صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ممبئی پولیس نے’فری کشمیر‘ کا پوسٹر لہرانے والی خاتون کیخلاف مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کی

19,516

ممبئی: مقامی عدالت کے روبرو ممبئی پولیس نے رواں سال کے آغاز میں ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا میں شہری ترمیم قانون سی اے اے کے مخالف مظاہرے کے دوران ‘آزاد کشمیر’ کا پوسٹر لہرانے کے الزام میں مسلم جواں سال دوشیزہ مہک مرزا پربھو کے خلاف درج مقدمے کو ختم کرنے کے لئے اپنی ‘سی سمری’ رپورٹ داخل کی ہے۔

عدالت نے رپورٹ کو اپنے ریکارڑ پر رکھنے کے بعد معاملے کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔ قانون کی اصطلاحات میں "سی سمری”رپورٹ اسے کہتے ہیں جب پولیس کو اس بات کا پختہ ثبوت دستیاب نہ ہو کہ اس کی جانب سے ملزم یا ملزمہ کے خلاف درج شدہ ایف آئی آر صحیح ہے یا غلط ہے یا پھر متذکرہ ایف آئی آر مجرمانہ یا شہری معاملات کے زمرے میں آتی ہو۔

ایسے معاملات میں بجاے ملزم کے خلاف کاروائی کرنے کے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد اسے ختم کرنے کا قانونی اختیار ہے اسی اختیار کے تحت آج پولیس عدالت سے رجوع ہوئی تھی۔ مہک کے خلاف ممبئی کے قلابہ پولیس نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جس میں ملک دشمن سرگرمیاں بھی شامل تھی۔

واضح رہے کہ ماہ جنوری میں دہلی کے جے این یو میں ہوئے طلباء سے مار پیٹ اور تشدد کے واقعات اور سی اے اے کے خلاف ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر چند طلباء تنظیموں نے مظاہرہ کیا تھا جس کے دوران مہک نے آزاد کشمیر کا پوسٹر لہرایا تھا۔

بی جے پی نے اس پوسٹر پر سخت اعتراض کیا تھا اور اسے پاکستان کی حمایت میں اور کشمیر کو ملک سے الگ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوے اس معاملے میں فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ بی جے پی نے شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کی موجودہ حکمران حکومت کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

مہک کا دفاع کرتے ہوئے شیوسینا کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے راؤت نے کہا تھا کہ اس خاتون نے پچھلے کئی مہینوں سے وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل بند کیے جانے کے خلاف آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ مہک مرزا پربھو نے بھی اس معاملے میں صفائی پیش کرتے ہوے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پلے کارڈ صرف کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے خلاف بطور احتجاج لہرایا گیا تھا نیز اس کے پس پشت کوئی دوسرا مقصد نہیں تھا-

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.