صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

امیت شاہ کا اعتراف

2,010

کرناٹک کے ناٹک کے خاتمہ کے بعد بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس سے جڑے افراد دل میں چھپی باتوں کو عوامی جگہوں پر بھی کہنے لگے ہیں ۔وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ان کا کیا بگاڑ لے گا ۔دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے صدر امیت شاہ نے کہا کہ ’اگر کانگریس اپنے ایم ایل اے کو ہو ٹل میں بند کرکے نہیں رکھتی تو کرناٹک میں ہماری حکومت بنتی ‘۔امیت شاہ کی اس بات سے ایک بات اور واضح ہو گئی ہے کہ بدعنوان انسان حکمت و دانائی سے بھی خالی ہو تا ہے ۔ امیت شاہ کی بات نے کانگریس اور دیگر حزب اختلاف کے اس الزام کی تصدیق کردی ہے کہ بی جے پی عوامی نمائندوں کی خرید فروخت میں ملوث ہے اور اس نے دیگرکئی ریاستوں میں انہی خطوط پر اپنی حکومت بنائی ہے ۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اس کے ایک ایک رکن اسمبلی کو ایک کروڑ کی پیشکش کی جارہی ہے ۔امیت شاہ نے یہ بات پریس والوں کے سامنے کہی ان کی باتوں کو سن کر نامہ نگاروں نے زور کا ٹھہاکا لگایا ۔پتہ نہیں شاہ نے نامہ نگاروں کی اس ہنسی کا کیا مطلب لیا لیکن ہمیں تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ ان لوگوںنے اس مقولہ کو یاد کرکے یہ ٹھہاکہ لگایاہوگا ’نادان دوست سے دانا دشمن بہترہوتا ہے ‘۔امیت شاہ کی باتوں سے اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی جوڑی بی جے پی کیلئے تابوت کا کیل ثابت ہو رہی ہے اور ان کے ہر بیان اور ہر قدم کے ساتھ اس کے کِیل میں اضافہ ہو رہا ۔کانگریس مُکت کا نعرہ دینے والے شاہ جی نادان دوست کا کردار ادا کرتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ ملک کو بی جے پی سے پاک کروا کے ہی دم لیں گے ۔
کانگریس تو بی جے پی کا کچھ نہیں بگاڑسکی لیکن بی جے پی کے اپنے عوام مخالف کارنامے ہی اسے بالآخر دفن کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ کرناٹک پر شاہ نے ہی جو بیان دیا ہے اس پر قارئین بھی یقنا ً دہلی کے صحافیوں کی طرح اپنی ہنسی نہیں روک پائیں گے ۔قومی آواز نے امیت کے اس بیان پر سرخی میں شرمناک بیان لکھا ہے جبکہ اسے احمقانہ بیان لکھا جانا چاہئے ۔کیوں کہ یہ امیت شاہ کا سر عام صحافیوں کی موجودگی میں آن ریکارڈ ہارس ٹریڈنگ کا اقبال جرم تھا ۔اس اقرار کے بعد بھی اگر بی جے پی خود کو شاندار تہذیب کی علمبردار پارٹی کہتی ہے تو اس کے اس سوچ پر ہم بھی ہنسنے کی سوا اور کیا کرسکتے ہیں ۔کرناٹک کے ناٹک اور امیت شاہ کے بیان کے بعد گیند پوری طرح کانگریس کے خیمے میں ہے اب یہ اس کی بیدار قیادت کا امتحان ہے کہ وہ بی جے پی کی اخلاقی طور پر دیوالیہ سیاست کو عوام کے سامنے کس طرح پیش کرتی ہے ۔اس کے باوجود عوام مودی امیت کے فرقہ وارانہ خطوط پر سیاست کے رتھ کو اسی طرح تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ کانگریس قیادت کی تاریخ میں بڑی بھیانک ناکامی میں شمار کی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.