صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ڈانس بار دوبارہ شروع ہونے کے پیچھے حکومت کی سازش : اشوک چوہان

حکومت نے عدالت میں مضبوطی کے ساتھ موقف ہی پیش نہیں کیا ، انتخابات کے لئے کتنا فنڈ جمع کیا ؟ بی جے پی اس کی وضاحت کرے

535

ممبئی : ممبئی میں دوبارہ ڈانس بار شروع ہونے کے عدالت کے فیصلے پر آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ایم پی اشوک چوہان نے حکومت پر یہ الزام عائدکرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دروازے سے ڈانس بار شروع کرنے کی یہ حکومت کی سازش ہے ۔ حکومت نے عدالت میں مضبوطی کے ساتھ موقف ہی پیش نہیں کیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات کے لئے حکومت نے کتنا فنڈ جمع کیا ہے ؟ اس کی وضاحت کرے ۔
انہوں نے کہا کہ سماجی خرابی پر قابو پانے ، نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ اور خواتین کے استحصال کو روکنے کے لئے سابقہ کانگریسی حکومت میں ڈانس بار پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ ہزاروں خاندانوں کو تباہ کرنے والے ڈانس بار کو بند کرنے میں کانگریس حکومت نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ لیکن بی جے پی کے اس وقت کے ریاستی صدر اور موجودہ وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس اوربی جے پی کا موقف اقتدار میں آنے کے بعد تبدیل ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۴ کے بعد بی جے پی نے ڈانس بار سے متعلق خاموشی کا موقف اختیار کیا ہے ۔ ۲۰۱۶ میں توڈانس بار چلانے والوں نے علانیہ طور پر وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ میں مدد دی تھی ، اور یہ بات اسی وقت ظاہر ہوگئی تھی کہ زیراعلیٰ کا ڈانس بار چلانے والوں سے قربت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موثر طریقے سے حکومت کا موقف پیش نہ کرنے کی وجہ سے عدالت نے ۲۰۱۶ میں ڈانس بار شروع کرنے کی اجازت دی تھی ، جس کے بعد حکومت نے ڈانس باروں کے خلاف مزید مضبوط قوانین بناکر دکھاوا کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان تمام قوانین کو رد کردیا ہے ۔ اب تعلیمی اداروں کے ایک کلومیٹر کی حد میں ڈانس بار شروع کیا جاسکتا ہے ۔ سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی شرط بھی عدالت نے رد کردی ہے نیز شراب نوشی اور رقص گاہ کے علیحدہ ہونے کی شرط بھی ختم کردی ہے ۔ اس لئے صحیح معنوں میں ۲۰۱۶ میں اس حکومت نے جو قانون بنایا تھا ، عدالت نے اسے رد کردیا ہے جس نے حکومت کو بے آبرو کردیا ہے ۔ اشوک چوہان نے کہا کہ حکومت قصداً ایسے قوانین بناتی ہے جو عدالتوں میں ٹک نہ سکیں ۔ یہ حکومت کا ایک طریقہ کار ہے ۔ انہوں کہا کہ حکومت کے اس موقف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈانس باروں سے لوگوں کی تباہ ہوتے گھروں کے مقابلے میں انتخابات کے لئے ملنے والا فنڈ بی جے پی کے لئے زیادہ اہم ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.