صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اپنی پانچ سالہ ناکامیوں کو چھپانے کے لئے حکومت نے بجٹ کے نام پر جملہ نامہ پیش کیا ہے : اشو ک چوہان

654

ممبئی : مرکزی کی مودی حکومت نے آج اپنے دورِ حکومت کے آخری بجٹ میں جملوں ، بے بنیاد دعوں اور جھوٹے وعدوں کی بارش کرکے ملک کی عوام کو گمراہ کرنی کی کوشش کی ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے حکومت نے کاشتکاروں کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا اور غریبوں کے ہاتھ خالی کے خالی رہ گئے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر یہ تنقید آج مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ممبر پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے وزیر پیوش گوئیل عارضی طو رپر وزارتِ مالیات کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جملہ ایکسپریس دوڑانے کی کوشش کی ہے، اس جملہ ایکسپریس کے بارے میں اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ یہ تیزرفتاری کے ساتھ دوڑے گی تو بھی اس ایکسپریس کے ڈرائیور کی مدت کار اختتام کے قریب ہے اور نئے ڈرائیور پر اس کو چلانے کی ذمہ داری تھوپ کر وہ آزاد ہوگئے ہیں۔ آنے والے دو ماہ میں ان کی مدت کار ختم ہونے ہورہی ہے اور اس بجٹ میں پیش کی جانے والی کسی بھی اسکیم کو یہ حکومت عمل درآمد نہیں کرسکے گی۔ تمام وعدوں اور اسکیموں پر نئی حکومت کو ہی عمل درآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بیروزگاری گزشت45 سالوں کے ریکارڈ بلندی پر پہونچ گئی ہے۔ معاشی ترقی کی شرح مکمل طور پر مندی کی شکار ہوچکی ہے اور ملک اہم شعبوں میں پستی کی جانب لڑھکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی حالت زار اور تعمیراتی شعبے میں مندی، گزشتہ دو دہے میں سب سے کم ایکسپورٹ جیسے حالات کے باوجود حکومت کا یہ دعوی کہ وہ2022 تک کسانوں کی آمدنی میں دوگنا کردے گی؟ ایک گمراہ کن وعدے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے لئے زرعی ترقیات کی شرح12 فیصد ہونی چاہئے جو فی الوقت2.1ہے۔ آنے والے تین سالوں میں زرعی ترقیات کے اس شرح کو12فیصد تک پہونچنا ناممکن ہے۔ اس لئے کسانوں کی آمدنی دوگنی ہونے کا دعویٰ صرف ایک جملہ ہے۔

اشوک چوہان نے کہا کہ جزوقتی وزیرمالیات نے ایک لاکھ گاؤں کو ڈیجیٹل کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے قبل100اسمارٹ سٹی بنانے کے وعدے کا کیا ہوا؟ وزیرمالیات نے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔143کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کرنے کا دعویٰ وزیرمالیات نے کیا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ آج تک صرف 32.3 کروڑ بلب ہی تقسیم کئے گئے ہیں۔ وزیرمالیات نے اپنی تقریر میں این پی ای کم ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ درحقیقت گزشتہ ۵ برسوں میں این پی اے میں ۵ گنا کا اضافہ ہوا ہے۔2010-14 میں کل این پی اے 2,16,739 کروڑ روپئے تھا،جو2014-18 میں بڑھ کر10,25,000 کرورڑ روپئے ہوگیا ہے ۔ وزیرمالیات کا این پی اے کم ہونے کا دعویٰ بالکل جھوٹا ہے۔ وزیرمالیات نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے بھرپور فائدہ ہوا ہے، لیکن نوٹ بندی کی وجہ سے کتنے کاروبار بند ہوئے؟ کتنے لوگ بیروزگار ہوئے؟ اس کی معلومات اگر انہوں نے دی ہوتی تو ان کے دعوے کی قلعی اترگئی ہوتی۔ اس بجٹ میں غریبوں کے ہاتھ میں جملوں کے علاوہ کچھ نہیں آیا ہے ۔ یہ جملہ نامہ بجٹ بی جے پی کو شکشت سے نہیں بچاسکتا۔

اشوک چوہان نے کہا کہ اوسط طبقے کے لوگوں کے لئے ۵لاکھ تک ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ ۵ لاکھ سے زائد جن کی آمدنی ہے، انہیں کوئی راحت نہیں دی گئی ہے نیز ان تمام وعدوں اور اسکیموں پر عمل درآمد کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ محصول میں کس طرح اضافہ ہوگا؟ حکومت نے یہ نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور جملہ حکومت نے پیش کیا ہے وہ یہ کہ جن کسانوں کے پاس ۵ ایکڑ سے کم زمین ہے انہیں سالانہ ۶ ہزار روپئے دیئے جائیں گے ۔ یعنی کہ ۵ سو روپئے ماہانہ اور فی کسان ۳ روپئے 30 پیسے دیئے جائیں گے ۔ کسانوں کو قرض معافی اور ان کی پیداوار کو مناسب قیمت دیا جانا ضروری تھا ، لیکن حکومت نے کسانوں کو سالانہ ۶ ہزار روپئے دینے کا اعلان کرکے ان کے ساتھ نہایت بھونڈا مذاق کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.