صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

دنیا میں سب سے زیادہ با حیا اور پاک دامن مذہب اسلام کی بیٹیاں ہیں 

446

مالیگاؤں : (نامہ نگار)  نوماہ تک اپنی گود میں رکھنے والی اور لاکھوں تکالیف برداشت کرکے جنم دینے والی ماں کو ناراض کرکے شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی کبھی خوش نہیں رہے سکتے ۔ ماں باپ کی خیریت پوچھنے کے لئے وقت نہیں ہوتا اور  رات بھر لڑکیوں سے بات کرنے کے لئے تمہارے پاس وقت ہی وقت ہے۔ اس طرح کے درد بھرے جملوں سے اپنے خطاب کا آغاز  آل رسول مولانا سید محمد امین القادری  نگراں سنی دعوت اسلامی مالیگاؤں  نے کل شام سلام چاچا روڈ نیا اسلامپورہ مالیگاؤں میں عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام  منعقد ہونے والے  سنی اجتماع بعنوان "لومیریج کے نقصانات” میں علمائے کرام، و عمائدین شہر و تعداد کثیرہ میں شریک خواتین و حضرات کی موجودگی میں کیا۔ مولانا موصوف نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو نصیحت فرماتے ہوئے کہا کہ اپنے والدین کی فرمانبرداری کرو اور ان کی پسند کے مطابق شادی کرو اسلامی قانون یہ کہتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھ لیں اور اگر لڑکے کو لڑکی اور لڑکی کو لڑکا پسند نہ ہوتو اپنے بڑوں کو بتا دو ایسے فیصلے شریف خاندان میں ہوتے ہیں اور شریف لوگوں کے رشتے گھر میں موجود بزرگوں کی رضا مندی سے طئے ہوتے ہیں فیس بک، واٹس ایپ، کی کمینٹ اور سڑکوں پر کھڑے ہوکر اپنی زندگی کا فیصلہ نہ کریں زیبائش و آرائش کے سامان لینے کے لئے کئی بار اپنے دوستوں سے مشورہ کیا جاتا ہے مگر جس کے ساتھ زندگی گذارنا ہے اس کے لئے سوچتے بھی نہیں ہو . بس کچھ دلفریب ڈائیلاگس اور سفید چمڑی دیکھ کر انجان لوگوں کی محبت میں مبتلا ہوجاتے ہو۔ خدارا اپنے حالات پر رحم کریں۔ دوران خطاب مولانا موصوف نے قرآن و احادیث کے حوالے سے مفصل گفتگو فرمائی نوجوان لڑکوں کو مخاطب کرتے ہوئے سید صاحب نے کہا کہ آپ لوگ قوم  مسلم کے مستقبل ہوں نشے سے دور رہو ۔ ناجائز محبت سے بچو……! اپنے دوستوں کو گناہ کرتے ہوئے دیکھو تو ان کو روکو نہ کہ ان کا ساتھ دو، اعلیٰ تعلیم حاصل کرو اپنے کاروبار کی سوچ و فکر کرو. بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کی عزت و عصمت بہت قیمتی ہے اللہ کے لئے اپنی عزت کوبرسرراہ برباد نہ کرو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبردار انسان سے شادی کرو اس میں آپ کی ہماری اور قوم مسلم کی بھلائی ہے والدین سے بغاوت نہ کرو ۔  سرپرستوں سے گذارش  کیا کہ اپنی بچیوں کو اکیلے کہیں نہیں بھیجیں اسکولوں، کالجیس، مدارس، ہر جگہ اپنی بچیوں کو پہچانے جاؤ اور لانے جاؤ بچیوں کے ہاتھوں سے موبائل جیسی نحوست کو واپس لے لو کیونکہ تیز دھار تلوار سے زیادہ نقصان دہ چیز اگر کوئی ہے تو وہ ہے موبائل-فون   فی زمانہ معاشرے میں پھیل رہی تمام برائیوں کا سرغنہ موبائل فون، اور  بے حیائی کا ذریعہ ٹی وی سریلس ہیں جو معاشرے کو دیمک کی طرح برباد کررہا ہےمزید فرمایا کہ اسلام کا سب سے مقدس  سفر حج پر بنا محرم کے عورتوں کو جانا منع ہے اور ہم لوگ پکنک منانے، بیرون شہر تفریح کے لئے اپنی بیٹیوں کو غیر محرم حضرات  کی سرپرستی میں بھیج دیتے ہیں والدین اپنے بچیوں کو کالجیس اسکولوں کی ٹرپ میں اور پکنک میں غیر محرم مردوں کے ساتھ نہ بھیجیں اخیر میں آل رسول مولانا سید امین القادری  نے قرآن و احادیث کی روشنی میں گناہوں سے پاک معاشرے کی تشکیل کے کئی اہم  نقاط پیش کئے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.