صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر خلافت ہاؤس میں قائدین ملت و دانشوروں کا اجلاس

اتحادی قوت کو سلیقے سے عظیم مقاصد کیلئے استعمال  کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے : امیرِ حلقہ رضوان الرحمٰن خان

46,907

ممبئی : ’اتحادی قوت کو سلیقے سے عظیم مقاصد کیلئے استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے‘ یہ بات امیر حلقہ جماعت اسلامی مہاراشٹر رضوان الرحمن خان نے ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں مسلمانوں کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے تعلق سے منعقد کئے گئے ایک مشاورتی میٹنگ میں کہی ۔ اسمبلی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی جہاں سیاسی حلقوں میں سرگرمی تیز ہو گئی ہیں وہیں ملّی حلقوں میں غور وفکر اور تدبر کی شروعات بھی ہوگئی  ہے ۔ اسی سلسلے کی اہم کڑی کے طور پرایک اہم مشاورتی اجلاس کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام جماعتِ اسلامی ہند ممبئی میٹرو نے کیا ۔

اجلاس کا آغاز حسبِ معمول قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا ۔ جماعتِ اسلامی ممبئی میٹرو کے صدر عبد الحسیب بھاٹکر نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج اس اہم اجلاس میں آپ کی شرکت آپ کی حالات کے تئیں فکر مندی اور ملت اسلامیہ کی ہمدردی کی غماز ہیں ۔ انہوں نے ملک کے سیاسی حالات پر گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے سیاسی حالات بہت زیادہ خراب ہیں ۔ فرقہ پرست طاقتیں حاوی ہیں اور مسلمان سیاسی بے وزنی کا شکار ہیں اور تقریباً حاشیہ پر دھکیل دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے مایوسی پھیل رہی ہے ۔

دوسری تقریر بطورِ تجزیہ موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس کے کل مہاراشٹر صدر محمد سراج کی تھی انہوں نے ممبئی کے ایسے اسمبلی حلقے جہاں مسلمان اچھی خاصی تعداد میں رہتے ہیں ، کی نشاندہی کی ۔ انہوں نے کہا کہ 2009 اور 2014 کے مقابلے 2019  کے الیکشن بہت مختلف ہیں ممبئی کی سات سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان امیدوار جتنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ انہوں نے گزشتہ انتخاب کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ نشستیں ایسی بھی ہیں جہاں بہت معمولی فرق سے سیکولر امیدواروں کی ہار جیت ہوئی تھی ۔ اس بار حالات تھوڑے مختلف ہیں ۔ اب کی بار شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان اتحاد ہوگیا ہے ۔ اس لیے ہمیں بہت محتاط ہو کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

امیر حلقہ رضوان الرحمٰن نے انتہائی پُرامید اور پرعزم انداز میں رہنمایانہ گفتگو کی۔ قرآن مجید کے ایمانی ڈسکورس کہ مایوسی سے پرے ہوتے ہوئے آگے بڑھنے،مجتمع ہو کر غور و خوص کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن اور اس کے نتائج امت مسلمہ کا ترجیحی مسئلہ نہیں ہے ۔ رضوان الرحمن خان نے اتحادی قوت کو سلیقے سے اعلیٰ مقاصد کیلئے استعمال کرنے کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ۔ اس کے بعد ایک کھلا مباحثہ شروع ہوا ۔

 

اس موقع موجود عمائدین شہر نے اپنی آراء پیش کیں ۔ سبھی اس بات پر متفق تھے مسلمانوں میں براہمی اتحاد قائم ہو ۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ برادران وطن کو درپیش مسائل کو بھی انتخابی موضوع بنایا جائے ۔ تعلیم صحت اور فلاحی کاموں پر حکومتی بجٹ میں اضافہ ہو ۔ یہ بات زور شور سے اٹھائی گئی کہ ممبئی کے وہ حلقے جہاں مسلم امیدوار جیت سکتا ہو کوشش کی جائے کہ وہاں ووٹوں کی تقسیم نہ ہو سکے ، امیدواروں کے خلاف عوامی سطح پر دباؤ بنانے پر زور دیا گیا ۔

اس موقع پر ایک عوامی منشور کا اجراء عمل میں آ یا ۔ جس میں فلاح و بہبود ، سماجی انصاف ، تعلیم ، بنیادی ڈھانچہ میں اصلاحات ، کسانوں کی خوشحالی اور زراعتی ترقی اورمعاشی ترقی و خوشحالی کیلئے عوامی مطالبات پیش کئے گئے ہیں ۔ واضح ہو کہ جماعت اسلامی ہر انتخابی عمل سے قبل عوامی منشور جاری کرتی ہے جو خالص عوامی اور ملکی ترقی و فلاح بہبود پر مبنی ہوتا ہے ۔

اختتام پر امیر حلقہ رضوان الرحمٰن نے انتہائی پُرامید اور پرعزم انداز میں رہنمایانہ گفتگو کی ۔ قرآن مجید کے ایمانی ڈسکورس کہ مایوسی سے پرے ہوتے ہوئے آگے بڑھنے ، مجتمع ہو کر غور و خوض کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن اور اس کے نتائج امت مسلمہ کا ترجیحی مسئلہ نہیں ہے ۔ رضوان الرحمن خان نے اتحادی قوت کو سلیقے سے اعلیٰ مقاصد کیلئے استعمال کرنے کو  وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.