صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ڈاکٹر کفیل نے رہائی کے بعد کہا، ’حکومت مجھے کسی معاملہ میں دوبارہ پھنسا سکتی ہے‘

41,303

لکھنؤ: گورکھ پور میڈیکل کالج کے ڈاکٹر کفیل خان کو الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر دیر رات متھرا جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل نے ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں ان کی نوکری پر دوبارہ بحال کرے تاکہ وہ بحران کے اس دور میں لوگوں کی مدد کر سکیں۔

ڈاکٹر کفیل خان پر عائد قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کی دفعہ کو ہائی کورٹ کی جانب سے غیرقانونی قرار دئے جانے کے بعد منگل کی رات 12 بج کر 15 منٹ کے قریب انہیں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ انہیں رہا کرنے کا فیصلہ خصوصی طور پر لیا گیا۔ علی گڑھ کے ڈی ایم چندربھوشن سنگھ کا حکم شام تک متھرا جیل نہیں پہنچا تھا، جس کی وجہ سے رہائی میں کچھ وقت لگا۔

اس سے پہلے ڈاکٹر کفیل کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود متھرا جیل انتظامیہ انہیں رہا نہیں کر رہی ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان کے وکیل عرفان غازی نے بتایا کہ رات قریب ساڑھے دس بجے مجھے متھرا جیل سے اطلاع ملی کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد رات گئے انہیں رہا کردیا گیا۔ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس سے پہلے بھی خصوصی معاملات میں ایسا کیا گیا ہے۔ اگر انہیں رہا نہیں کیا گیا ہوتا تو بدھ بدھ کی دوپہر دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاتا۔

ڈاکٹر کفیل خان کے بھائی عقیل نے کہا کہ ان کے بھائی کی رہائی پر پورا خاندان خوش ہے اور وہ بھائی کو اپنے ساتھ لے کر دہلی جا رے ہیں۔ ہائی کورٹ کے حکم پر رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ان کی نوکری واپس دی جائے تاکہ وہ لوگوں کا علاج اور ان کی خدمت کر سکیں۔ ڈاکٹر کفیل کا کہنا ہے کہ وہ باخصوص سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ سیلاب کے دوران ان علاقوں میں بیماریاں زیادہ پھیلتی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.