صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سعودی اقتصادی منصوبہ بندی اور کرونا کی حشر سامانیاں

48,110

منصور جعفر

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی قرنطینہ میں ہے۔ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں اپنی ایک تہائی قدر کھو چکی ہیں اور بہت سی معیشتوں کو جدید تاریخ میں بڑے امدادی پیکج کے ذریعے سہارا دیا جا رہا ہے۔

اسی ضمن میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کفایت شعاری مہم کے ذریعے سعودی عرب نے اپنے سرکاری ملازمین کو دیا جانے والا سالانہ ’شہری الاؤنس‘ ختم کرتے ہوئے ملک میں رائج اضافی قدری ٹیکس یا وی اے ٹی کی شرح میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کے اعلان کے مطابق ڈیڑھ ملین سعودی سرکاری ملازمین کو دیا جانے والا ’شہری الاؤنس‘ اس سال یکم جون سے ختم کر دیا گیا ہے جبکہ یکم جولائی سے اضافی قدری ٹیکس کی شرح 5 سے بڑھا کر 15 فیصد کی جا رہی ہے۔ محمد الجدعان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 نامی عالمی وبا کے اثرات سے معیشت کو وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر بحال کرنے کے لیے ’تکلیف دہ‘ مگر ’ناگزیر‘ اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہونے والے مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے سعودی عرب کو شاید مزید سخت اقدامات کرنے پڑیں۔ تاہم یہ بات اطمینان بخش ہے کہ تیل کی قیمتوں کے معاملے پر روس کے ساتھ حالیہ ’لڑائی‘ نے سعودی معیشت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچایا۔

’شہری الاؤنس‘ کی معطلی جیسے اقدامات کے ذریعے مملکت، عوام میں احساس شراکت پیدا کرنا چاہتی ہے کیونکہ سعودی عوام کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ان کی حکومت عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے صحت کے میدان میں غیرمعمولی اخراجات کر رہی ہے۔

مؤقر فارن پالیسی میگزین نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’کرونا وائرس بحران اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے منفی اثرات کے باوجود سعودی عرب ایک ملک ایسا ہے کہ جو معاشی اور جغرافیائی سیاست کے میدان میں حالیہ بحران میں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرے گا۔‘

امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں توانائی کے مشیر اور کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر فار گلوبل انرجی پالیسی کے سربراہ جیسن بورڈف کی تیارکردہ اس رپورٹ کے مطابق: ’سعودی عرب نے ثابت کیا ہے کہ حالیہ بحرانی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مملکت کے پاس مالیاتی وسائل موجود ہیں اور ریاض ضرورت پڑنے پر مزید قرض لینے کی بھی پوزیشن میں ہے۔‘

جیسن بورڈف کے مطابق 2020 تیل کی آمدن پر انحصار کرنے والی اقوام کے لیے تباہی کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، تاہم غالب امکان ہے کہ سعودی عرب معاشی اور سیاسی جغرافیائی لحاظ سے اس عالمی وبا کے بعد مضبوط ہو کر نکلے۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسر نو مضبوط بنایا ہے جو ماضی قریب میں کسی حد تک کمزوری کا شکار دکھائی دے رہے تھے۔

اس بحرانی صورت حال کے تناظر میں سعودی عرب تیل پیدا کرنے والی منڈی کے ’سوئنگ پروڈیوسر‘ کے طور پر بھی اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ ’سعودی عرب کے مرکزی بینک کے پاس 474 ارب ڈالرز مالیت کے غیر ملکی کرنسی ذخائر موجود ہیں۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں سعودی ریال کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے سعودی عرب اپنے غیر ملکی کرنسی دخائر کو 300 ارب کی سطح پر بآسانی برقرار رکھ سکتا ہے۔‘

جیسن بورڈف کے مطابق اقتصادی بحران اور تیل کے پیداواری یونٹس کی بندش سے ہونے والی حاصل ہونے والی بچت کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ تیل کی منڈی میں قدرے استحکام کے بعد سعودی عرب کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ یقینی ہے۔

