صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

یکساں حقوق کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے : کینڈا کے سیاسی صلاح کار

تحفظ انسانیت کے عنوان پر عالمی سمینار ، کینڈا کے سیاسی صلاح کار اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت

686

ممبئی : جوں جوں دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور حکومتیں انساسنی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیوں میں ملوث ہورہی ہیں اس کے تحفظ کیلئے تن من دھن سے جد و جہد کرنے والے افراد اور تنظیموں کی بھی کمی نہیں ہے وہ ظلم و جبر کیخلاف سینہ سپر ہورہے ہیں ۔ ایسی ہی ایک شخصیت فیضان عزیزی ہیں اور ان کی ہیومن سوشل کیئر فائونڈیشن نامی تنظیم ہے ۔ تحفظ انسانیت پر مشہور اسکالر فیضان عزیزی کی قائم کردہ تنظیم ہیومن سوشل کیئر فائونڈیشن نے اس موضوع پر ایک عالمی سمینار کا انعقاد کیا جس میں تنظیم کے صدر فیضان عزیزی ، زبیر قریشی ، ایڈووکیٹ دیپک تلوار ، یوسف انصاری اور غیور انصاری  سمیت ملک کی اہم شخصیات ، سفرا ، اسکالرس ، اسکول و کالج کے پرنسپل وکلا  حضرات نے شرکت کی ۔

اس موقع پر بامبے ہائی کورٹ سابق جج جسٹس ابھے تھپسے نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالی موجودہ دور کا سب سے سنگین مسئلہ ہے ۔ ہمارے ملک کا قانون ان مسائل سے لڑنے کیلئے بہت مفید ہے لیکن اس کیلئے صحیح سمت میں بھرپور جد و جہد کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر رام پنیانی نے کہا کہ سیاسی مفاد کے حصول کیلئے کچھ جماعتیں ملک اور عوام کے درمیان انتشاد پھیلا رہی ہیں ۔ مذہب و آستھا کے نام پر فساد کرکے لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے ۔ تاریخ کو غلط تناظر میں پیش کرکے بدگمانی پھیلائی جارہی ہے ۔

فوڈ اینڈ ڈرگس کمشنر مہاراشٹر ڈاکٹر پلوی دراڈے نے کہا ملک کا قانون سب کو برابری کا حق دیتا ہے ۔ ضرورت ہے کہ صحیح طور سے کام کرنے کی ، کبھی چھوٹے مسئلہ کے حل سے معاشرہ کو بڑا فائدہ ملتا ہے ۔ جیسے ڈاکٹر عزیزی میرے پاس ایک تعلیم کا مسئلہ لے کر آئے تھے جب میں بی ایم سی کی ایڈیشنل کمشنر انچارج تعلیم تھی ، آر ٹی ای کے کوٹہ کو صحیح طور سے عمل میں لانے کیلئے آن لائن داخلہ کی مکمل معلومات اس کے سینٹر اور خاص کر اخبارات میں داخلہ کی تاریخ شائع کرنا جس میں اردو اخبار کو شامل کرنے کی بات کی اور بی ایم سی کی ویب سائٹ پر اردو اسکولوں کی معلومات لوڈ کرنے کا مشورہ دیا ۔ جسے میں نے دو دنوں میں کردیا ۔ آج مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عزیزی کے ایک مشورہ پر عمل کرنے سے ہزاروں غریب بچوں کو بہ آسانی داخلہ مل رہا ہے ۔

ریاستی حکومت کے سابق پرنسپل سکریٹری اتم کھوبرا گڑے نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اشارے پر چند تنظیمیں قانون و انتظامیہ کی کھلے عام دھجیاں اڑارہے ہیں ۔ کینڈا کے سیاسی صلاح کار لمبارٹ نے کہا کہ امن اس وقت تک قائم نہ ہوگا جب تک انسانوں کو یکساں حقوق نہیں ملے گا اور لوگوں کو ان کی ذمہ داری بتانا ضروری ہے ۔ ڈاکٹر عزیزی نے یہ پہل کرکے اچھی شروعات کی ہے ۔ انہوں نے مجھے اس اجلاس میں بلایا میں یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میرا ملک ڈاکٹر عزیزی کے اقدامات انسانیت کی فلاح میں مکمل تعاون دیں گے ۔

ڈاکٹر فیضان عزیزی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں بڑھنے والی درندگی اور حقوق انسانی کی پامالی کی کئی وجوہات ہیں مگر میں ان میں تین اہم وجوہات اپنی تحقیق سے پائی ہے اول حکومت پانے کی لالچ دوم ووٹ بینک کی پالیسی اور سوم سرمایہ دارانہ نظام کی عدم مساوات پر مبنی پالیسی ۔ عرب ممالک خاص طور سے عراق و افغانستان کی بربادی سرمایہ دارانہ نظام کی جبر پر مبنی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے ۔ اسی کے سبب شام بھی کھنڈروں میں تبدیل ہو رہا ہے ۔ برما میں روہنگیائی کمیونٹی کی نسل کشی خواتین کی عصمت دری اور بچوں کا قتل عام بھی اسی قاہرانہ پالیسی کا حصہ ہے ۔

خود ہمارا ملک ان وجوہات الگ نہیں ہے ۔ یہاں بھی جذبات کے نام پر قتل و غارتگری ملک کی شبیہ خراب کررہی ہے ۔ ضرورت ہے پتھروں کے تاریک دور سے نکال کر انسانوں کو سائنس و تکنالوجی کے دور میں لایا جائے ۔ مگر سیاست کے ذریعہ انسانوں کو جانوروں سے بدتر بنایا جارہا ہے ۔ اسکولوں و کالجوں میں بچوں کا فلاح انسانیت کی تعلیم دی جانی چاہئے ۔ وٹیکن سے پوپ نے ڈاکٹر عزیزی کو اپنے خط کے ذریعہ ان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

مذکورہ پروگرام میں کئی اہم شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا اور ان کی سماجی خدمات کی بنا پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ۔ جے جے اسپتال ، نائر اسپتال ، سیفی اسپتال کے ڈاکٹرس ، تعلیمی شعبہ میں خدمات انجام دینے والے اور خاص کر کینڈا کے وزیر اعظم کے جسٹن ٹروڈیو کورو بیگایہ کے معاملہ میں جو اقدام ان کی حکومت نے اٹھائے اس کو سراہتے ہوئے تحفظ انسانیت ایوارڈ سے نوازے گئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.