صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

 پری میٹرک اقلیتی اسکالرشپ کی رقم  میں اضافے کے ساتھ ہی انکم سرٹیفکیٹ کی شرط ختم ہونی  چاہئے: ایم پی جے

29,603

ممبئی : پری میٹرک اسکالرشپ اقلیتی برادری کے والدین کو اسکول جانے والے بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دینے کیلئے شروع کی گئی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد اسکول کی تعلیم پر غریب والدین کے مالی بوجھ کو ہلکا کرنا اور اسکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا اور تعلیم کے ذریعے اقلیتی طبقات کو بااختیار بناتے ہوئے ان کے سماجی  و معاشی حالات کو تبدیل کرنا تھا۔ لیکن یہ اسکیم بھی پہلے دن سے ہی افسر شاہی کا شکار رہی ہے۔

آپ کو بتادیں کہ مہاراشٹر میں اقلیتی پری میٹرک اسکالرشپ کی ادائیگی شروع سے ہی متنازعہ رہی  ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے مرکزی حکومت سے اسکالرشپ فنڈز وصول کرنے کے باوجود کئی سالوں تک  بچوں کو اسکالرشپ کی رقم نہیں دی ۔ ایم پی جے نےسڑک سے لیکر عدالت تک اس کے لئے کامیاب جنگ لڑی ہے۔ خود ایم پی جے کے عدالتی مداخلت کے بعد، ریاست میں اس اسکیم کے تحت بچوں کو اسکالرشپ کی رقم پہلی بار دی گئی تھی۔ موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیئر (ایم پی جے)  مہاراشٹر میں شروع سے ہی اسکالرشپ کی لڑائی لڑ رہی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ مہاراشٹر میں ، پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم (2020-21) کے لئے لاکھوں نئی ​​اور تجدید کے لئے درخواستیں آن لائن جمع کرائی گئی ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی، متعلقہ اسکولوں اور تعلیمی دفاتر نے تصدیق شدہ درخواست فارموں کو ریاستی نوڈل آفیسر کے پاس بھجوا دیا تھا۔

ریاست مہاراشٹر کے نوڈل آفیسر نے تمام نئی اور تجدید کے لئے موصول درخواستیں واپس کردی ہیں، مجاز اتھارٹی سے انکم سرٹیفکیٹ کی دوبارہ تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے لئے خود اعلان / حلف نامہ کو بطور انکم پروف تسلیم  کیا جاتا ہے، لیکن اقلیت کے معاملے میں مجاز اتھارٹی کے ذریعہ جاری کردہ انکم سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

آج ۲۹؍ جنوری ایم پی جے نے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وزیر اعظم کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں انکم سرٹیفکیٹ پیش کی شرط ختم کرنے اور خود اعلان / حلف نامے کو انکم پروف کے طور پر تسلیم  کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی مقدار میں اضافہ کے ساتھ ہی اقلیتوں کے لئے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لئے آمدنی کی حد تین لاکھ  روپے مقرر کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.