کا کوئی تصور ہے ۔ جب خلفائے راشدین کی خلافت کا دور ختم ہوا تو اور خاندانی بادشاہتوں کو دین کے استناد کی ضرورت پڑی توبادشاہوں نے اپنی ضروریات کے تحت ایک طبقہء علما وجود میں لایا۔اب مسلمان تو پھلتے پھولتے رہے مگر دین ضعف کا شکار ہونا شروع ہوا ۔اس کے باوجود عمر بن عبدالعزیزؒ جیسے لوگ بھی پیدا ہوتے رہے مگر انھیں زہر بھی دیا جاتا رہا۔علماء قاتلوں کے سامنے سر جھکاتے رہے۔اس سب کے باوجود ایسے علما بھی موجود رہے جنھوں نے وقتاًفوقتاً دین کو اپنے خون سے سینچامگر اکثریت نظریہء ضرورت پر عمل کرنے والی رہی۔یہ بھی درست کہ چاروں فقہ بادشاہوں کے سائے سے دور رہ کر وجود میں آئے۔ مگر معلوم نہیں کیسے انھیں حرف آخر بنا دیا گیا حالانکہ وہ اپنے وقت کے مسائل کے جوابات تھے ۔

شاید قرآن حدیث کو مہجور بنانا تھا ۔اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔کسی کی عقل میں یہ بات نہیں آئی کہ انسانی عقل ،انسانی الفاظ خدائی عقل کا مقابلہ کر سکتے ہیں نہ الفاظ کا۔انسانی الفاظ قرآنی الفاظ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ہمارے لئے اس کا تصور بھی محال ہے ۔ حیرت ہوتی ہے کہ وصال نبویﷺ کے ۵؍۶ صدیوں کے بعد مسلمانوں میں آپس میں مسالک کی بنیاد پر جنگیں ہوئیں۔اب پچھلی چند صدیوں سے تو ہمارے مسالک تکفیری کارخانے بنے ہوئے ہیں ۔اور ہر سو پچاس سال میں ایک نہ ایک نیا مسلک یا فرقہ وجود میں آرہا ہے ۔یہاں تک کہ آج کل وطن عزیز میں ایک مہدی بھی وجود میں آیا ہوا ہے ۔کم عقلی کی انتہا یہ ہے کہ واضح احادیث کی موجودگی میں بھی اسے معتقدین ملے ہوئے ہیں ۔ ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے پتھروں کو پوجنے والوں کی ذریت میں اگر آج بھی کوئی نبوت کا دعویٰ کردے تو اسے بھی حواری میسر آجائیں گے ۔

پھر ہمارے علماء کا کاروبار لوگوں کو مسلکوں جماعتوں ،حلقوں میں بانٹنے پر بھی کیوں نہ چلے؟ ہم لڑکپن سے سنتے آرہے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا ہما شما کی بس کی بات نہیں۔سوچئے کہ قرآنی ہدایات کے خلاف یہ بات عوام کے دماغوں میں انڈیلا کس نے ؟اور ہماری عوام نے اس پر بھروسہ کیا کیسے؟ اس کی شرعی سند کا مطالبہ کیا کیوں نہیں؟چلئے ۔ ہم علماء کی اس دروغ گوئی کو بھی برداشت کر لیتے۔مگر نالائقوں نے صرف نماز روزہ حج و زکوٰۃکو ہی دینی کاموں کا نیکیوں کا درجہ دیا ۔ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے عوام کو بتایا کہ صرف مسجد و مدرسہ کے لئے چندہ ہی ثواب دارین دلا سکتا ہے ۔ تعلیم کا غلغلہ بلند ہوا تو سکول کالج بنانے کو بھی بادل نخواستہ نیک کام میں شمار کر لیا ۔ یہ کیسے عقل سے پیدل لوگ تھے ،بلکہ ہیں کہ آج بھی ذرائع ابلاغ کھڑا کرنے کو نیک کاموں میں شامل نہیں کرتے ۔ پھر میڈیا ان کا وستر ہرن نہ کرے تو کیا کرے ۔ کیا ذرائع ابلاغ سے دفاع دین اور تبلیغ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا ؟کیا اسے نیک اور شرعی امور میں شامل نہیں کیا جائے گا؟

ہمارا سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا فہد نامی نوجوان اور اس کی قبیل کے لوگ اس تعلق سے اپنے علماء کرام سے سوال کیوں نہیں پوچھتے ۔ جس طرح روبیکا لیاقت کا فون نمبر حاصل کر کے اسے غیر ضروری طور پر سخت سست کہا گیا ،ضروری تھا مدنی چچا بھتیجوں اور دیوبند کے مولانا ابوالقاسم نعمانی مدظلہ سے بھی سوال جواب کئے جاتے ۔ چند ماہ پہلے ایک آڈیو مولانا گلزار اعظمی اور کسی ندوی نوجوان کی ٹیلیفونک گفتگو کا آیا تھا ندوی نوجوان نے مولانا گلزار کی بولتی بند کردی تھی ۔مولانا گلزار آخر آخر میں ندوی نوجوان کے ہر سوال کا جواب ۔ میں نہیں جانتا ، میں نہیں جانتا دے رہے تھے جو سراسر جھوٹ تھا ۔یہی حال مولانا ابوالقاسم نعمانی صاحب کا بھی تھا ۔بڑی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ایک صد فی صد دنیا دار عورت نے تو جس کے تعلق سے فہد کہہ رہا ہے کہ معلوم نہیں آپ خدا کو مانتی ہیں یا نہیں اپنے قول و فعل کو Deny نہیں کیا مگرآپ کے جید عالم دین،دین کے خود ساختہ ٹھیکے دار؟ تو میری قوم کے دردمند نوجوانو ! قوم کے جیالے سپوتو!علمائے دین کو سدھارو، قوم خود بخود سدھر جائیگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7697376137

Leave A Reply

Your email address will not be published.