صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

پونے میونسپل کارپوریشن کا متنازع ’تدفین ٹینڈر‘ ، ہنگامہ و احتجاج کے بعد منسوخ

93,290

پونے : پونے میونسپل کارپوریشن نے اپنے اس ٹینڈر کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا جو اس نے کورونا وائرس کے سبب ہوئی اموات کے بعد لاشوں کی تدفین کے لیے جاری کیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ’تدفین ٹینڈر‘ کی اخبارات میں اشاعت کے بعد اس معاملے میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد کارپوریشن کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس معاملہ میں ’مول نواسی مسلم منچ‘ کی طرف سے بھی شدید احتجاج درج کرایا گیا تھا۔ تنظیم کے صدر انجم انعامدار نے ٹینڈر کی منسوخی کو انسانیت کی جیت قرار دیتے ہوئے یو این آئی کو بتایا وہ شروع سے ہی ایسی لاشوں کی تدفین بلا معاوضہ اور صرف انسانیت اور محبت کو باقی رکھنے کے لیے بلا لحاظ مذہب و ملت یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ’تدفین ٹینڈر‘ منگوائے گئے جو تعجب خیز اور لاشوں کو کمائی کا ذریعہ بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس معاملہ پر ہم نے شدید احتجاج کیا، جس پر میونسپل کارپوریشن نے یہ ٹینڈر منسوخ کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔‘‘

انجم انعامدار کے مطابق انہوں نے کمشنر چندرشیکھر گائیکواڑ سے ملاقات کر کے یہ واضح کیا کہ جب مول نواسی مسلم منچ کی جانب سے مفت میں یہ کام کیا جا رہا ہے تو وہ اس کے لئے کیوں ادائیگی کرنا چاہتے ہیں اور عوامی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور یہ ٹینڈر منسوخ کر دیا گیا۔

انجم انعامدار نے بتایا کہ کرسچن چیرٹیبل ٹرسٹ کے صدر ساگئ نیئر کی رہنمائی میں تدفین کے ٹینڈر نظام کو منسوخ کرنے کے مطالبے کے تحت کیے گئے احتجاجی مظاہرہ میں کانگریس کے صدر رمیش باغوی، کارپوریٹرز اروند جی شنڈے، رفیق شیخ، حاجی نداف، این سی پی رہنما اقبال شیخ، راہل کھودے، وِٹھل گائکواڑ اور دوسری سماجی تنظیمیں کا تعاون حاصل رہا۔

انھوں نے بتایا کہ پونے میں کورونا کے پھیلنے کے بعد سے پونے میونسپل کارپوریشن کو تدفین کے مسئلے کا سامنا تھا۔ پہلی موت ہونے کے بعد کوئی بھی تدبین کے لیے آگے نہیں آرہا تھا۔ پونے میں کورونا سے ایک شخص کی موت ہوگئی۔ ایک ایسے وقت میں جب پونے میونسپل کارپوریشن کے ملازمین بھی آخری رسومات ادا کرنے سے خوفزدہ تھے ، تب اس وقت کے کمشنر چندرشیکھر گائیکواڑ نے پونے میں سماجی تنظیموں کو سے اپیل کی تھی کہ کیا تھا کہ عوام اور سماجی کارکنوں کو کام کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔

ان کی اپیل کے بعد ، پہلی بار پونے شہر میں مول نواسی مسلم منچ کے عہدیداروں نے اس وقت کے کمشنر شیکھر گائکواڑ اور ہیلتھ آفیسر رام ہنکارے صاحب اور اسسٹنٹ ہیلتھ آفیسر تصور بالیوت سے ملاقات کی اور کہا کہ ہم آپ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جس کے بعد سے covid-19 ہماری تنظیم اس بیماری سے مرنے والوں کو دفنانے میں آپ کی مدد کر رہی ہے۔ ہماری تنظیم نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ہماری تنظیم کو ان تمام کاموں کے لئے کوئی معاوضہ یا اعزاز نہیں ملے گا۔ہم یہ تمام کام پونے میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے خوف کو دور کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے لوگوں کی بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔ کارپوریشن کی مدد کیلئے کریں گے۔

ہماری تنظیم گذشتہ پانچ ماہ سے اس طرح کی نازک صورتحال میں سنتوں اور بزرگوں کے نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے دن رات کام کر رہی ہے۔ اور لوگوں کی مدد کررہی ہے۔ اور آج تک ، تنظیم کی طرف سے مرنے والے ساڑھے تین سو سے زیادہ افراد کی آخری رسومات ادا کی جاچکی ہیں۔جن میں مسلمانوں ، عیسائیوں ، لنگائات ، تلگو اور بہت سے دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے مذاہب کے مرنے والے شامل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.