صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

حیدر بیابانی کے انتقال سے تاریکی کا احساس بڑھتا جارہا ہے

73,996

گلشنِ زبیدہ میں بچوں کے ادیب و شاعر حیدر بیابانی کے انتقال پر تعزیتی نشست

 حیدر بیابانی ادب اطفال کے ان چند روشن ترین ستاروں میں سے ایک تھے جن کے نہ ہونے سے آج تاریکی کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔:ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی

           

بنگلورو: جمعرات ۲۰؍جنوری ۲۰۲۲ء؁ کو کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کی طرف سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی صدارت میں حیدر بیابانی کی وفات پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس تعزیتی نشست میں آفاق عالم صدیقی، محمد اظہرالدّین ازہر ندوی، انیس الرّحمن، محمد فیاض، انجینئرمحمد شعیب اور ہچرایپّا کے علاوہ بہت سارے علماء کرام، اساتذہ اور طلبا نے شرکت کی۔

            حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ حیدر بیابانی اردو ادب اطفال کے نہایت باکمال، مخلص، اور کل وقتی ادیب و شاعر تھے۔ ان میں بچوں جیسی معصومیت تھی، وہ جتنے بڑے شاعر اور ادیب تھے، اتنے ہی منکسرالمزاج انسان تھے۔ میں انہیں برسوں سے جانتا تھا۔ بمبئی میں ان کے ساتھ مشاعرہ بھی پڑھاتھا۔ اور جب شکاری پور، کرناٹک میں بچوں کے ادب پر سمینار منعقد کیا گیا تو وہ یہاں بھی تشریف لائے اور ہمارے ساتھ دودنوں تک مقیم رہے۔اس درمیان ان کی سادگی، اور خلوص نے مجھے بے حد متأثر کیا۔

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حیدربیابانی ہمارے ادبی کنبے کے نہایت فعال اور ہر دل عزیز فنکار تھے۔ باالخصوص شاعری پر انہیں عبور حاصل تھا۔ وہ جس موضوع پر بھی نظمیں لکھتے تھے انہیں بچوں کے لیے نہایت دلچسپ بنادیتے تھے۔ انہوں نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیدر بیابانی ادب اطفال کے ان چند روشن ترین ستاروں میں سے ایک تھے جن کے نہ ہونے سے آج تاریکی کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حیدر بیابانی کی وجہ سے ادب اطفال میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید کبھی پر نہیں ہوپائے گا۔ وہ بھلے سے آج ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ مگر ان کی کتابیں اور ان کی بہت ساری نظمیں ،نصابوں کے توسط سے بچوں کے معصوم ذہنوں پر نقش ہوچکی ہیں۔ وہ اپنی کتابوں کے ذریعہ آنیوالی نہ جانے کتنی نسلوں کو ذہنی خوراک فراہم کرتے رہیں گے۔ اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے۔

            آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ حیدربیابانی جس ادبی کنبے سے تعلق رکھتے تھے اسی کے ایک فرد فرید حافظؔ کرناٹکی ہیں۔ وہ حیدربیابانی کے قدردانوں میں سے تھے۔ یوں تو ادب اطفال میں شعر او ادبا کی کمی نہیں ہے مگر حیدربیابانی کی بات ہی جدا تھی۔ وہ ایسے فنکار تھے جن کا فن بولتا تھا۔ ان کی زبان میں جو چاشنی تھی اسے موضوع کو برتنے اور پیش کرنے کے ان کے سلیقے نے دوبالا کردیاتھا۔

کسی بھی موضوع کو کس طرح دلچسپ انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات ان سے زیادہ کوئی دوسرا بچوں کا شاعر نہیں جانتا ہے۔ ان کی وفات سے یقینا ادب اطفال کی اجتماعی کشش میں کمی واقع ہوئی ہے۔

            اظہر الدّین ازہر ندوی نے کہا کہ حیدربیابانی بہت اچھے شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی نظمیں بچے ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ پڑھتے ہیں۔ اور ہمیشہ پڑھتے رہیں گے۔ وہ بھلے سے اس دنیا سے گذرگئے مگر وہ اپنی کتابوں کی صورت میں زندہ ہیں۔

            انیس الرّحمن (سکریٹری ایچ کے فاؤنڈیشن) نے کہا کہ حیدربیابانی جی کی نظمیں بچے جس شوق سے پڑھتے اور یاد کرلیتے ہیں اسے دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ بچوں کے مزاج سے پوری طرح واقف تھے۔ نصاب میں شامل دوسرے شعرا کی بہ نسبت حیدربیابانی کی نظمیں بچوں کو زیادہ پرکشش معلوم ہوتی ہیں۔ اتنے اچھے اور بچوں کے دلوں میں بس جانے والے شاعر کا گذر جانا ادب کا بڑا خسارہ ہے۔

            فیاض احمد( صدرایچ ، کے فاؤنڈیشن) نے کہا کہ میں ادب کا طالب علم نہیں ہوں، مگر میں نے جو تھوڑی بہت تعلیم حاصل کی ہے اس کے تناظر میں کہہ سکتا ہوں کہ حیدر بیابانی بہت باکمال شاعر تھے۔ ان کی نظمیں بچپن میں جس طرح متأثر کرتی تھی آج بھی متأثر کرتی ہیں۔

            انجینئر محمد شعیب نے کہا کہ حیدربیابانی کی نظمیں میں نے اسکول میں اپنی اردو بک میں پڑی تھی۔ تب مجھے یہ خیال بھی نہیں آیا تھاکہ جس شاعر کی نظم میں اس وقت پڑھ رہا ہوں وہ زندہ سلامت ہیں۔ آج جب ان کی تعزیتی مجلس میں شریک ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنے بڑے اور اہم شاعر تھے۔ حیدربیابانی کی وفات بہت بڑا خسارہ ہے۔

اس تعزیتی مجلس کا باضابطہ آغاز علامہ محمد اشفاق مدنی کی قرأت سے ہوا۔ اور اختتام مولانا محمد ابراہیم ندوی کی دعا سے ہوا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.