صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

وہ ویب سائٹس جن سے نوجوان گمراہ ہورہے ہیں ، حکومت انسے بلاک کرے

مسلم نمائندہ کونسل کی مہاراشٹرا اے ٹی ایس سے ملاقات ، بے قصور نوجوانوں کو ٹارچر نہیں کرنے کی اے ٹی ایس چیف کی یقین دہانی

581

اورنگ آباد : (جمیل شیخ) دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے ربط کے معاملہ میں اورنگ آباد اور تھانہ سے اے ٹی ایس نے ۱۰ ؍ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے اے ٹی ایس کا یہ الزام ہے کہ تمام نوجوان ممنوعہ تنظیم کے ربط میں تھے جس کی وجہ سے ملک کی سیکوریٹی خطرے میں ہوسکتی تھی ۔ اے ٹی ایس کے الزامات اور نوجوانوں پر لگائے گئے مختلف دفعات کے معاملے پر گرفتار شدہ نوجوان مشاہد الاسلام کی والدہ بہن و بہنوئی مسلم نمائندہ کونسل کے وفد کے ساتھ مہاراشٹرا اے ٹی ایس چیف اتول چندر کلکرنی سے ان کے ہیڈکوارٹر ناگپاڑہ سے ممبئی میں ملاقات کی اور مختلف موضوعات پر ان سے گفتگو کرکے نوجوانوں کے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق انہیں آگاہ کیا ۔ کہاگیا کہ خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی وفد تائید کرتا ہے ۔ لیکن بے گناہ اور بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری مناسب نہیں ۔ اے ٹی ایس چیف نے وفد کو یقین دلایا کہ غیر ضروری ہراشمنٹ  ہرگز نہیں کیا جائے گا ۔ یہ اطلاع آج مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد کے منعقدہ پریس کانفرنس سے کونسل کے صدر ضیاءالدین صدیقی نے دی ۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں دہشت گرد تنظیم سے ربط کے معاملہ میں اے ٹی ایس نے شہر کے کچھ نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے نوجوانوں کی گرفتاری سے شہر میں اضطراب وبے چینی کا ماحول ہے نیز اے ٹی ایس کے طور طریقوں پر بھی لوگوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ ا س معاملے پر نمائندہ کونسل کے ایک وفد نے ممبئی میں اے ٹی ایس چیف اتول چندر کلکرنی سے ملاقات کی اس وفد میں کونسل کے نائب صدر مولانا عبدالقوی فلاحی ، سکریٹری جنرل کامران علی خان ، سکریٹری معراج صدیقی اور مجلس عاملہ کے ارکان میں سابق کارپوریٹر جاوید قریشی صدر تعمیر ملت اورنگ آباد عبدالمعید حشر اور اردو روزنامہ ایشیاء ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر شارق نقشبندی شامل تھے ۔ ضیاء الدین صدیقی نے بتایا کہ اے ٹی ایس چیف سے ملاقات کے دوران اے ٹی ایس کے رویے پر کھل کر بات چیت کی گئی ہے انہیں بتایا گیا سر پر پستول لگا کر زبردستی دستخط کروانا سادے کاغذات پر دستخط حاصل کرنا جیسی باتیں  میڈیا میں آچکی ہیں ۔

اس جانب اے ٹی ایس چیف کی توجہ مبذول کروائی گئی ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ مشاہدالاسلام پر صرف سِم کارڈ کی وجہ سے یو اے پی اے جیسے خطرناک قانون کی دفعات نافذ کی گئی ہیں ۔ جبکہ دور دور تک اس نوجوان کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جن ویب سائٹس پر سرفنگ سے نوجوان گمراہ ہورہے ہیں حکومت انہیں بلاک کیوں نہیں کرتی ؟ آخر میں بے قصوروں کو تکلیف نہ پہنچے ان امور پر تقریباً ۴۰ منٹ تک اے ٹی ایس چیف سے گفتگو رہی اے ٹی ایس چیف اتول کلکرنی نے وفد کو یقین دلایا کہ بے قصور نوجوانوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں دی جائے گی ابھی تحقیقات چل رہی ہے ۔ میڈیا میں کیا شائع ہوتا ہے اس پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے لیکن ہم نے ایسی کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہی ہے یہاں تک کہ لڑکوں کے نام بھی اخبارات کو نہیں دیئے گئے ۔ جہاں تک سائٹس بلاک کرنے کا سوال ہے انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ بڑا وقت طلب اور پیچیدہ ہے اب تک ۵ ہزار ۵۰۰ سائٹس ہم بلاک کرچکے ہیں لیکن بعض کو بلاک کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔

