صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ہندستانی مسلمانوں نے خلاف قانون کوئی قدم نہیں اٹھایا ، قانون کے تئیں ہماری وفاداری کو بزدلی یا کمزوری نہ سمجھا جائے

36,323

ممبئی : (نور محمد خان) ساکی ناکہ انیس کمپاونڈ لنک روڈ میں واقع چشتی ایوان دارالعوام علی حسن اہلسنّت کے ہال میں "پیغمبر محمدؐ بل” کی حمایت میں "تحفظ ناموس رسالت کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا جس میں رضا اکیڈمی ممبئی ، تحفظ ناموس رسالت بورڈ ، آل انڈیا سنی جمیعت العلماء ، آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ اور سمویدھان بچاوْ سمیتی کے ذمہ داران سمیت ممبئی اور مہاراشٹرا کے مختلف اداروں، تنظیموں، مساجد و مدارس کے ذمہ داران اور آئمہ اکرام کے ہمراہ دانشوران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔  وہیں اجلاس میں شامل ہونے والے معین میاں اور رضا اکیڈمی کے کارگزار صدر الحاج سعید نوری کو ہاوس آریسٹ کرلیا گیا اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر قلب کے عارضہ کی وجہ سے اجلاس میں شامل نہیں ہوسکے ۔

ناموس رسالت بل کے مشاورتی کمیٹی کے رکن عبدالباری خان نے بل کی ضرورت اور افادیت کے تعلق سے بتایا کہ آزادی سے لیکر تادم تحریر ہندوستانی مسلمان متعدد مسائل سے دو چار رہے جس میں فرقہ وارانہ فسادات میں قتل عام سے لیکر بم دھماکوں میں بے قصور مسلمانوں کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں علاوہ ازیں وطن عزیز میں شرپسند عناصر پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا قرآن پاک کی بے حرمتی کرنا عام بات ہوتی چلی آرہی ہے اس لئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر نے ایک کمیٹی تشکیل دے کر ایک مسودہ تیار کیا اور بل کی شکل میں مہاراشٹر اسمبلی میں پیش کرنے کا عزم کیا تاکہ حکومت کی قانون ساز کونسل اس ضمن میں قانون بنا کر نافذ کرے جس سے مذہبی منافرت اور بے حرمتی پر قدغن لگائی جا سکے

ایک سوال کے جواب میں عبدالباری خان نے بتایا کہ معین میاں اور سعید نوری اجلاس میں شامل ہونے والے تھے کہ پولیس نے ہاوس آریسٹ کرلیا ہے جبکہ پرکاش امبیڈکر کو دیر رات قلب کی شکایت ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔ عبدالباری نے مزید بتایا کہ ناموس رسالت ﷺ بل کی حمایت میں بلا تفریق مسلک لوگ شامل ہو رہے ہیں قاری عبدالعزیز کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ مولانا محمد ارشد نظامی اشرفی نے دورانِ نظامت ملک کی موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے امن وامان کے لئے، عزت ووقار کے لئے، خوشحالی اور ترقی کے لئے، بھائی چارہ اور محبت کے لئے اس بل کوایوانِ اقتدار میں منظور کروا کے پورے ملک میں نافذ کروانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ نفرتوں کے سوداگر اپنی ناپاک سازشوں میں کامیاب نہ ہوسکیں اور ملک میں امن اور محبت کا راج ہو۔ مولانا ظفرالدین رضوی نے کہا کہ اس بل کو منظور کرلینے میں ہی ملک کی سلامتی اور کامیابی ہے۔

مولاناعبدالحنان اشرفی (سرپرست آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ گوونڈی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوم مسلم ہمیشہ ملک کے جمہوری قانون سے وفادار رہی ہے اسی لئے کبھی کسی نے قانون کے خلاف قدم نہیں اٹھایا لیکن ہماری وفاداری کو لوگ بزدلی یا کمزوری بالکل نہ سمجھیں۔ ہم نبی پاک ﷺ کی ناموس کی خاطر تن من دھن کی قربانی پیش کرتے رہے ہیں جس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ مولانا خورشید جمال نے کہا کہ الحمدللہ ہم ناموسِ رسالت ﷺ کے پہریدار ہیں اور زندگی کا ہر لمحہ نبی پاک ﷺ کی عزت وشان کی خاطر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔

مولانا محمد عباس رضوی (قومی ترجمان رضا اکیڈمی ممبئی) نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی کئی نشستوں میں اس بل کے لئے اپنی مکمل تائید و حمایت پیش کی ہے اور آگے بھی ہمیشہ کرتے رہیں گے یہ صرف ہمارا ایمانی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملکی مسئلہ بھی ہے۔ ارباب حکومت کو سنجیدگی سے اس پر غور وخوض کرکے مثبت فیصلہ لینا چاہئے۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی ترجمان فاروق احمد نے ۵؍فیصد مسلم ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ نے اس کی منظوری دے دی ہے تو دیر کس بات کی ہے؟ یہ مسلمانوں کا دستوری حق ہے انہیں ضرور دیا جانا چاہئے۔ مولانا قاری قمر رضا اشرفی (مدنپورہ)، مفتی محمد فیروز بخت القادری (وکرولی)، مولانا قاری سید حسن اشرفی (گوونڈی)، مولانا عمران اشرفی (ملنڈ)، قاری شمس تبریز (گھاٹکوپر) کے علاوہ بڑی تعداد میں علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور دیگر اہم شخصیات سمیت میڈیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ آخر میں سب کا شکریہ اداکرتے ہوئے ابوالحسن خان اشرفی (صدر دارالعلوم علی حسن اہلسنّت) نے مہمانوں کی شال پوشی کی گلہائے محبت پیش کیا اور سید منظور اشرفی (وکرولی) کی دعاؤوں پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔ اس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی اور رضا اکیڈمی کی جانب سے بروز پیر ۵؍جولائی صبح ۱۰؍ بجے آزادمیدان میں انہی مطالبات کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.