سعودی عرب کو قوی امید تھی کہ وہ 2020 میں اپنی گروپ 20 کی صدارت کو ترقی اور سفارت کاری کے لیے استعمال کرے گا لیکن اب وہ تبدیل شدہ صورت حال میں کرونا وائرس کی زخم خوردہ دنیا پر مرہم رکھنے میں زیادہ بڑا کردار کر رہا ہے۔ سعودی عرب اپنی قیادت کو بروئے کار لاتے ہوئے مضبوط کیپٹل مارکیٹوں اور ایکو نظام کی تشکیل کے لیے اب بھی پرامید ہے۔

سعودی عرب کی معیشت میں تارکین وطن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وبا کے باعث نجی شعبے کی آمدن میں خاطر خواہ کمی کے اثرات ان تارکین وطن پر بھی پڑے ہیں۔ پاکستان سے روزگار کمانے کے لیے مملکت جانے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی عالمی وبا کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہی، تاہم سعودی حکومت کی جانب سے سرکاری اور نجی شعبے کو بحران کے دنوں میں دی جانے والی مراعات اور امداد نے بہت سے ایسے پاکستانی اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے روزگار بچانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ سعودی عرب کی مضبوط معیشت اور زیرک اقتصادی منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سعودی حکام سرمائے کی مارکیٹوں کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ انہیں ادراک ہے کہ ان کے ذریعے ہی سرمائے تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ سعودی حکام 2020 کو مملکت کے لیے ایک کامیاب سال بنانا چاہتے ہیں۔ اس دوران سعودی کیپٹل مارکیٹ میں 76 ارب ریال شامل ہوئے ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کو 800 سے زیادہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ تعداد 2015 میں جاری کردہ 259 لائسنسوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ریاض اپنی جی 20 کی قیادت کو بروئے کار لاتے ہوئے کرونا کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے کرداروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ وہ کرونا وائرس کی بیماری کے علاج کے لیے بائیو میڈیکل کو مضبوط بنانے کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ وہ کاروبار اور حکومت کی مدد کے لیے سپلائی چین، افرادی قوت اور دوسرے شعبوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔

سعودی عرب اس وقت سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی (صدایا) کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی ایجادات میں سب سے آگے ہے اور وہ ہیلتھ ٹیکنالوجی میں علاقائی لیڈر ہے۔ سعودی ہیلتھ ٹیک کمپنیاں جیسے صحہ ٹیک اور عربی میں دنیا کا صحت کا مصنوعی ذہانت کا بڑا ادارہ نالا مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا (مینا) کے خطے میں حفظان صحت کی مارکیٹ میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ اس مارکیٹ کی مالیت کا 2020 میں 144 ارب ڈالرز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ عالمی اے آئی سمٹ ستمبر میں ریاض میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ سعودی عرب کے لیے اپنی قیادت کو منوانے کا ایک اور موقع ہوگا۔

اس میں دنیا بھر کی مصنوعی ذہانت سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی مجتمع ہو گی۔ اس میں کرونا کے موجودہ بحران کے حل اور مستقبل میں ایسے ہی کسی اور بحران سے بچاؤ کے لیے آلات کی تیاری میں سفارشات مرتب کرنے میں مدد مل سکے گی۔

اس وقت دنیا بھر کو مشترکہ چیلنج درپیش ہے اور ہم ایک نامعلوم دشمن کے خلاف جنگ آزما ہیں۔ یہ ایسا دشمن ہے کہ وہ لوگوں اور صنعتوں کو یکساں انداز میں متاثر کر رہا ہے۔ اس لیے اب بین الاقوامی تعاون اور مشاورت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اس مقصد کے لیے سعودی عرب جی 20 کے صدر ملک کی حیثیت سے قومی حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور دوسرے شراکت داروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.