صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مر کز میں مودی حکومت کے اقتدار سے بے دخل ہو تے ہی طلاق ثلاثہ قانون کا بھی خاتمہ ہوجائے گا:سریش ٹاورے

613

بھیونڈی  : (عارف اگاسکر)ملک گیر سطح پر لاکھوں مسلم خواتین کے باضابطہ احتجاج اور طلاق ثلاثہ قانون کی مخالفت کے باوجودمرکز کی مودی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی سے ایسے سیاہ قانون کو حتمی شکل دے دی ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے شرعی قوانین میںبراہ راست مداخلت ہے ۔ بلکہ پوری طرح مردوں کے خلاف ہےاور مسلمانوں کی ازدواجی زندگی میں منافرت اور اختلافات کو بڑھاوا دینے والا ہے ۔

اس ضمن میں بھیونڈی کے سابق کانگریسی رکن پارلیمان اور ۲۰۱۹ میں ہونے والے پارلیمانی الیکشن کے لئے کانگریس کے سب سے مضبوط دعوے دار شری سریش ٹاورے نے اس نمائندے سے گفتگو کر تے ہوئے بتایا کہ تین طلاق قانون کا مجوزہ بل جب لوک سبھا میں آیاتو پورے ملک کے ہر شہر اور ہر ایک قصبہ میں اس کی بھر پور مذمت ہوئی ۔ جبکہ ملک بھر میں برقعہ پوش مسلم خواتین نے لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوکر احتجاجی جلوس میں حصہ لیا اور کروڑوں خواتین کی دستخط سے اس کی مخالفت میں میمورنڈم دے کر مجوزہ قانون کی شدید مخالفت کی گئی ۔ لیکن مرکز کی ضدی مودی سرکار نے تمام اختلافات اور احتجاج کے باوجود تین طلا ق کے قانون کو لوک سبھا میں منظوری دے دی ۔اور اس طرح مسلم مرد وخواتین کی ازدواجی زندگی میں زہر گھولنے کا کام کیا ۔

سریش ٹاورےنے اس سلسلے میں مزید بتایا کہ گزشتہ دنوں دہلی میں منعقدہ کانگریس کی قومی اقلیتی کنونشن میں متفقہ طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اس بار مرکز میں کانگریسی حکومت کے اقتدارمیں آتے ہی طلاق ثلاثہ قانون کوختم کر دیا جائے گا ۔ کانگریس کے قومی صدر شری راہل گاندھی اور کل ہند اقلیتی شعبہ کے سربراہ ندیم جاوید کی موجودگی میں کانگریسی خواتین ونگ کی صدر سشمتا دیوی نے اعلان کیا ہے کہ مرکز میں کانگریس پارٹی کی حکومت آنے پرطلاق ثلاثہ کے نام پر مسلمانوں کو پھنسانے کے لئے بنائے گئے سیاہ قانون کو ختم کر دیا جائے گا ۔

مودی حکومت نے اس قانون  کے ذریعےایسا کھیل کھیلا ہے کہ مسلم مرد پولس اسٹیشن کے چکر لگاتا رہے اورجیل کی ہوا کھاتا رہے ۔ جبکہ مسلم عورت بیچاری دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائے ۔ شر ی سریش ٹاورے نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ مرکز میں کانگریس حکومت کی آمد کا یہ پہلا ٹھوس اور مستحسن قدم ہوگاجس دن طلاق ثلاثہ قانون کا خاتمہ ہوگا ۔ اس سیاہ قانون کو لے کر مسلم مرد وخواتین میں آج بھی شدید ناراضگی اور اضطراب موجود ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ کایہ قانون شریعت میں سراسر مداخلت ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو ئے ہیں اسی لیے اس کی ہر سمت سے مخالفت ہو رہی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.