صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مسلم ریزرویشن کیلئے مجلس اتحاد المسلمین ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی

ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی امتیاز جلیل نے ایوان میں کہا کہ موجودہ حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا

498

ممبئی ۔ (ریحان یونس)مہاراشٹر حکومت کی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے مراٹھا سماج ریزرویشن بل کو منظوری ملنے کے ایک دن بعد جمعہ کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے کہا کہ مسلم ریزرویشن کی بحالی کے لئے وہ ہائی کورٹ جائی گی ۔ گزشتہ کانگریس این سی پی اتحادی حکومت نے مہاراشٹر میں مراٹھا سماج کو 16 فیصد ریزرویشن دیا تھا اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی 5 فیصد ریزرویشن مہیا کیا تھا ۔ ایم آئی ایم رکن اسمبلی امتیاز جلیل نے اسمبلی احاطہ میں صحافیوں سے کہا کہ ایم آئی ایم نے مراٹھا سماج کو دئیے جانے والے ریزرویشن کی مخالفت نہیں کی ہے لیکن مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لئے بھی حکومت کو ایک ہی پیمانہ کا استعمال کرنا چاہیے ۔

اب ہمارے پاس صرف ایک ہی متبادل ہے کہ ہم ہائی کورٹ جائیں کیونکہ اس حکومت کی جانب سے ہمیں انصاف نہیں ملا ہے ۔ ہم ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی ، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ جبکہ بی جے پی قیادت والی مہاراشٹر حکومت نے اسٹیٹ بیکورڈ کلاس کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر مراٹھا سماج کو ریزرویشن دئیے جانے کی حمایت میں بل پیش کیا تھا ۔ امتیاز جلیل نے کہا سچر کمیشن ، رنگناتھ مشرا کمیشن اور محمودالرحمٰن کمیشن نے مسلمانوں کی سماجی ، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے لئے سفارشات پیش کی تھی ۔ اس کے علاوہ امتیاز جلیل نے ایس بی سی سی کی رپورٹ کی سچائی پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مراٹھا سماج کے 93 فیصد لوگوں کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے کم ہے ۔

جیسا کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ۔ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی نے جمعرات کو دیگر جماعتوں کے موجودہ 52 فیصد ریزرویشن سے علیحدہ مراٹھا سماج کو تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں 16 فیصد ریزرویشن دینے کے بل کو متفقہ طور پر منظوری دے دی ۔ ماضی قریب میں پرتھوی راج چوہان کی زیر قیادت کانگریس این سی پی حکومت نے 2014 اسمبلی انتخابات سے قبل آرڈیننس جاری کرتے ہوئے مراٹھا اور مسلم سماج کو ریزرویشن دیا تھا ۔ جو بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے التوا کا شکار ہو گیا ۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے جمعہ کو مطالبہ کیا کہ حکومت مسلم سماج کے 5 فیصد ریزرویشن کو بحال کرے ۔

سپریم کورٹ نے بھی مسلمانوں کی پسماندگی کے پیش نظر انکو ریزرویشن دینے کا مشورہ دیا تھا ۔ لیکن موجودہ بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ہائی کورٹ نے مسلم سماج کو نوکریوں میں ریزرویشن دینے پر اسٹے جاری کیا تھا لیکن تعلیم پر نہیں ۔ اس سماج کا تعلیمی طور پر پسماندہ طبقہ کو تعلیمی مواقع ملنا چاہیئیں ۔ یہاں آرڈیننس جاری کرنے کے لئے ایک مظبوط دلیل ہے ۔ چند دنوں قبل وزیر اعلی دیوندر فڑنویس نے اسمبلی میں کہا کہ جن لوگوں کو ایسا لگتا ہی کہ مسلم سماج میں ایسے طبقات ہیں جن کو ریزرویشن کی ضرورت ہے وہ ایس بی سی سی کے پاس جاکر ان سے سروے کروانے کی درخواست کر سکتے ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.