صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مسلم سیاستدانوں کیخلاف یوگی حکومت کی انتقامی کارروائی سے مسلمانوں میں بے چینی

14,865

الہ آباد: یو پی کے سرکردہ مسلم سیاسی لیڈروں کے خلاف یوگی حکومت کی سخت کارروائی نے مسلم طبقے کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ اعظم خان، مختار انصاری، عتیق احمد اور اشرف کی جائدادوں کو منہدم کرنے کی کارروائی نے مسلمانوںمیں سخت بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مسلم عوام میں اب یہ تاثر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومت مسلم لیڈران کو دانستہ طور پر اپنی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ مسلمانوں کے باشعور طبقے کی طرف سے بھی یوگی حکومت کی موجودہ کارروائی پر سوال کھڑے کئے جا رہے ہیں۔

حالات کی سنگینی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف الہ آباد میں ہی عتیق احمد کی ایک درجن سے زیادہ قیمتی جائداد کو اب تک منہدم کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ عتیق احمد کی چکیہ علاقے میں واقع  آبائی رہائش کو منہدم کرنے کی کارروائی جاری ہے ۔ مسلمانوںکے باشعور افراد اس کو یوگی حکومت کی انتقامی کارروائی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کارجا وید محمد کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار دیکھنے میں آ یا ہے جب سیاسی انتقام کی آڑ میں مخالفین کی جائداد کو منہدم کرنے کی کارروائی سرکاری سطح پر کی جا رہی ہے۔ جاوید محمد کا کہنا ہے کہ معاملے میں تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں مسلم سیاست دانوں کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے۔

یوپی میں سماج وادی پارٹی کے ایم پی اعظم خان، قومی ایکتا دل کے ایم ایل اے مختار انصاری ، سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد اور سابق ایم ایل اے خالد اشرف کی کروڑوں کی جائداد کو اب تک تباہ کیا جا چکا ہے ۔ یوگی حکومت نے گذشتہ کئی مہینوں سے ان لیڈروں کے خلاف انتقامی  کارروائی شروع کر رکھی ہے ۔ صرف الہ آباد میں ہی عتیق احمد کی ایک درجن سے زیادہ قیمتی جائداد کو منہدم کیا جا چکا ہے۔ زمین بوس کی گئی عمارتوں کی مالیت چھ کروڑ سے زیادہ کی بتائی جا رہی ہے۔ مسلم سیاست دانوں کے خلاف یوگی حکومت کی اس غیر معمولی کارروائی نے مسلم طبقے کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن سید نسیم احمد کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت کی اس کار روائی سے آئینی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم سیاست دانوں کی جائداد کو جان بوچھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جائداد کوتباہ کرنے کی یہ ساری کارروائی بغیر کسی پیشگی نوٹس یا اطلاع کے کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں عتیق احمد ، ان کی اہلیہ شائستہ پروین اور بھائی اشرف کے علاوہ ان کے کئی قریبی رشتہ داروں کی جائداد کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔

یوگی حکومت کی اس یک طرفہ کار روائی نے مسلم طبقے میں سخت بے چینی پیدا کر دی ہے۔ جن علاقوں میں انہدام کی کارروائی کی گئی ہے ، وہاں بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے یہ بارہا رکہا جا چکا ہے کہ عتیق احمد اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف جو بھی کارروائی کی جا رہی ہے وہ قانون کے عین مطابق ہے۔ انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن عمارتوں کو گرایا جا رہا ہے وہ غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی ہیں۔ جبکہ قانون دانوں کا سوال ہے کہ اگر عمارتیں غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی ہیں تو ان کے انہدام سے پہلے نوٹس کیوں نہیں دئیے جا رہے ہیں؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.