صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

یوگی حکومت کی سرپرستی میں سرکاری عملہ قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے : رہائی منچ

400

لکھنو : رہائی منچ نے اتر پردیش میں لگاتار ہو رہے قتل اور صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ اور گرفتاریوں پر غم و غصہ کا اظہار کیا

رہائی منچ کے صدر محمد شعیب نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن کے بعد سے ہی اتر پردیش میں لگاتار ہو رہے قتل اور جنسی درندگی کے واقعات نے قانون و انتظام کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ آگرہ میں عدالتی حلقہ میں اتر پردیش بار کونسل کی نو منتخب پہلی خاتون صدر درویش یادو کی سینکڑوں افراد کی موجودگی میں گولی مار کر قتل کردی جاتی ہے تو دوسری جانب شاملی میں نیوز ۲۴ کے صحافی امیت شرما کو اپنے فرائض کی ذمہ داری ادا کرنے کے جرم میں جی آر پی ایس ایچ او اور کانسٹبل بری طرح پیٹتے ہیں اور  بے لباس کرکے اس کے منھ میں پیشاب کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس سے عام لوگوں کے تئیں پولس کے رویہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ پولس کا بدنما مجرمانہ حادثات کے بعد گھنٹوں بعد جائے وقوع پر پہنچنے کا ریکارڈ ہے لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کی شخصیت کو نام نہاد چوٹ پہنچانے والے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے نام پر صحافیوں سے لے کر ڈاکٹروں ، گائوں مکھیا ، کسان ، تاجر ،سماجی کارکن اور عام لوگوں تک کو گرفتار کرنے میں پولس نے کمال کی تیزی دکھائی ۔ قانون و انتظام درست کرنے کے لئے اس کی نصف تیزی دکھاتی تو ریاست میں جرائم کا پہاڑ آسمان کو نہیں چھوتا ۔

صحافی پرشانت کنوجیا

انہوں نے کہا کہ پرشانت کنوجیا کی بیوی جگنیش اروڑہ کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے یوپی پولس کے ذریعہ کنوجیا کی گرفتاری کو آزادی اظہار کی حق تلفی بتائی ۔ اس کے باوجود ریاست میں گرفتاریوں کا دور جاری ہے اور اب تک پرشانت کے علاوہ ۹ دیگر افراد پر مقدمہ کیا جاچکا ہے ۔ ان میں دہلی کی صحافی اشیتا سنگھ ، انوج شکلا کے علاوہ گورکھپور کے پیر محمد ، دھرمیندر بھارتی ، ڈاکٹر آرپی یادو ، بستی کے اخلاق محمد ، وجئے کمار یادو شامل ہیں ۔

پرشانت کنوجیا کی رہائی کے لئے لکھنو کے ایڈووکیٹ اے بی سولومن سمیت رابن ورما ، امردیپ ، پرشو رام کنوجیا ، شکیل قریشی ، جیوتی رائے ، امتیاز احمد وغیرہ کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر گرفتار افراد کو بھی ہر ممکن قانونی اور اخلاقی تعاون مہیا کرائی جائے گی

رہائی منچ لیڈر راجیو یادو نے ہزاری باغ سے روپیش سنگھ ، انکے وکیل دوست متھلیش سنگھ اور ڈرائیور محمد کلام کو نکسلی کے الزام میں گرفتار کو حکومت کے ذریعہ سچائی کا گلا گھونٹنے کی کارروائی قرار دیا ۔ روپیش سنگھ متعدد اخبارات و رسائل کے ذریعہ ایسا سچ سامنے لارہے تھے جو برسر اقتدار طبقہ کو راس نہیں آرہا تھا ۔ انہوں ۴ جون سے ایجنسیوں نے اپنے قبضہ میں رکھا تھا اور ۷ جون کو نکسلیوں کو ہتھیار کی سپلائی کا الزام لگاکر گرفتاری دکھائی ۔ انہوں نے کہا کہ رہائی منچ بے گناہوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.