صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ہمارا ملک، ہماری جمہوریت، ہمارے مسائل

630

تحریر:یوگیندر یادو۔ترجمہ، عارِف اگاسکر
کیاپلوامہ حملے کے بعد دہشت گرد اپنا مقصدحاصل کر نے میں کامیاب ہوئےہیں؟ پلوامہ حملے کے تقریباً ایک ماہ بعد بھی ہم اس سوال کاموزوں جواب نہیں دے سکتے۔ہماری فضائیہ نےتو اس حملے کا موزوں جواب دیا ہے، لیکن کیا ہماری عوام اورلیڈران نے بھی دہشت گر دوں کے منصوبہ کو ناکام بنانے کا کوئی موزوں جواب دیا ہے؟ملک میں پارلیمانی انتخاب کے اعلان کے بعد بھی یہ سوال ہمارے سامنے موجود ہے۔
ذرا غور کیجئے،جن دہشت گردوں اور ان کے پاکستانی سرغنہ نے پلوامہ حملے کا منصوبہ بنایا ، ان کا مقصد کیا تھا؟ ہم یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ دہشت گردوں کے دو مقاصد ہوں گے، پہلا اور فوری مقصد تو یہ ہو گا کہ اس حملے میں ہمارے کئی جوان شہید ہو ں گے۔انہوں نے یہ سوچا ہو گا کہ اس حملے سے مشتعل ہونے کے باوجود ہماری سکیوریٹی فورسیس پاکستان کے حدود میں داخل ہو کر ان کا کچھ نہیںبگاڑ سکتی۔ ان کا دوسرا اور بڑا مقصد یہ ہوگا کہ لوک سبھا انتخابات کے موقعے پر ایسا حملہ کر نے سے ہماری جمہوریت پٹری سے کھسک جائے گی اور دیگر تمام مسائل دب جائیں گے اور صرف دہشت گردوں کے ذریعہ تیار کیے گئے ایجنڈے پرانتخابات عمل میں آئیںگے۔جس کے بعدقومی تحفظ کے مسائل پرجھگڑا شروع ہوگا۔ اگر ہم نے وہی ہو نے دیا جودہشت گرد چاہتے ہیں تووہ کامیاب ہوں گے،ورنہ ہم کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
ہماری فوج نےدہشت گر دوں کوبالکل موزوں جواب دیا ہے۔ ہماری فضائیہ نے اپنی کارروائی کے ذریعہ دہشت گر دوں تک صاف پیغام پہنچایا ہےکہ اگر وہ سرحدپار سےحملہ کر یں گے توہم بھی ان کے حدود میں داخل ہو کر حملہ کر سکتے ہیں۔ڈھائی سو دہشت گرد ہلاک ہوئےیا ڈھائی سو ہلاک نہیں ہوئے یہ ساری بحث فضول ہے۔ وزارتِ خارجہ ،بّری فوج اور فضائیہ کی جانب سے کوئی ایسا دعویٰ پیش نہیں کیا گیا کہ ڈھائی سو سے تین سودہشت گردوں کو ہلاک کیا گیاہے۔انہوں نےصرف اتنا ہی کہا کہ ان کوجو ذمہ داری سونپی گئی تھی اسے انہوں نے پورا کیا ہے۔بی جے پی کے لیڈران کوایسا فضول دعویٰ نہیں کر نا چاہیئے تھا اور حزب مخالف کی جانب سے اس کے ثبوت بھی نہیں مانگنے چاہیئے تھے۔حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ہم سرحد پار جاکر بھی تمہیں سبق سکھا سکتے ہیں۔ ہندو ستانی فوج نےپاکستانی دہشت گردوںاور ان کے سرغنہ کو یہ جتا دیا ہے کہ ہم ایٹم بم کی کھو کھلی دھمکی سے نہیں گھبراتے۔
لیکن کیاہماری عوام اور لیڈران نے دہشت گردوں کو موزوں جواب دیاہے؟دہشت گر دوں کو سخت جواب تب ہی مل جاتا جب ہم اس مسئلہ پر قومی رضامندی حاصل کرلیتے اورہم یہ بتا دیتے کہ کوئی بم ہماری یکجہتی میں پھوٹ نہیں ڈال سکتا،ہمارے انتخابی عمل کو کوئی سبو تاژ نہیں کر سکتا۔اس کی پہلی ذمہ داری ہمارے وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے،انہوں نے یہ بتادینا چاہیئے تھا کہ اس مسئلہ پر وہ پورے ملک کے لیڈر ہیںصرف بی جے پی کے نہیں۔ انہوں نےفوجی کارروائی کی کامیابی کا صلہ فوج اور پورے ملک کو دیناچاہیئے تھا۔اس مو قعے پرمودی نےاپنے سر پر کامیابی کا تاج پہن کر اورسابقہ سرکار پر تنقید کر کے اس کھیل کی شروعات کی جو دہشت گرد چاہتے تھے۔اس کے ردعمل میں حزب مخالف لیڈران نے بھی وزیر اعظم پر الزام عائد کیےاور سرکار سے ایسے سوال کیے جو اس موقعے پر غیر ضروری تھے۔تمام سیاسی جماعتوں کویکجا کر نے کی بجائےبی جے پی نے ایسا پانسہ پھینکا کہ حزب اختلاف کے ردعمل پر وہ ملک کے غدار کہلائے۔ ملک میں سیاسی مخالفین کو ہی ملک کاغدار ٹھہرانے کےکھیل کو دیکھ کر دہشت گرد یقیناً خوش ہوئے ہوں گے۔


