صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ظلم پر خاموشی، ظالم کا ساتھ دینا ہے : ڈاکٹر شہریار انصاری

وکھرولی پارک سائٹ میں ہم پارک سائٹ کے لوگ فورم کے ذریعے ہاتھرس عصمت دری کیخلاف احتجاج

12,435

ممبئی : ستمبر ١۴ کو اترپردیش کے ہاتھرس علاقے میں دلت لڑکی منیشا والمیکی کی عصمت دری پر، پورے ملک میں غم و غصہ ہے، واضح رہے کہ اس دلت بچی کی عصمت دری کے بعد ٹھاکر لڑکوں نے لڑکی کی زبان کاٹ دی تھی اور گردن و پیٹھ کی ہڈی بھی توڑ دی تھی۔ تقریباً ١۵ دن تک یہ بچی دہلی کے ہسپتال میں زندگی و موت سے لڑتی رہی اور آخر کار ٢٩ ستمبر کو دم توڑ دیا۔ دلت لڑکی کی آبروریزی اور ظلم کے باوجود اترپردیش پولیس مجرموں سے بے پرواہ رہی۔ لڑکی کے موت کی خبر جہاں لوگوں میں غصہ کا سبب بنی وہیں اترپردیش پولیس کے ذریعے میت کو رات میں ہی خاندان والوں کی اجازت کے بغیر جلا دینا میں  تشویش و بے چینی کا سبب ہے ۔

 چارٹھاکر لڑکوں کے ذریعے ایک دلت لڑکی کی  عصمت دری اور ظلم نے ہمارے اس ملک میں دلت اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم کو اور اجاگر کردیاہے۔ اس ظلم کے خلاف اتوار ١١ ؍اکتوبر کو ممبئی کے وکھرولی پارک سائٹ میں ہم پارک سائٹ کے لوگ فورم کے ذریعے احتجاج کیا گیا۔ اس فورم میں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) ، جماعت اسلامی ہند وکھرولی اور مقامی دلت و مسلم تنظیمیں شامل تھیں۔ 

احتجاجیمظاہرہ کے دوران ایس آئی او کے ممبر اور اسٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر شہریار انصاری نے کہا، اس ملک میں ہر روز سیکڑوں عصمت دری کے واقعات رونما ہورہے ہیں جس میں صنف نازک کو درندے اپنی ہوس کا شکار بناتے ہیں،  وہیں کئی معاملات میں صرف عصمت دری ہی نہیں بلکہ پسماندہ طبقات اور اقلیت کو خاص نشانہ بنایا جاتا ہے، کشمیر کی آصفہ ہو یا ہاتھرس کی منیشا والمیکی اس کی مثال ہے۔ سماج میں موجود مختلف طبقات کو اگر تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو اس ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جائیگی۔

 منیشا کی عصمت دری کے باوجود ٹھاکروں کے ذریعے اسکی حمایت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رکن جماعت اسلامی ہند ڈاکٹر سلیم خان نے کہا، دہلی کی نربھیا کی عصمت دری پر پورا ملک راستوں پر آگیا تھا اور حکومت بھی مدد کے لیے آگے آئی تھی لیکن ہاتھرس کی اس دلت بیٹی پر ہوئے ظلم کے خلاف لوگوں کی بے حسی اور ٹھاکر طبقے کے ذریعے ظلم کی حمایت بہت دکھ کی بات ہے۔ اترپردیش حکومت نا صرف، انصاف دلانے کے معاملہ میں بے پرواہ ہے بلکہ متاثرہ کے خاندان والوں کو ڈرانے دھمکانے اور متاثرہ کی حمایت میں آنے والے لوگوں کو فرضی  مقدمہ میں پھنسانے میں مصروف ہے۔

احتجاجی مظاہرہ سے سسٹر جولی، سلین ناڈر، سندیپ یولے اور رنجن کیدر نے خطاب کیا اور حکومت سے جلد سے جلد انصاف کا مطالبہ کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.