صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

فرضی سی آئی ڈی اہلکار بتا کر ہفتہ وصولی کر نے والا گروہ گرفتار

بھیونڈی کرائم برانچ کے افسران نے موقع پر رقم وصولتے ہوئے آصف اور عادل نامی دو ملزمین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا

538

بھیونڈی:(عارِف اگاسکر) بھارتی رِیاست مہاراشٹر کےبھیونڈی شہر میں ایک غیر سرکاری تنظیم سے منسلک دو افراد نےخود کو سی آئی ڈی ، بی ٹیم کا اہلکار بتا کرٹیم گھر میں رہائش پذیر ایک شیئر مارکیٹ بروکر سے ۷۰؍ ہزار کی رقم اینٹھ لی ۔ تاہم مذکورہ شخص کو شبہ ہو نے پر اس نے بھیونڈی کرائم برانچ کے افسران سے اس کی شکایت کی جس کے بعد عین موقع پر رقم وصولتے ہوئے کرائم برانچ کے افسران نے آصف اور عادل نامی دو ملزمین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔گرفتار شدہ ملزمین سے سخت تفتیش کر نے پر انھوں نے اس معاملے میں پانچ سے چھ افراد کے شامل ہو نے کا اعتراف کیا۔ جس کے بعد پولیس نےاپنا جال بچھا کر کلام الدین عرف کلام محمد ظہیر مومن اور ظہیر جبار خان نامی مزید دو ملزمین کو بھی گرفتار کر لیا ہےنیز اس معاملے میں ملوث دیگر ملزمین کو شدت سے تلاش کر رہی ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق بھیونڈی کے پاش علاقہ ٹیم گھر میں رہائش پذیرمنوج بارِک نامی شخص شیئر مارکیٹ ٹریڈنگ کا کاروبار کر تا ہے ۔ متذکرہ شخص کو آصف ضیاء الدین خان اور عادِل فاروق انصاری اوراس کے چار افراد پر مشتمل گروہ نے فون کر کے کلیان روڈ پر واقع اتسو ہو ٹل میں طلب کیا۔منوج کے اتسو ہوٹل پہنچنے پر انھوں نے اسے ’کرائم انویسٹی گیشن اینڈ ڈیٹیکشن بیورو اور ہیو من رائٹ اینٹی کرائم اینڈ اینٹی کرپشن آرگنائزیشن ‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کا وزیٹنگ کارڈ دکھا کر کہا کہ وہ سی آئی ڈی ، بی کے پولیس اہلکار ہیں ۔ انہوں نے منوج سے مزید کہا کہ وہ شیئر مارکیٹ میں شہریوں کی رقم کا انویسٹمینٹ کر کے ان سے دھوکہ دہی کر تے ہیں اور فرار ہو جا تے ہیں ۔ اس لیے ان پرفرد جرم عائد کر کےانھیں گرفتار کیا جائے گا۔اگر وہ اس معاملے کو رفع دفع کر نا چاہتے ہیں تو انھیں ۲۰؍ لاکھ روپے ادا کریں ۔ اس سلسلے میں متذکرہ افراد نے غیبی نگر میں واقع آنند ہوٹل میں منوج بارِک سے ۷۰؍ ہزار کی رقم بھی وصول کر لی ۔

بعد ازاں منوج بارِک کو متذکرہ افراد کے بارے میں شبہ ہو نے پر انھوں نے بھیونڈی کرائم برانچ میں متذکرہ افراد کے ناموں کی تفتیش کی ۔ تب یہ انکشاف ہوا کہ متذکرہ افراد نے فرضی سی آئی ڈی افراد بتا کر انھیں لوٹ لیا ہے ۔ جس کے بعد انھوں نے کرائم برانچ کے سنیئرپولیس انسپکٹر شیتل رائوت سے رابطہ قائم کر کے ان سے اپنی روداد بیان کی ۔ شیتل رائوت نے ان کی شکایت کو سُننے کے بعد متذکرہ ملزمین کو پکڑنے کے لیے پولیس سب انسپکٹر سنتوش چو دھری کی قیادت میں معاون پولیس سب انسپکٹر منصوری ، پولیس اہلکار سدھا کر چو دھری ، راجیندر الہاٹ ، انیل پاٹل ، راجیندر سانبرے اورشری دھر ہنڈے کری کی ٹیم بنا ئی ۔

راجنولی ناکہ کے پاس واقع فلورا ہو ٹل میں بقیہ رقم کی ادائیگی کا بہانہ بنا کرآصف ضیاء الدین خان اور عادِل فاروق انصاری کو وہاں طلب کیا۔جیسے ہی دونوں ملزمین بقیہ رقم وصولنے لے لیے وہاں پہنچے وہاں پر منتظر پولیس اہلکاروں نے انھیں دھر دبو چا ۔ پولیس نے ان کے خلاف فرضی پولیس بن کر ہفتہ وصولی کر نے کے الزام میں معاملہ درج کیا ہے ۔ پولیس کے ذریعہ گرفتار شدہ ملزمین سے سخت تفتیش کر نے پر پتہ چلا کہ اس معاملے میں مزید پانچ سے چھ افراد ملوث ہیں ۔ جس کے بعد کرائم برانچ کے اہلکاروں نے کلام الدین عرف کلام محمد ظہیر مومن اور ظہیر جبار خان نامی مزید دو ملزمین کو بھی گرفتار کر لیا ۔ گرفتار شدہ تمام ملزمین کو عدالت میں پیش کر نے پر عدالت نے انھیں ایک دن کے لیے پولیس تحویل میں دے دیا ہے بعدازاں تمام ملزمین کو عدالتی تحویل میں روانہ کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں کرائم برانچ کے سنیئر افسر شیتل رائوت نے بتایا کہ مذکورہ گروہ میں مزید کئی افراد کے ملوث ہو نے کے سبب پولیس اس سمت بھی تفتیش کر رہی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.