صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

            مسلم حصہ داری : پروفیسر کرسٹوفی جیفرلاٹ

725

ایس ایم ملک ، ممبئی

کل بروز جمعرات بتاریخ ۱۳ ؍ دسمبر ’’سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم‘‘ کی جانب سے منعقد ایک مباحثہ ’’بابری مسجد کے ۲۵ سال‘‘ میں پروفیسر کرسٹوفی جیفر لاٹ (پروفیسر انڈین پولیٹکس اور سوشیالوجی کنگس انڈیا انسٹی ٹیوٹ) کو سننے کا موقع ملا، موصوف نے اپنی پر مغز تقریر میں بتایا کہ جس طرح ماضی کی یادیں زندہ رکھنا ضروری ہے اسی طرح سچائی بھی بتاتے رہنا ضروری ہے۔

پروفیسر کرسٹوفی جیفر لاٹ نے اشوکا یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کئے گئے ریسرچ سے حاصل شدہ ۱۹۷۸ تا ۲۰۱۶ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستانی سیاست اور بیوروکریسی میں مسلمانوں کی حصہ داری پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ آئی پی ایس میں مسلمانوں کی تعداد صرف ۴ ؍ فیصد ہے جس میں ایک فیصد صرف جموں و کشمیر میں ہے جو کہ وہ وہاں کے حالات کے مطابق ضروری ہے اور اگر اسے الگ کر دیا جائے تو آئی پی ایس میں مسلمانوں کی تعداد صرف ۳ ؍ فیصد باقی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح آئی اے ایس میں ۳ ؍ فیصد اور عدلیہ (کوئینٹ ڈاٹ کام کے ایک آرٹیکل کے مطابق ہائی کورٹ میں ۶۰۱ ؍ میں سے صرف ۲۶ ؍ مسلمان اور سپریم کورٹ میں ۴۳ ؍ میں سے صرف ۴ ؍ جج مسلم ہیں ) میں بھی مسلمانوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

۱۹۸۰ ؍ میں جب مسلمان ۱۱  ؍ فیصد تھے، تو لوک سبھا میں ان کی تعداد ۹ ؍ فیصد تھی جب کہ ۲۰۱۸ ؍ میں یہ تعداد صرف ۴.۰ ؍ فیصد رہ گئی ہے۔ حالانکہ ۲۰۱۱ ؍ کے سینسیس کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ۲.۱۴ ؍ فیصد ہے جس کی وجہ انہوں نے بتائی کہ کانگریس جو ہمیشہ مسلمانوں کی قریبی پارٹی کے طور پر جانی جاتی ہے اس نے ہمیشہ مسلمانوں کو ۵ فیصد ٹکٹ دیا ہے جو کہ بے حد کم ہے۔ بلکہ کچھ مسلم سیٹوں پر غیر مسلموں کو ٹکٹ بھی دیا گیا۔ اگر دوسری پارٹیوں کے ٹکٹ کا تناسب دیکھیں تو آر جے ڈی ۷.۲۰ ؍ فیصد، ایس پی ۱۸ ؍ فیصد، ترنمول ۱۶ ؍ فیصد ، بی ایس پی ۹ ؍ فیصد مسلمانوں کو لوک سبھا میں الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دیتی ہیں جو کہ کانگریس سے بہتر ہے۔

اگر اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد کی بات کریں تو اتر پردیش کی اسمبلی میں مسلمان ۶ ؍ فیصد ہیں جب کہ وہاں پر ان کی آبادی ۲۰ ؍ فیصد ہے، مہاراشٹر کی اسمبلی میں ۵ ؍ فیصد ہیں جب کہ وہاں پر ان کی آبادی ۵.۱۰ ؍ فیصد ہے، گجرات کی اسمبلی میں ۵.۲ ؍ فیصد جب کہ وہاں پر ان کی آبادی ۱۳ ؍ فیصد ہے، کرناٹک کی اسمبلی میں ۵ ؍ فیصد ہیں جب کہ وہاں پر ان کی آبادی ۱۳ ؍ فیصد ہے، مدھیہ پردیش کی اسمبلی میں ۵.۰ ؍ فیصد سے ۲ ؍ فیصد کی تعداد موجود ہے جب کہ وہاں پر ان کی آبادی ۷ ؍ فیصد ہے۔ ویسٹ بنگال سب سے بہتر ہے جہاں مسلم آبادی ۳۰  ؍ فیصد ہے اور اسمبلی میں ۲۰ ؍ فیصد مسلم موجود ہیں۔ان سب اعداد و شمار کو دیکھ کر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی حصہ داری ان کے آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے اور یہ سبھی کے لئے فکر مندی کی بات ہے۔ ملک کی اتنی بڑی آبادی کو اگر برابر حصہ داری نہ ملے تو ملک کی ترقی کی نمو سست ہوجائے گی۔

ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کو سیاست میں دلچسپی نہیں ہے یا وہ ممبر پارلیمنٹ یا اسمبلیوں میں جانا نہیں چاہتے، اگر مہاراشٹر کی بات کریں تو ۴۰۰ ؍ مسلمانوں نے آخری اسمبلی الیکشن میں قسمت آزمائی کی تھی، اسی طرح لوک سبھا کے لئے بھی کافی مسلمان پنجہ آزمائی کرتے ہیں۔ (مسلم علاقوں کی انتخابی حلقہ بندی اور مسلم اکثریتی علاقوں کو ایس سی سیٹ ریزرو کرنا بھی مسلمانوں کی گرتی نمائندگی کی ایک اہم وجہ ہے)۔

مسلمانوں کے مسائل پر پارلیمنٹ میں کون آواز اٹھاتا ہے؟ تو اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان ایم پی ہی مسلمانوں کے مسائل پر بات کرتے ہیں جس کی تعداد ۷.۳  ؍ فیصد ہے جو کہ انتہائی کم ہے۔

موصوف نے گرافکس کے ذریعے کانگریس اور بی جے پی کا موازنہ کیا تو یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ مسلمانوں کی ۷۱ ؍ سالہ قریبی پارٹی کانگریس کے دور میں مسلمانوں کی ترقی کی رفتار دھیمی، کم اور رکی رہتی ہے اور بی جے پی حکومت میں مزید نیچے چلی جاتی ہے۔  اور دوسرے اعداد وشمار دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ جہاں پر علاقائی پارٹیاں حکومت میں ہیں وہاں پر مسلمانوں کی حالت تھوڑی بہتر ہے لیکن وہ بھی پچھڑی ہوئی قوم کی ترقی کے لئے ناکافی ہے۔

موصوف نے دو تھیوری پر بات کی۔ مسلمانوں کے ایک گروہ میں یہ سوچ ہے کہ مسلمانوں کی آواز اٹھانے کے لئے مسلم قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا پارلیمنٹ اور اسمبلی میں جانا ضروری ہے اور دوسرے گروہ میں یہ سوچ ہے کہ ایم پی اور ایم ایل اے تو اپنے حلقہ کی ترقی کے لئے ذمہ دار ہیں اور اس حلقہ میں مسلمان بھی آجاتے ہیں اس لئے مزید حصہ داری کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری تھیوری پوری طرح فیل ہوگئی ہے۔ اور اب مسلمانوں کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اپنی تعداد بڑھانے پر زور دینا چاہئے کیوں کہ یہیں پر پالیسیاں بنتی ہیں اوراہم فیصلے لئے جاتے ہیں جس میں مسلمانوں کا حصہ لینا ضروری اور مضبوط جمہوریت کے لئے لازم ہے۔

موصوف نے کہا کہ حال ہی میں شائع پروفیسر اسٹیون ویلکنسن کی کتاب ’’سوشیالوجی آف انڈین آرمی‘‘ میں لکھا ہے کہ دفاعی افواج میں مسلمانوں کی تعداد صرف ایک فیصد ہے اور یہی حال ایس آر پی، بی ایس ایف اور دیگر سکیورٹی اداروں کا ہے۔ موصوف نے کہا کہ اس بات سے حیرت ہوتی ہے کہ جب جارج فرنانڈیز وزیر دفاع تھے اور سوشلشٹ ہونے کے باوجود بھی انہوں نے اس بات کا دفاع کیا تھا کہ مسلمانوں کو ملک کی دفاعی افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں سے دور رکھنا چاہئے۔

اسی طرح جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد ۲۱ ؍ فیصد ہے لیکن سزایابی کی شرح میں ان کی تعداد ۱۵ ؍ فیصد ہے یہ ۶ ؍ فیصد کا فرق بتاتا ہے کہ اس میں مسلمانوں سے کتنا امتیاز برتا جاتا ہے۔

موصوف نے کہا کہ مسلمانوں میں فرقہ بندی کا بڑھنا فکر مندی کی بات ہے جس کی وجہ سے پہلے سے ہی پچھڑی ہوئی قوم کی مزاحمت مزید کمزور ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی ضرورت ہے جس سے امید ہے کہ بیوروکریسی میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

حاضرین میں سے ایک خاتون نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں کافی خامیاں ہیں اور ملک میں مسلمانوں کے خلاف دشمنی کا ماحول ہے اور اس کے علاوہ مسلم قیادت کے اندر نسلی، ثقافتی اور طبقاتی فرق بھی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے کمیونٹی کو اپنے جائز حقوق حاصل کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.