صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’ہم کنول کے ہیں ، کنول کی ہی سنیں گے‘

پولس کی دہشت سے مسلمان گھر چھوڑنے کو مجبور : رہائی منچ

442

لکھنؤ : رہائی منچ کے وفد نے اُترولہ ، بلرامپور میں کہا سنائی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد علاقے کا دورہ کیا ۔ منچ نے کہا کہ یہ واقعہ صوبہ میں چھوٹے چھوٹے واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ دیئے جانے کے سلسلہ کی تازہ ترین کڑی ہے ۔ پولیس نے ایک فریق کی جانب سے ایف آئی آر درج کیا اور دوسرے فریق کی بات ان سنی کرتے ہوئے کہا کہ "ہم کنول کے ہیں ، ہم کنول کی ہی سنیں گے” ۔ وفد میں عظیم فاروقی، شاہ رخ احمد ، عبدالطیف شامل تھے ۔

وفد کو پتہ چلا کہ اُترولہ میں دو خاندانوں کے درمیان معمولی کہا سنی کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا ۔ اس یک طرفہ کارروائی میں ، دوسری جانب سے پانچ افراد کو نامزد اور بیس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ اس کے نتیجے میں ، مسلم کمیونٹی اپنا محلہ چھوڑکر فرار ہونے پر مجبور ہو گیا ۔

یہ وارڈ نمبر 4 ، اُترولہ شہر کا واقعہ ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ 13؍نومبر کو دو خاندانوں کے درمیان کہا سنی ہوئی تھی ۔ محلہ میں امت کشیپ کی پان مسالے (جنرل سٹور) کی دکان ہے ۔ دکان پر لوگوں کا آنا جانا بنا رہتا ہے ۔ جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے ، لوگوں کے درمیان ہنسی مذاق بھی چلتا رہا ہے ۔ اس دن بھی یہی ہوا ۔ لیکن ہنسی مذاق نے کہا سنی کی شکل لے لی ۔ بعد میں امیت کی ماں شکایت لے کر کالیا کے گھر پہنچ گئی ۔ معاملہ حل ہونے کی بجائے اور الجھ گیا اتنا الجھا کہ آخر کار معاملہ پولس چوکی تک پہنچ گیا اور وہاں دونوں خاندانوں کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہو گیا ۔

معاہدے کے دو دن بعد ، 15 نومبر کو رات 8 اور 9 کے درمیان ، کشیپ کمیونٹی کے لوگ جمع ہوئے اور کالیا سمیت دیگر مسلم گھروں میں پتھر پھینکنے لگے ۔ اس کے بعد دونوں فریق کے درمیان جھڑپ کے باعث معاملہ سنگین ہوگیا ۔

امت نے 16 نومبر کو کوتوالی اُترولہ میں ایف آئی آر درج کرائی ۔ اس میں کالیا ، اکبر علی ، صدام ، حسن ، واجد علی عرف شانو پانچ نامزد اور پندرہ بیس نامعلوم افراد شامل تھے ۔ اب تک ، 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ کالیا(25) ، نوشاد(26) اور راجو(32) ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام ہیں جو اس واقعے کے دن وہاں موجود ہی نہیں تھے ۔ دہشت اتنی پھیلی کہ مسلمان خاندان پولیس کے خوف سے محلہ چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ ایف آئی آر کے لئے ، ادریس خان اُترولہ کے چیئرمین پولیس اسٹیشن گئے تھے ۔ کوتوال نے ان کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "ہم کنول کے ہیں ، ہم کنول کی ہی سنیں گے” ۔ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ پتھربازوں کو پولیس گاڑی میں بیٹھا کر مسلم نوجوانوں کو چن چن کر گرفتار کررہی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.