ضیاءالدین صدیقی نے بتایا کہ اے ٹی ایس چیف نے وفد سے کہا کہ کمیونٹی کے علماء کو آگے آکر نوجوانوں کی رہنمائی کرنی چاہئے ۔ کونسلنگ کے سلسلہ میں بھی بات کی اور غیر ضروری کسی کو ہریشمنٹ نہیں کرنے کا انہوں نے یقین دلایا ۔ گفتگو کے دوران مشاہدالاسلام کے بہنوئی اور ان کی والدہ نے بھی اے ٹی ایس چیف کے سامنے اپنی بات رکھی ۔ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ضیاءالدین صدیقی نے بتایا کہ حکومت کے پاس سائبر ماہرین موجود ہیں اور پورن سائٹس کو فوری طور پر بند کیاجاسکتا ہے ۔ تو پھر ممنوعہ سائٹس کو بلاک کیوں نہیں کیاجاتا ۔ ایک طرف تو اے ٹی ایس یہ کہہ رہی ہے کہ نوجوانوں کو صرف پوچھ تاچھ اور چھان بین کے لئے حراست میں لیاگیا ہے دوسری طرف چارج شیٹ میں ایسے دفعات لگادیئے گئے ہیں کہ جن سے یہ ثابت کیاگیا کہ یہ انتہائی خطرناک قسم کے دہشت گرد یا بڑے مجرم ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں ضیاء الدین صدیقی نے اعتماد نیوز کو بتایا کہ کنپٹی پر ریوالولر لگاکر زبردستی سادے کاغذ پر دستخط کروانے کا مقصد کیا ۔ دوسری طرف کئی سادے کاغذات پر دستخط لی گئی آخر ان کاغذات کا کیسے اور کس لئے استعمال کیا جائے گا اب یہ کہنا مشکل ہے چھان بین کے دوران گھروں سے جو چیزیں ضبط کی گئی ہیں گھر کے ذمہ داران کے سامنے انہیں محفوظ کرکے اس کا پنچنامہ بھی نہیں کیا گیا گرفتار نوجوانوں میں سے ایک کا تعلق کمپیوٹر ڈیزائننگ سے ہے اور اس کے لئے استعمال ہونے والی اشیاء اس کے گھر سے ضبط کی گئی ہیں ۔ ان کا بھی پنچنامہ اے ٹی ایس نے نہیں کیا ہے ۔

اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان پینے کے پانی کے ذخائر کا غلط استعمال کر کے لوگوں کی جان کو خطرہ پہنچانے کی کوشش کررہے تھے ۔ نمائندے کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ضیاءالدین صدیقی نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور ایسی کوئی اشیاء اے ٹی ایس نے برآمد کی ہے البتہ  کمانڈو نامی کمپنی کی چوہے مارنے کی دوا گھر سے ضرور برآمد ہوئی ہیں ضیاءالدین صدیقی نے آخر میں بتایا کہ اے ٹی ایس چیف کے تیقن پر انہیں اعتماد ہے کہ کسی بے قصور نوجوان کو تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی اب جبکہ چارج شیٹ ہوچکا ہے قانونی پہلوئوں کا جائزہ لے کر کونسل آئندہ قدم اٹھائے گی ۔ اس پریس کانفرنس میں ضیاءالدین صدیقی کے علاوہ کامران علی خان ، معراج صدیقی ، معید حشر ، شیخ منتجب الدین ، عبدالقوی فلاحی ، جاوید قریشی ، شارق نقشبندی ،منان خان ، ایڈوکیٹ سلیم خان اورایڈووکیٹ خضر پٹیل کے علاوہ کونسل کے دیگر اراکین وذمہ داران موجود تھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.