صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

  نرو مودی نے ہندوستان میں اپنی جان کو خطرہ کے خدشہ کا اظہار کرکے وکیل کی معرفت اپنا موقف پیش کیا

696

ممبئی : (ریحان یونس) پنجاب نیشنل بینک کےدو بیلین ڈالر لے کر فرار ہونے والے کلیدی ملزم نرو مودی کے وکیل نے سنیچر کو خصوصی عدالت میں کہا کہ ان کے موکل ہندوستان واپس نہیں آسکتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ واپس آنے پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا ۔ پنجاب نیشنل بینک معاملہ میں نرو مودی کو’راون’ سے تشبیہ دی جارہی ہے ۔ لیکن ای ڈی نے ان کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کسی بھی طرح کے خطرہ کا خدشہ ہے تو انہیں پولس میں شکایت درج کروانی چاہیے ۔ نرو مودی کے وکیل وجئے اگروال نے انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے نرو مودی کو جعل ساز قرار دینے کی درخواست پرجج ایم ایس اعظمی کے سامنے ہورہی شنوائی کے دوران اپنے موکل کے شبہات کا اظہار کیا ۔ ای ڈی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ معاشی جعل سازی قانون کے تحت نرو مودی کو جعل ساز قرار دیا جائے ۔

ای ڈی کی درخواست کے جواب میں اپنے وکیل کے ذریعے خود نرو مودی نے کہا کہ ان کے پاس بینک سے کئے گئے لین دین کا ریکارڈ موجود نہیں تھا ۔ نرو مودی کو ہندوستان میں لاحق خطرہ کے دعویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے ای ڈی نے کہا اس نقطہ کا اس معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ای ڈی نے دعوی کہا کی نرو مودی اس تفتیش میں ساتھ دینے سے انکار کر رہے ہیں ۔ انہوں نے ای ڈی کی جانب سے جاری کیے گئے سمن اور ای میل کا جواب بھی نہیں دیا تھا ۔ اسی لئے وہ ہندوستان واپس نہیں آنا چاہتے ۔ حالانکہ انکے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے تفتیشی ایجنسی کی جانب سے بھیجے گئے ای میل کا جواب دیا تھا اور اس بات کا اظہار بھی کیا تھا کہ حفاظتی خدشات کے پیش نظر ہندوستان واپس نہیں آسکتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک خط میں نیرو مودی نے ای ڈی اور سی بی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پنجاب نیشنل بینک معاملہ کی وجہ سے  مختلف خاندانوں میں پیدا ہوئی کشیدگی ، زمینوں کے مالکان ، حصہ داروں جن کو ادائیگی نہیں کی گئی اور ایسے گاہک جن کے زیورات ای ڈی نے ضبط کر لئے ہیں ان کی جانب سے ان کی سلامتی کو ہندوستان میں خطرہ ہے ۔ اس لئے وہ اس معاملہ میں تفتیش میں حصہ نہیں لے سکتے ۔ نرو مودی کے وکیل نے مزید کہا کہ ان کے موکل کو جعل ساز قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک ایف ای او ایکٹ کے تحت ان کو جعل ساز ثابت کرنے کے لئے ضروری شواہد پیش نہیں کئے جاتے ۔

ای ڈی نے نرو مودی کو جعل ساز قرار دینے کی اہم وجہ یہ بتائی کہ وہ مشکوک حالات میں 1 جنوری 2018 کو ملک سے بھاگ گئے تھے ۔ حالانکہ جب وہ ملک چھوڑ کر گئے اس وقت ان پر کوئی بھی مجرمانہ کارروائی کا مقدمہ درج نہیں تھا ۔ ان کے وکیل نے کہا کہ وہ صرف یہ نہیں کہہ سکتے کہ مودی مشکوک حالات میں ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔ یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ مشکوک حالات کیا تھے ؟ اور اس بات کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ وہ ہندوستان آنے سے انکار کر رہے ہیں ۔ مودی وجئے مالیہ کی طرح نہیں ہیں جن پر 9 ہزار کروڑ روپیے قرض واپس نہ کرنے کا الزام ہے ۔ نرو مودی زیورات کے ڈیزائنر ہیں جو ایک فن کے زمرہ میں آتا ہے اور وہ اپنی خواہش کے مطابق کوئی بھی معاشی معلومات ای ڈی کو بتانے سے انکار کر سکتے ہیں ۔ مودی کے حوالے سے اگروال نے کہا کہ میری ساری معیشت جس کی دیکھ بھال ملازمین کے ذریعے کی جارہی تھی وہ اب تفتیشی ایجنسی کے قبضہ میں ہے میرے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ وہ مجھ سے کیا تفتیش کرنے والے ہیں جو انہوں نے میری معلومات کے تمام ذرائع اپنے قبضہ میں لے لئے ہیں ۔

اگراول کی درخواست کے جواب میں ای ڈی افسر ہیٹن وینےگاونکر نے کہا کہ جعل سازی ایکٹ کے تحت اس ساری بحث کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ جسیا کہ نرو مودی نے سلامتی کے خطرہ کا اظہار کیا ہے ۔ کوئی بھی شخص اگر اپنی جان کے خطرہ کی وجہ سے خوف کا شکار ہے تو اسے پولس میں شکایت درج کروانے کی ضرورت ہے ۔ اب تک اس معاملہ میں ایسی کسی بھی شکایت کا کوئی ریکارڈ نہ تو عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی پولس میں شکایت درج کی گئی ہے ۔ اس لئے اس نقطہ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق مودی اور اس کے چچا مہول چوکسی کا بہت سارے بینکوں سے کاروبار کرنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن مبینہ طور پر پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ 14 ہزار کروڑ کی دھوکہ دہی کی ہے ۔ نرو مودی نے مبینہ طور پر جعل سازی کرتے ہوئے مارچ 2011 میں بینک کے ساتھ دھوکہ دہی کی تھی اس کے بعد معاملہ سامنے آیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.