صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

زکریا مسجد ٹرسٹ کی ملکیت فروخت کرنے پر ٹرسٹیوں کو نوٹس جاری

وزارت اقلیتی امور کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود ممبئی اور مہاراشٹر میں اوقاف کی لوٹ کا سلسلہ جاری

22,682

ممبئی : مہاراشٹر وقف بورڈ نے زکریا مسجد اسٹریٹ میں واقع بازار والا بلڈنگ کی از سر نو تعمیر کو لیکر نوٹس جاری کیا ہے ۔ نوٹس میں وقف بورڈ نے واضح کیا ہے کہ زکریا مسجد ٹرسٹ کی نگرانی میں بازار والابلڈنگ کو از سر نو تعمیر یعنی ریڈیولپمنٹ کیا جا رہا ہے ۔ یہ وقف کی ملکیت ہے ، اس لئے اس کے ریڈیولپمنٹ کیلئے جو خرید و فروخت ہوئی ہے وہ غیر قانونی ہے ، وقف نے زکریا مسجد ٹرسٹ کے ٹرسٹی ارشاد لکڑاوالا ، ایم ایس نینا ریلٹی کے مالک بلڈر آصف اسلم نرباں ، بی ایم سی کمشنر اور مہاڈا  سمیت ١٢ لوگوں کو نوٹس جاری کر اس سودے بازی پر جواب طلب کیا گیا ہے ۔ وقف بورڈ نے اپنے نوٹس میں یہ بھی سوال کیا ہے کہ اس غیر قانونی سودے بازی کیلئے کیوں نہ انکے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے وقف کی ملکیت کا غیر قانونی سودا کیا ہے ۔

بازار والا  بلڈنگ کی تفتیش میں پتہ چلا کہ اس کے مکینوں کو گھر کے بدلے گھر دیا جائیگا ۔ جبکہ مسجد ٹرسٹ کو ٧ فلیٹ اور ایک مدرسہ دیا جائیگا ، اور ملکیت کو فروخت کرنے کے عوض ڈیڑھ کروڑ نقد دیئے جائینگے ۔ ورلڈ اردو نیوز کے ہاتھ لگے دستاویزوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وقف کی یہ ملکیت ریڈیولپمنٹ کے بعد وقف کی ملکیت نہیں رہے گی بلکہ یہ ریڈولمپنٹ کرنے والی کنسٹرکشن کمپنی ننا ریلٹی کی ملکیت ہوگی ۔ ہم نے مسجد ٹرسٹ اور اسے ریڈیولمپنٹ کرنے والی کنسٹرکشن کمپنی آصف اکرم نربان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ۔

ورلڈ اردو نیوز کے ہاتھ لگے دستاویزوں سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ  کنسٹرکشن کمپنی نے وقف بورڈ سے این او سی  حاصل کرنے کے بعد ہی اس ملکیت کو خریدا ہے۔ وقف رکن خالد بابو قریشی کا کہنا ہے کہ ممبئی میں ١٢٠٠ سے زائد وقف بورڈ کی فرضی این او سی  بیلدار وقف کی ملکیت پر قبضہ جما رہے ہیں۔ اگر اس کمپنی کے پاس این او سی ہے تو وقف بورڈ نوٹس کیوں جاری کرتا۔ اسلئے یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے کہ اس ملکیت کو  کیسے فروخت کیا گیا اور یہ این او سی کہاں سے جاری کی گئی ؟ کیا یہ این او سی بھی فرضی ہے ،اسکی بھی تفتیش ہونی ضروری ہے

وقف قوانین کے مطابق وقف ملکیت بھلے ہی از سر نو تعمیر کی جائے لیکن اس پر مالکانہ حق ہمیشہ وقف بورڈ کا ہی رہتا ہے ، یا اسکے زیر اہتمام چلنے والے ٹرسٹ کا ہوتا ہے ، لیکن دستاویزوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ اس پر مالکانہ حق ٹرسٹ کا نہیں بلکہ اس بلڈر کا ہوگا جسنے اسے خریدا ہے ۔ ممبئی میں ایسی نہ جانے کتنی وقف کی جائدادیں ہیں جنہیں ٹرسٹیوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے اسے نہ صرف ازسرنوتمیر کیا ہے بلکہ اسکا مالکانہ حق بھی فروخت کیا ہے ، جسکو لیکر وزیر اوقاف نواب ملک نے کارروائی کی بات کہی تھی ۔ واضح ہو کہ وقف کی جائداد کبھی بھی اور کسی بھی حالت میں فروخت نہیں کی جاسکتی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.