صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

رضا اکیڈمی بھیونڈی کا صدر عشق لڑانے میں مصروف

38,630

کوٹر گیٹ مسجد انتظامیہ نےشکیل رضا پر الزام عائد کیا کہ اس نےجعلی کاغذات کے ذریعہ مسجد کی جگہ پر قبضہ کیا جہاں رات کے دو دو بجے تک عورتوں کا جمگھٹا رہتا ہے 

بھیونڈی : جو لوگ مسلمانوں میں مسلکی منافرت کے فروغ کیلئے کام کرتے ہیں اور اپنی منافرت پر مبنی بیانات سے مسلمانوں کا نہ صرف جذباتی استحصال کرتے ہیں بلکہ وہ مسلمانوں میں نفاق کے بیج بوتے ہیں  ان کی ذاتی زندگی عام طور پر کئی طرح کے اسکینڈل اور برائیوں میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے ۔ ایسے ہی ایک شخص کا آڈیو ٹیپ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے ۔ یہ شخص شکیل رضا بھیونڈی رضا اکیڈمی کا ذمہ دار ہے ۔ اس ٹیپ  میں وہ ایک نوجوان دوشیزہ سے عشقیہ اور جنسی گفتگو کرتا ہے ۔ یہ گفتگو کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہےختم ہوتی بھی ہے کہ نہیں اسکے بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں معلوم ۔ البتہ ایک آڈیو ٹیپ سے معلوم ہوتا ہےکہ لڑکی کے والد کو پولس نے کسی معاملہ میں زیر حراست رکھا ہوا ہے جس کی رہائی کیلئے وہ لڑکی سے کہتا ہے کہ اس نے اے سی پی سے بات کرلی ہے جائو وہ تمہارے والد کو چھوڑ دیں گے ۔ ممکن ہے کہ اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے لڑکی کی جانب ہاتھ بڑھایا ہو ۔لیکن لڑکی کی شوخی گفتار سے اس کی نفی ہوتی ہے کہ یہ معاملہ یک طرفہ ہے ۔ فون ٹیپ میں لڑکی سے شکیل رضا یہ بھی کہتا ہے کہ وہ اس کی بیوی کے سامنے نہ آئے ۔

اس سلسلے میں ورلڈ اردو نیوز نے معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ شکیل رضا نے اس بات سے انکار کیا ہے اور اس نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے گفتگو کررہا ہے ۔ لیکن جتنے بھی ٹیپ ہمارے پاس آئے ہیں وہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جنسی اور عشقیہ گفتگو کرنے والی لڑکی اس کی بیوی نہیں کوئی کالج کی طالبہ ہے ۔ بہر حال بھارت آزاد ہے اور کسی کو بھی اپنی پسند کا اختیار ہے لیکن جب معاملہ کسی مذہبی تنظیم کے سربراہ سے جڑا ہو تو مسلمان اس کو برداشت نہیں کرتے ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شکیل رضا نے رضا اکیڈمی کے زیر سایہ اپنی سیاسی اور سماجی قوت میں اضافہ کیا ہے اور اسی قوت کے سہارے وہ بہت سے ایسے کام کرتا ہے جو مسلمانوں میں ناپسندیدہ ہے ۔ کوٹر گیٹ مسجد کمیٹی نے رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری کے نام ایک خط لکھ کر شکیل رضا کو برخواست کرنے کی مانگ کی ہے ۔یہ خط ۲۸؍ جولائی کو جاری کیا گیا ہے ۔ اس میں شکیل رضا کی جنسی بے راہ روی اور جعل سازی کا بھی تذکرہ ہے ۔ اس خط میں اس آڈیو ٹیپ کا بھی تذکرہ ہے جس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ اس کی بیوی نے ہی اس کے موبائل سے نکال کر عام کیا ہے جس کی تعداد سات ہے ۔

خط میں جعل سازی اور جھوٹ سے ایگریمنٹ بنواکر رضا اکیڈمی کیلئے آفس پر ناجائز قبضہ کی بات بھی کہی گئی ہے اور شکیل رضا کو اس کی غیر اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے رضا اکیڈمی سے برخواست کرنے نیز آفس پر ناجائز قبضہ ختم کرنے کیلئے کہا گیا ہے ، بصورت دیگر یہ دھمکی دی گئی ہے کہ مسجد کمیٹی اور محلہ کے افراد مل کر زبردستی آفس خالی کروالیں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مسلکی منافرت پھیلانے والی تنظیم ایسے عاشق مزاج اور بدعنوان شخص پر کب تک کارروائی کرتی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.