صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اسلام جمخانہ انتظامیہ میں مجرمانہ شبیہ کے افراد کی شمولیت سے گھمسان

62,640

ممبئی پولس کمشنر کیلئے منعقد پروگرام میں سنجے پانڈے حاضر نہیں ہوئے

ممبئی : ممبئی میں ایک عجیب قسم کا کلچر پرورش پاچکا ہے اور وہ ہے کسی سرکاری اہلکار کے عہدہ سنبھالنے پر اسے مبارکباد دینے کا رواج جس پولس کا محکمہ سب سے آگے ہے ۔ مسلمانوں میں سے چند افراد جن کا قوم یا ہم وطنوں کیلئے کوئی کارنامہ نہیں ہے وہ صرف پولس اہلکار یا دیگر بااثر سرکاری عملہ کی چاپلوسی میں آگے آگے نظر آتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک پروگرام گذشتہ ہفتہ اسلام جمخانہ میں منعقد کیا گیا تھا جس کا مقصد پولس کمشنر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دینا تھا ۔

واضح ہوکہ یہ پروگرام ہوتا تو ہے اور چند بیکار قسم کے افراد جو سماجی کارکن کہلاتے ہیں اس میں شامل بھی ہوتے ہیں لیکن عوام انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتی ۔ یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ عوام کی نظر میں پولس کا کردار کیا ہے ۔ پولس کمشنر تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں مگر پولس اسٹیشنوں میں کیا ہوتا ہے یہ ہم آئے دن اخبارات میں خبروں کی شکل میں پڑھتے رہتے ہیں اب اس محکمہ سے کوئی نزدیکی بڑھائے تو عوام اسے کیوں کر عزت دینے لگیں ۔

گذشتہ ہفتہ ممبئی پولس کمشنر کو اسلام جمخانہ میں ایک تہنیتی پروگرام جو انہی کیلئے تھا میں مدعو کیا گیا تھا ۔ لیکن جس طرح بارات پہنچ جائے اور دولہا غائب رہے تو وہ بارات موضوع بحث ہوجاتی ہے اسی طرح ممبئی پولس کمشنر کیلئے چشم براہ افراد تو وہاں موجود رہے مگر سنجئے پانڈے تشریف نہیں لائے ۔ معلوم ہوا کہ پولس کمشنر کو اس کی بھنک مل گئی تھی کہ اسٹیج پر ایسے ایسے افراد ہوں گے جن سے کئی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور پولس اسٹیشنوں میں مقدمہ بھی درج ہے ۔ ممبئی پولس کے سابق اہلکار شمشیر خان پٹھان نے اس سلسلے میں اپنے فیس بک پوسٹ پر چند انتہائی دلچسپ پہلوؤں کو اجاگر کیا جسے ہم خبروں کے طور پر قارئین ورلڈ اردو نیوز کیلئے پیش کررہے ہیں ۔

معلوم ہوا کہ اسلام جمخانہ کے سیاہ و سفید کے مالک یوسف ابراہنی نے ممبئی میونسپل کارپوریشن سے بلیک لسٹیڈ بلڈر تبریز ربر والا کو متنبہ کیا تھا کہ وہ مذکورہ پروگرام میں شامل نہ ہو کیوں کہ وہ کئی مجرمانہ مقدموں کا سامنا کررہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ تبریز بلڈر نے یوسف ابراہنی کی باتیں سنی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضرور اس میں شامل ہوگا ۔ اس صورتحال کے پیش نظر اس سے کہا گیا کہ وہ اسٹیج کی پچھلی سیٹوں پر رہے ۔

لیکن کمشنر نے مجرمانہ کردار رکھنے والوں کی منیجمنٹ میں شمولیت کے پیش نظر اس پروگرام میں شرکت ہی نہیں کی ۔

اسلام جمخانہ کی منیجمنٹ کمیٹی میں شامل مبین قریشی بھی پریم کمار قتل کیس سمیت کئی اور مجرمانہ مقدموں میں اس کا نام ہی شامل نہیں ہے بلکہ وہ بذات خود جرائم پیشہ کہہ چکا ہے ۔ وہ بھی پولس کمشنر کے تہنیتی پروگرام میں موجود تھا ۔

اس طرح کے حالات نے منیجمنٹ میں شامل مجرمانہ شبیہ کے افراد میں بے چینی کا سبب بن گیا اور یوسف ابراہنی پر سوال کی بوچھاڑ ہونے لگی ۔

ابراہنی سے سوال کیا جانے لگا کہ انہوں نے عمر لکڑا والا کے ساتھ اپنے بیٹا کو پروجیکٹ کرنے کا پروگرام کیوں کر منعقد کیا۔ ان سب وجوہات کی بنا پر منیجمنٹ میں باہمی تکرار شروع ہوگئی ہے ۔

یوسف ابراہنی ان حالات پر قابو پانے میں مصروف ہیں جو خود آگری پاڑہ پولس اسٹیشن میں مطلوب ہیں ۔ منیجمنٹ کے چند ارکان نے آگری پاڑہ پولس اسٹیشن کیس والے معاملہ کو اٹھایا بھی ہے ۔ تو خبروں کے مطابق منیجمنٹ میں مجرمانہ کردار کے افراد کی موجودگی سے گھمسان جاری ہے ۔ انتظار کیجئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.