دہشت گرد اور ان کے پاکستانی سرغنہ اس بات سے مزید خوش ہوئے ہوں گے کہ اب ان کے ذریعہ طے کیے گئے سوالات پر ہی ہمارے پورے انتخابی عمل کی تیاری شروع ہے۔پہلے روز سے ہی بی جے پی نے پلوامہ کے شہیدوںکا فائدہ حاصل کر نے کی کو شش کی ہے۔بی جے پی کے رکن پارلیمان شہیدوں کے ( انتیہ یاترا) آخری سفرکے دوران ایسے چل رہے تھے جیسے کوئی روڈ شو جاری ہے۔بالاکوٹ کی کارروائی کے روز وزیر اعظم نے اسکرین پرشہیدوں کی تصاویر دکھا کر انتخابی تقریر کی جبکہ بی جے پی کے رکن پارلیمان منوج تیواری فوجیوں کا نقلی یو نیفارم پہن کرپر چار کر رہے تھے۔گزشتہ ہفتہ تک ملک میں بی جے پی کے جو پوسٹر اور ہورڈنگ آویزاں تھے ،ان پر فوج اورفضائی حملہ ہی نہیں بلکہ ونگ کمانڈر ابھینندن کی تصویر لگا کر پارٹی کا سیاسی پر چار کیا گیا۔ کر ناٹک میں بی جے پی کے لیڈر یدی یو رپّا نے بیان دیا کہ فضائیہ کے حملے کے سبب کر ناٹک میںبی جے پی کی سیٹوں میں کافی اضافہ ہو گا۔وہاں فو جیوں کا خون بہہ رہا تھاتو ادھر لیڈران کے منھ سے لعاب بہہ رہا تھا۔ کوئی ملک کا سچاوفادار ہو گا تواسے اس طرح آزمایا جاسکتا ہے کہ وہ ملکی مفاد کے لیےاپنے مفاد اور اپنے ملکی مفاد کی قربانی دینےکے لیے تیار ہے یا نہیں۔ایسا نہ ہو نے پر اسےقومی تحفظ کا نہیں بلکہ کرسی کے تحفظ کا کھیل سمجھنا ہوگا۔آج بھی بر سر اقتدار پارٹی اور حزب مخالف مل کر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فوج اورسیکو ریٹی فورسیس کوانتخابی بحث کا مدعانہیں بنایا جائے گااورانتخابات میںکوئی بھی جماعت یا لیڈر فوجی کارروائی کا صلہ حاصل نہیں کرے گا۔اسی طرح حالات سازگار ہو نے تک کوئی بھی جماعت فوجی کارروائی پر تنقید نہیں کرے گی اور نہ ہی الزامات عائد کرےگی۔لیکن ایسی امید کر ناغیر متوقع ہے،کڑوا سچ تویہ ہے کہ آزمائش کے اس موقعے پر پارٹی اور لیڈران لاجواب ہو گئے ہیں۔
اب اگر امید کر نی ہو تو وہ عوام سے کی جانی چاہیئے۔کوئی آپ کا ووٹ مانگنے آئے تواسے اتنا ہی کہیں کہ سیدھے مدعے پر آجائو۔آپ نےاب تک کیا کِیا ہےاور آئندہ کیا کروگے؟ان سے روز گار کے بارے میں،مہنگائی کے تعلق سے،بد عنوانی کے تعلق سےپوچھو، بجلی ، راستے، پانی کے بارے میں، اسپتال اور راشننگ دوکانوں کے بارے میں سوال پوچھو ۔ جو سر کار میں ہیںان سے سوال کرو کہ آئندہ پانچ بر سوں میں آپ کیا کریں گےاس کی ضمانت دو۔اور اگر کوئی شہید فوجی کی تصویر دکھا کر، اس کی شجاعت کی کہانی سنا کراور فوجی یو نیفارم پہن کر ووٹ مانگنے آئے تواس سے سیدھے کہو کہ آپ جنگ لڑرہےہو یا انتخاب ،یاجنگ کی آڑ میں انتخاب لڑرہے ہو؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ نا ہےتوپورا ملک متحد ہے۔یہاں بی جے پی نہیں، کانگریس نہیں،پورا ’بھارت دیش‘ دہشت گردی کے خلاف متحد ہے،لیکن انتخاب لڑنا ہے تو انتخاب جیسالڑیں۔آپ کو ہر بات کا جواب دینا ہو گااور کیے گئے کام کا حساب دینا ہوگا۔لیکن جنگ کی آڑ میںانتخاب لڑ نا ہے اور شہیدوں کے نام پراقتدار میں آنے کے لیے ووٹ مانگنے ہیں تو مَیں آپ کے ساتھ نہیں ہوں۔شہیدوں کی ارتھی اورجوانوں کے خون کےسہارے ووٹ مانگنا ملک سے وفاداری نہیں بلکہ ملک سے غداری ہے۔دہشت گردوں کو سب سے سخت جواب یہی ہےکہ یہ ملک میرا ہے، ووٹ میرےہیں اور مسائل بھی میرے ہیں۔

(مراٹھی روزنامہ، لوک ستّا، ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹ء) مضمون نگار سوراج ابھِیان کے سر براہ ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.