صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

فٹ پاتھ کے بیماروں کی تیمار داری میں شمیم احمد مصروف

’قائد اردو‘ اب بیماروں کی مسیحائی کیلئے اپنی ٹیم کے ساتھ سرگرم

579

کولکاتا : ریاست میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کی جنگ اور غریبوں کیلئے دسترخواں بچھانے کے بعد انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے شمیم احمد نے فٹ پاتھ پر پڑے بے بس مریضوں کی مرہم پٹی اور علاج و معالجہ کی مہم شروع کردی ہے ۔

شہر میں اپنی سماجی کارکردگی کے حوالے سے قائد اردو کے نام سے معروف شمیم احمد نے سماج کے ان طبقوں کیلئے اپنی نیند حرام کرلی ہے جو شرفا کی بستیوں میں رہتے ہوئے دوا علاج کے بغیر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور آخری ہچکی تک کسی مددگار کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ شمیم احمد نے کہا کہ شہر کے کئی علاقوں میں دن کی روشنی ہو کہ رات کی چاندنی ہر منظر میں فٹ پاتھ پر ایسے لاغر ، ضعیف اور بے بس بیمار پڑے ملتے ہیں جن کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ حکومت کی سیکڑوں فلاحی اسکیم کے باوجود ان بے بس انسانوں کو فائدہ پہنچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر شمیم احمد ایسے بے بس لاچار بیمار لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

زخم کی مرہم پٹی کرانے کے ساتھ انہیں دوائیں اور غذائیں بھی فراہم کررہے ہیں ۔ 23جنوری کوراجہ بازار میں شمیم احمد کی جانب سے لگائے گئے دسترخوان میں امڈی بھیڑ کے دوران ہی ان کی نظر ایسے لوگوں پر پڑی جو دوا علاج کے بغیر فٹ پاتھ پر لاچار پڑے ہوئے تھے ۔ اس وقت بھی انہوں نے ان کی دادرسی کی اور بعدازاں ، دوسرے دن انہوں نے اس کی باقاعدہ ایک مہم شروع کردی ۔ ان کی اس مہم میں ڈاکٹر مختار احمد ، ڈاکٹر فیض الحق ، محمد شمیم ، سید عظمت تارا اور اورنگ زیب ساتھ ہوئے انہوں نے راجہ بازار ، نارکل ڈانگہ کے علاقہ میں فٹ پاتھ پر بے بس اور لاچار پڑے بیمار افراد کی مسیحائی کا کام شروع کردیا ۔ انہوں نے کئی بیماروں کو جنہیں اسپتال لے جانے کی ضرورت تھی اسپتال پہنچایا اور ڈاکٹروں سے مل کر ان کے علاج و معالجہ کا پورا خرچ ادا کیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.