صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’قرآن کریم پوری انسانی برادری کی تاریک زندگیوں میں روشنی لانے والی کتاب ہے‘

سر ضیاء الدین ہال میں تراویح میں تکمیلِ قرآن کے موقع پر ناظمِ دینیات پروفیسر توقیر عالم فلاحی کا خطاب

383

علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سر ضیاء الدین ہال میں تراویح میں تکمیلِ قرآن کے موقع پر اپنے خطاب میں ناظمِ دینیات پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے کہا کہ قرآن مجید کو عالم گیر تلاوت کا شرف حاصل ہے، یہاں کوئی تضاد و تباین نہیں ہے اوریہ تمام قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کروڑوں کے سینوں میں موجود ہے ، اس کلام کو بغیر سمجھے ہوئے پڑھنے میں بھی کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ، اور یہ واحد کتاب ہے جو محدود خطۂ ارض کے لئے یا مخصوص قوم کے لئے نہیں بلکہ رنگ و نسل اور جغرافیائی حد بندیوں کے تمام فروق و امتیازات سے پرے ہو کر پوری انسانی برادری کی تاریک زندگیوں میں روشنی لانے والی ہے ۔

قاری آفتاب اور سامع قاری شکیل کو بالخصوص اور ہال کے قرب و جوار سے آئے ہوئے مصلیین اور ہال کے طلبہ کو بالعموم تکمیل قرآن کی سنت پر مبارک باد دیتے ہوئے پروفیسر فلاحی نے یہ پیغام گوشِ گذار کرایا کہ جس طرح مذہبِ اسلام کے آپ امین ہیں اسی طرح اس مذہب کے دستور یا منشور قرآن مجید کے آپ امین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن آپ کی زندگی میں ضابط و حکمراں کا کام کرے اور معاشرہ انسانی میں اس کی تعلیمات عام ہوں ، حسبِ استعداد آپ اس فریضہ کی ادائیگی کے مکلف ہیں ۔

پروفیسر فلاحی نے کہا کہ جس طرح یہ کتاب ساڑھے چودہ سو سال پیشتر کتابِ ہدایت اور کتاب انقلاب تھی ، اسی طرح اس کی معنویت آج بھی برقرار ہے ۔ آپ نے سامعین کی توجہ اس کی جانب مبذول کرائی کہ قرآنِ مجید کے نزول سے قبل عرب کا خطہ تمام قسم کی رذالتوں اورخباثتوں کا مرکز بنا ہوا تھا ، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ، عورتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی ، قبیلے ایک دوسرے کے وجود کو اپنے لئے ہلاکت و بربادی سمجھ رہے تھے ، بچیوں کو اپنے ہاتھوں ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسہا برس جنگوں کا سلسلہ جاری رہتا، حربِ داحس و غبراء اور حربِ بسوس تاریخِ عرب میں دو ایسی جنگیں ہیں جو انسانیت کی پیشانی پر کلنک ہیں ۔

مذکورہ جنگیں ضد اور ہٹ دھرمی کا شاخسانہ ہیں ، جو تیس تیس اور چالیس چالیس سال تک جاری رہیں جن میں ہزاروں لوگ موت کے لقمۂ تر بن گئے ۔ عرب کے ان صحراء نشینوں ، تہذیب و تمدن سے نا آشنا لوگوں اور آدمیت و انسانیت کا خون کرنے والے لوگوں پر جب انوارِ قرآن روشن ہوئے اور انہوں نے قرآن مجید کو سینے سے لگایا ، دل میں بسایا اوراس کی تعلیمات کو عملی زندگی کی زینت بنایا تو یہی وحشی اور غیر متمدنِ عرب صحابۂ کرام سے ملقب ہوئے ، جن کو موت کے بعد کی زندگی میں کامیابی کا پروانہ ’اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے‘  کے اعلامیہ کی شکل میں مل گیا اور تاریخ کی یہ نا قابلِ انکار شہادت ہے کہ دنیا کی زندگی میں بھی وہ خوب پھلے پھولے ، حکومت ان کے قدموں پر آ گری ، علم بردارانِ قرآن صحرانشینوں نے دنیا کی سوپر پاور طاقتوں سے اپنی شوکت و عظمت کا لوہا منوایا ۔

ناظمِ دینیات پروفیسر فلاحی نے کہا کہ آج بلا شبہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ماحول ہے لیکن معاف کیجئے گا ایسا ماحول تیار کرنے میں ہمارا بھی ہاتھ ہے ۔ ہم نے قرآن مجید کی امانت کو مسلمانوں کی ملکیت سمجھ لیا اور اس کو دوسروں تک منتقل کرنے میں ڈھٹائی کی حد تک گریز کیا اور خود ہم قرآن سے اس طرح وابستہ نہیں رہے جو حق تھا ۔ ہم نے اپنی عملی زندگی میں اس کو بطورِ تبرک اختیار کر رکھا ہے جب کہ یہ ضابطۂ زندگی ہے ، اس ضابطۂ زندگی سے ہم نے عملی زندگیوں میں انحراف کیا ہے اور اس کی عظمت وتقدس کو مجروح کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج ہم نشانۂ ستم ہیں اور تخلف و ادبار کی پستیوں میں ہیں ۔

پروفیسر فلاحی نے کہا کہ صداقت تو یوں نظر آتی ہے کہ آج مسلمان قوم انتہائی خوش قسمت ہے کہ دونوں جہاں کی کامیابی کا ضامن ضابطۂ زندگی کی شکل میں اس کے پاس موجود ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ چاہے حالات ناسازگار و نامساعد ہوں ، یہ قرآن آج بھی ہمارے لئے ویسا ہی رحمت ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ اگلوں کے لئے ہو چکا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ ہم عہد کریں کہ ہمیں اپنے خدا سے رابطہ مضبوط کرنا ہے اور اس کے دیے ہوئے اس ضابطہ کو مضبوطی سے پکڑے رہنا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.