صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت: مفتی محمد خلیل الرحمن

ہر مسجد سے متصل مکان میں لاؤڈ اسپیکر و خواتین کے بیٹھنے کا نظم ضروری 

541

ناندیڑ:(نامہ نگار) ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے، تاکہ وہ ایمان و عقائد اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے ازخود فکر مند ہوجائیں۔ دینی تعلیم و تربیت کے ذرائع مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے لئے کم دستیاب ہیں۔ دینی اجتماعات، جلسے، اصلاحی مجالس وغیرہ عورتوں سے زیادہ مردوں کے لئے رکھے جاتے ہیں۔ اسلام نے عورتوں کی دینی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیا ہے اور قرآن میں ایک مکمل سورۃ عورتوں سے متعلق نازل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں تاریخ اسلام اس بات سے بھری پڑی ہے کہ مسلم خواتین نے ایمان و عقائد اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے کیسی کیسی بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پولیس ایکشن (سقوط حیدرآباد 1948ء) کے موقع پر بے شمار مسلم خواتین نے صرف اپنی عصمت و عفت کو بچانے کے لئے کنویں میں چھلانگ لگا بیٹھیں اور پھر اُن کی نعشیں ہی کنویں سے باہر نکلیں، لیکن انہوں نے اپنی عصمت و عفت پر داغ لگنے نہیں دیا۔ یہ سب اُن کی دینی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ جان تو دے دی لیکن عزت و عصمت کو جانے نہیں دیا۔ موجودہ حالات میں مسلم لڑکیاں اپنے ایمان اور عصمت کو خیرباد کہہ کر مشرکوں کے ساتھ رفوچکر ہورہی ہیں اور دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی برباد کررہی ہیں تو اس میں والدین کا بھی قصور ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نیک، پارسا اور شریف سمجھ کر انہیں آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں نہ اُن کی پختہ تربیت کرتے ہیں۔ فحاشی و عریانیت کا سیلاب انہیں لے اُڑتا ہے اور پھر والدین کفِ افسوس ملتے رہ جاتے ہیں ( لیکن اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت کے مصداق یہ افسوس و واویلا کرنا بھی سانپ جانے کے بعد لکیر پیٹنا جیسا ہی ثابت ہوتا ہے)۔ مفتی صاحب نے کہا کہ والدین کی جانب سے اولاد کی تربیت میں کوتاہی و لاپرواہی کے معاملہ میں ٹی وی کا سب سے زیادہ اثر ہوا ہے۔ گھر میں موجود ٹی وی پر بتائے جانے والے فلمیں، ڈرامے، گانے باجے کے سبب والدین بچوں کی تربیت کے تئیں بے حس ہوگئے۔ ٹی وی نے عورتوں کے اخلاق و کردار پر زبردست منفی اثر کیا جس کی وجہ سے وہ کسی کو بھی خاطر میں لانا نہیں چاہتیں۔ اسی مزاج کی بناء پر سسرالی رشتہ داروں سے موافقت نہیں ہوپاتی، نتیجتاً نوبت طلاق تک آپہنچتی ہے۔ آج میاں بیوی کے جھگڑوں کے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات مسلمانوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اس ٹی وی نے معاشرے کو تباہ و برباد کردیا۔ جب تک مسلمان ٹی وی کو گھر سے باہر نہیں کریں گے تب تک اصلاح کی کوششیں بے اثر ہی ثابت ہوں گی۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ مسلم لڑکیوں کو شرپسند تنظیم سے وابستہ نوجوانوں کے دامِ فریب سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کے لئے زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ بالخصوص جمعہ کے دن مساجد میں ہونے والے بیان سے خواتین کے استفادہ کے لئے ہر مسجد سے متصل ایک مکان میں لاؤڈ اسپیکر اور خواتین کے بیٹھنے کا انتظام ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ مسلم تنظیموں اور مساجد کمیٹی کے ذمہ داران کو اس خصوص میں غوروفکر کرنا چاہئے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.