صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اسٹریچرنہ ملنے سے نومولود کی موت کی جانچ شروع

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر لہانے تفتیش کے لئے دواخانہ پہنچے

579

اورنگ آباد : (جمیل شیخ) گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل اورنگ آباد میں حاملہ کو اسٹریچر نہ ملنے کے سبب نومولود کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ یہ معاملہ میڈیا میں آنے کے بعد گھاٹی دواخانہ انتظامیہ کی کافی لے دے ہوئی تھی جس کے بعد ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نے معاملہ کی تحقیقات شروع کردی اور تحقیقات کے لئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تاتے رائو لہانے گھاٹی دواخانہ پہنچ چکے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں ایک حاملہ گھاٹی اسپتال زچگی کے لئے پہنچی تھی ۔ لیکن یہاں اسٹریچر نہ ملنے اور لفٹ بند ہونے کے سبب لیبرروم تک اسے پیدل ہی جانا پڑا تھالیبر روم پہنچنے سے پہلے ہی اس کی ڈیلیوری ہوگئی اور بچہ فرش پر گر پڑا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی تھی ۔

انتظامیہ کی لاپرواہی میڈیا میں آتے ہی گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جارہے تھے انتظامیہ نے معاملہ کی ابتدائی جانچ کروانے کے بعد تین ڈاکٹرس چار نرسیس اور تین کلاس فورتھ ملازمین کو وجہ بتائو نوٹس جاری کیا تھا حالانکہ ڈاکٹرس اور ان ملازمین نے انتطامیہ کو اپنا جواب پیش کردیا ہے ۔ لیکن معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ اورنگ آباد بنچ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی جس میں ہائی کورٹ کے سبکدوش جج سے معاملہ کی جانچ کروانے کا مطالبہ کیاگیا ہے اسی طرح ہیلتھ ڈائریکٹریٹ نے بھی معاملہ کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی قائم کردی ہے ۔ جس میں نومولود کی موت معاملہ کی جانچ شروع کردی اسی ضمن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر لہانے آج گھاٹی دواخانے پہنچے اور جانچ شروع کردی انہوں نے مختلف وارڈوں کے ساتھ ساتھ الگ الگ شعبہ جات کا اور اسٹریچر کا بھی جائزہ لیا ۔

اس موقع پر ڈین کانند ایڑی کر نائب ڈین شیواجی سکرے گورنمنٹ کینسر ہاسپٹل کے ڈاکٹر ارون گائیکواڑ ڈاکٹر راجیندر بندو موہن ڈوئی پھوڑے ڈاکٹر شری نواس گڑپپا ، ڈاکٹر سونالی دیشپانڈے ڈاکٹر میناکشی بھٹا چاریہ اور دیگر افسران موجود تھے ۔ ڈائریکٹر آف ہیلتھ کی جانب سے مذکورہ معاملہ کی جانچ شروع کئے جانے پر دواخانہ کے حلقوں میں ہزار منہ ہزار باتیں کی جارہی تھی کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ جانچ چلتی رہے گی لیکن معاملہ میں پھنسے دس ملازمین کا تبادلہ طئے ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.