صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

زکوٰۃ کی وصولی آٹھ کروڑ چالیس لاکھ ، خرچ کی تفصیل غائب

58,794

ممبئی : ممبئی میں گذشتہ ایک دہائی سے ایک تنظیم سرگرم ہے ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس(اے ایم پی) ۔ اس کے ذریعہ سے اخبارات میں آنے والی خبروں یا پھر موصولہ پریس ریلیز سے اس کی سرگرمیوں کی خبریں ملتی رہتی ہیں ۔ یہ خبریں مذکورہ تنظیم کے لئے محض پروپگنڈہ قسم کی ہوتی ہیں ۔ ایک عرصہ سے مسلمانوں میں زکوٰۃ کو لے ایک گفتگو جاری ہے کہ زکوٰۃ سے وہ مطلوبہ مقاصد کیوں حاصل نہیں ہورہے ہیں جو اسلام چاہتا ہے ۔ اس کیلئے زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کی باتیں بھی کی گئیں ۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں باتیں ہوتی ہیں کام نہیں ہوتے ۔

زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کی بات آگے بڑھی تو کئی تنظیمیں سامنے آئیں ۔ اس سلسلہ میں ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس بھی انڈیا زکوٰۃ ڈاٹ کام کے نام سے سامنے آئی ۔ رواں ماہ رمضان کی مناسبت سے اس نے پریس ریلیز جاری کیا اس میں یہ معلومات درج ہے کہ ’’ گزشتہ دو سالوں میں indiazakat.com نے مجموعی طور پر آٹھ کروڑ چالیس لاکھ سے زائد اکٹھا کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ۱۶ہزار سے زائد افراد، خاندانوں اور NGOs کو ہندوستان بھر میں تین ہزار سے زائد مقاصد کے لیے تعاون کیا ہے‘‘۔

پوری پریس ریلیز میں تفصیلات نہیں دی گئیں کہ ان دو سالوں میں حاصل شدہ زکوٰۃ کی رقم جو آٹھ کروڑ چالیس لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے کو کہاں کہاں خرچ کیا گیا ۔ اس سے کتنے زکوٰہ کے مستحق کو معاشی طور سے خود کفیل بنایا گیا ؟کتنے غریب طلبہ کو تعلیم میں معاونت کی گئی ؟ یاد آتا ہے کہ جب مذکورہ تنظیم نے زکوٰۃ کے تعلق سے چندہ شروع کیا گیا تب یہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہم قوم کو خود کفیل بنائیں گے ۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز کے تاسیسی ارکان تنظیم کو کافی پہلے ہی الوداع کہہ چکے ہیں ۔اس کی وجہ ان لوگوں نے یہ بتائی کے اس میں تنظیم کے روح رواں سمجھے جانے والے شخص کے ذاتی مفاد تھے وہ اس کے ذریعہ اپنے مفاد کی تکمیل کرنا چاہ رہے تھے جو تاسیسی ارکان میں سے اکثر ارکان کو پسند نہیں تھے ۔

اوپر جہاں زکوٰۃ کی حاصل شدہ رقم کا تذکرہ ہے وہیں یہ تذکرہ ہے کہ سولہ ہزار سے زائد افراد ، خاندانوں اور تنظیموں کی مدد کی گئی ۔ مگر ا سکی صورت کیا تھا ؟ اس کے نتائج کیا برآمد ہوئےاس کی تفصیل نہیں دی گئی ۔ پریس ریلیز کے آخر میں اخراجات کی مختصر تفصیل یہ ہے ’’آکسیجن سلنڈروں کی تقسیم،راشن کٹس کی تقسیم ،کووڈ یتیموں کی امداد،ایک کوویڈ یتیم بچے کو گود لیں‘‘۔ورلڈ اردو نیوز کو اس سلسلہ میں معلوم ہوا کہ کئی افراد اپنے بچوں کی فیس کیلئے مذکورہ تنظیم کے ذمہ دار سے ملے تو انہوں نے اسے بیرنگ لوٹادیا ۔ یعنی کوئی مدد نہیں کی گئی ۔ ورلڈ اردو نیوز نے چھ روز قبل ۶؍ اپریل ۲۰۲۲ کو ای میل کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آٹھ کروڑ کی رقم کہاں خرچ کی گئی کتنے خاندانوں کو خود کفیل بنایا گیا ۔ مگر اس خبر کے اپلوڈ کئے جانے تک اسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا ۔

زکوٰۃ فنڈ کے تعلق سے بتادیں کے کئی تنظیموں میں سے ایک زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا بھی ہے ۔ ان کے کئی کاموں میں سے ایک کام تو یہ ہے کہ یو پی ایس سی کیلئے وہ کوچنگ کراتے ہیں اور اس کے نتائج یہ ہیں کہ ان کی کوچنگ کے سارے بچے کامیاب ہوتے ہیں ، یہ کام نظر آتا ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی ہند نے زکوٰۃ سینٹر انڈیا zakatcenterindia.org کے نام سے قوم کو غریبی پسماندگی سے باہر لانے کیلئے ایک خاکہ پیش کیا ہے امید ہے کہ جماعت کسی بہتر لائن پر کام کرے گی ۔اگر کوئی تنظیم زکوٰۃ وصولتی ہے تو اس کو یہ بھی عوام کے سامنے رکھنا چاہئے کہ اس نے زکوٰۃ کی رقم سے کتنے مسلم خاندانوں کو خود کفیل بنایا ؟آج مسئلہ قوم کو خودکفیل بنانے کا ہی ہے۔ زکوٰۃ کا مقصد بھی غریب و پسماندہ طبقات کو افلاس سے نکال کر زکوٰۃ دینے والا بنانا ہے ۔ ورلڈ اردو نیوز ایسی تنظیموں کی جانب سے دی جانے والی خبروں کا استقبال کرتا ہے اور اپیل کرتا ہے کہ وہ معلومات ورلڈ اردو نیوز کے ای میل worldurdunewsandviews@gmail.com پر دیں ۔ ہم چاہیں گے کے آپ پروپگنڈہ کی بجائے اپنی تنظیم کی حقیقی تصویر ہمیں پیش کریں تاکہ اردو عوام تک حقائق پہنچتے رہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.