صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مہاراشٹر پر پانچ لاکھ کروڑ کا قرض اور ۱۰ ؍ ہزار کسانوں کی خود کشی

راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے قومی صدر نواب ملک نے پریس کانفرنس میں فڑنویس حکومت کی ’ترقی کی داستان‘ کو بے نقاب کرنے کا عزم کیا

1,717

ممبئی : ریاستی فڑنویس حکومت جہاں اپنے چار سالہ دور حکومت کی ترقی کے سلسلے میں اپنی پیٹھ خود ہی تھپتھپانے میں مصروف ہے وہیں این سی پی نے یکم نومبر سے حکومت کے ترقی کی قلعی اتارنے کی مہم شروع کرنے جارہی ہے ۔ مہم کے تحت این سی پی کے کارکنان اور عہدیدار گائوں گائوں ،گھر گھر جاکر حکومت کی ناکامی عوام کے سامنے لائیں گے ۔

پیر کو این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے ریاست کی بی جے پی شیو سینا حکومت کے چار سالہ دور حکومت کو ناکام بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ حکومت پوری طرح ناکام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی جیب بھرنے کے لئے طرح طرح کے منصوبے لاتے ہیں جس میں دھاراوی ترقیاتی پروجیکٹ ، میٹرو جیسے سبھی پروجیکٹ شامل ہیں ۔

این سی پی نے چار سال حکومت کی ناکامی کے سلسلے میں ایک کتابچہ بھی شائع کی ہے جس میں حکومت کو مفلوج قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست میں قانون و انتظام پوری طرح سے ناکام ہے ۔ صرف ممبئی میں ہی چھتیس ہزار لڑکیاں غائب ہیں جن کی جانکاری حاصل کرنے میں پولس پوری طرح ناکام رہی ہے ۔ حکومت کی اسی ناکامی اور نکمے پن کے سبب اب ریاست کو غیر محفوظ ، بے مقصد ، بے چین ، بے سہارا مہاراشٹر بتایا جاتا ہے ۔

پارٹی ترجمان نواب ملک نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کو پارٹی کارکنان و عہدیداران عوام کو بتائیں گے ۔ انہوں نے کہا گذشتہ چار سالوں میں حکومت نے کچھ نہیں کیا ، صرف مہاراشٹر کو لوٹنے کا ہی کام کیا ہے ۔ ریاست پر قرض کا بوجھ پانچ لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ہے لیکن اس کے بدلے میں کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آرہے ہیں ۔ نواب ملک نے میٹرو کا کام بلیک لسٹیڈ ٹھیکیداروں کو دینے کا الزام لگایا ۔ دھاراوی پروجیکٹ کو دبئی کی کسی کمپنی کو دینے کی بات انہوں نے بتائی ۔ نواب ملک کا کہنا ہے کہ دھاراوی پروجیکٹ سے حکومت کو ملنے والی رقم دو لاکھ کروڑ دبئی کی کمپنی کو جائے گی ۔

این سی پی ترجمان نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں آٹھ ہزار چوہتر کسانوں نے خود کشی کی جبکہ موجودہ حکومت کے چار سالہ دور میں دس ہزار سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ۔ چھتر پتی شیواجی قرض معافی اسکیم کے تحت حکومت نے نواسی لاکھ کسانوں کو چونتیس ہزار کروڑ روپئے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا اور محض سولہ ہزار کروڑ روپئے کی قرض کی معافی کی ہے ۔ ابھی بھی ریاست میں پچاس لاکھ کسان قرض معافی کے انتظار میں ہیں ۔ نواب ملک نے جلیکت شیوار منصوبہ کو بدعنوانی والا منصوبہ قرار دیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.