صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’اے ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو‘

464

نورمحمدخان ، ممبئی 

اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایااور قرآن پاک میں بار بار ارشاد فرمایااے ایمان والو یعنی کہ وہ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر اس کی کتابوں پر ایمان لائے ، قیامت پر اور فرشتوں پر ایمان لائے۔ ایسے ایمان والو سے مخاطب ہے کہ اے ایمان والو تم اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو( ٢٦٧ سورہ بقرہ)اللہ تبارک وتعالی کا عظیم احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کا مقدس مہینہ عطا فرمایا اس مقدس مہینے سے وہی لوگ فیض حاصل کرتے ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور جن لوگوں کے پاس پاکیزہ کمائی کی رقوم ہے ۔وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے اللہ کے یہاں بڑا انعام مقرر ہے۔ اکیسویں صدی کے اس جدیدیت میں اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں میں دولت حاصل کرنے کے لئے شریعت قانون کی کوئی اہمیت نہ رہی بلکہ حلال و حرام کی تمیز کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عام طور سے مسلمان زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔

وطن عزیز میں زیادہ تر زکوٰۃ کو مدرسوں تک محدود کردیا گیا کیونکہ ہند کے علما کے بقول مدرسوں میں غریب یتيم بے سہارا بچے دینی علوم حاصل کرتے ہیں۔ اب اس مختصر جملہ کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات منظر عام پر آتی ہے کہ 2005 میں ہندوستانی جمہوری نظام کی مشنریوں نے بھی واضح کردیا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت دلتوں اوردیگر پسماندہ طبقات سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ آخر ایسی کون سی وجوہات پیش آئیں جس سے مسلمانوں کی حالت بد سے بھی بدتر ہوگئی، جبکہ ہندوستان میں لاکھوں کی تعداد میں وقف بورڈ کی ملکیت موجود ہے اور اس ملکیت کا مقصد یہی تھا کہ غریب یتیم بے سہارا اور مطلقہ و بیوہ خواتين کی کفالت کے علاوہ ہسپتال کالجز اسکول اعلی تعلیم اور شادی بیاہ پر خرچ کرنا تھا ۔تاکہ مسلمانوں کی پسماندگی دور ہوسکے دوسری طرف ہرسال اربوں روپیہ زکوۃ کی رقم وصول کی جاتی ہے باوجود اس کے ہمارے مدارس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں غریب یتیم بے سہارا بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی سماجی اور معاشی پسماندگی ختم ہونے کا نام نہیں لےرہی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف اللہ تبارک وتعالی کا فرمان اوردوسری طرف ان مسلمانوں کا کردار جو ابلیس کی ترجمانی پر معمور ہے دنیا کا ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں پر امانت میں خیانت اور ایمان کا سودا نہیں ہوتا ہے ۔کیونکہ اس جدید دور میں دولت کی ہوس نے مسلمانوں کے ایمان کو مسخ کردیا ہے ۔ کاروبار میں جس انداز سے جھوٹ اور تعریف کے پل باندھ کر اپنے سودے کو فروخت کیا جاتا ہے اس طور طریقے کو اسلام نے سرے سے خارج کیا ہے۔ آج مسلمان بڑے ہی فخر سے کہتا ہے کہ ہم نے یہ دولت کمائی ہےلیکن ایسا کہتے ہوئے وہ یہ نہیں سوچتے کہ  قارون اور فرعون جیسے لوگوں کے پاس بھی دولت تھی لیکن ان کی دولت ان کے کام نہیں آئی ۔اکیسویں صدی کا جدید مسلمان جن کی دولت میں پاکیزگی نہیں ہے ایسے لوگ مسجد مدرسوں میں دکھاوےکے لیے ہزاروں لاکھوں دیتے ہیں جسے اسلام نے ریاکار ی کے نام سے موسوم کیا ہے ۔

افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے اکابردین چندہ دینے والے شخص سے یا اعلانیہ یہ نہیں کہتے کہ اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو جبکہ حلال کمائی کو حق قرار دیا گیا اور حرام کو باطل قرار دیا گیا ہے۔ توکیا ایسی صورت میں حرام مال بارگاہ الہی میں قبول ہونگے۔ قارون اور اس کی بے انتہا دولت کا قصہ بیان کرتے چلیںقارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا ’یصہر‘کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس کو ’منور‘کہا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ’توراۃ‘کا بہت بڑا عالم، اور بہت ہی ملنسار و بااخلاق انسان تھا اور لوگ اُس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔لیکن بے شمار دولت اُس کے ہاتھ میں آتے ہی اُس کے حالات میں ایک دم تغیر پیدا ہو گیا اور سامری کی طرح منافق ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بہت بڑا دشمن ہو گیا اور اعلیٰ درجے کا متکبر اور مغرور ہو گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا مگر جب اُس نے مالوں کا حساب لگایا تو ایک بہت بڑی رقم زکوٰۃکی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دم حرص و بخل کا بھوت سوار ہو گیا بلکہ زکوٰۃ کا منکر ہو گیا ۔مسلم معاشرے میں ایسے افراد بھی ہیں جو قارون کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ،جس کی زندہ مسال وقف بورڈ میں خردبرد کرنے والے مسلم لیڈرو عہدیداران ہیں ۔

ہندوستان میں کم و بیش ٦لاکھ سے زائد وقف بورڈ کی ملکیت موجود ہے گزشتہ 70 برسوں سے بورڈ کی ملکیت میں خردبرد کرنے والے یہ وہی لیڈران ہیں جو حکومتوں کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یا کررہے ہیں  اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود ان کا ہمیشہ سے وعدہ رہا ہے ۔ لیکن ان کا وعدہ کتنا وفا ہوا سچر کمیٹی کی رپورٹ سےاس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ہندی مسلمانوں نے جنہیں اپنا قائد تسلیم کرتے ہوئے اقتدار کے تخت و تاج کا حصہ بنایا ،انہی کی موجودگی میں وقف ملکیت فروخت ہوتی رہیں اوروہ خاموش ہی رہے ۔ اس کے برعکس مسلمان وہیں کھڑا ہے جہاں آزادی کے وقت کھڑا تھا بلکہ وہ اس سے بھی بری پوزیشن میں ہیں۔ لیڈران کروڑوں کے مالک بن گئے کیونکہ یہ جو ٹھرے دلتوں سے بھی بدتر مسلمانوں کے قائد!

اہم سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مدرسوں تک محدود کیوں ہے اور اللہ نے پاکیزہ کمائی کا حکم کیوں دیا ؟جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہےکہ صدقہ صرف فقیروں کے لئے ہے اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصولنے والوں کے لئے اور ان کے لیے ہے جن کے دل اسلام کے تئیںنرم ہوں  اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور راہ اللہ میں، راہ رو مسافروں کے لئے فرض ہے اللہ کی طرف سے، اللہ علم و حکمت والا ہے،، (سورہ توبہ آیت نمبر 60) ۔ ہمارے علما یہی کہتے ہیں کہ مدرسوں میں غریب یتیم بچے دینی علوم حاصل کرتے ہیں اور یہ بچے زکوٰۃ کے مستحق ہیںجبکہ جتنے بھی دارالعلوم ہیں سب میں بچوں سے فیس لیا جاتا ہے اور فیس نہ ادا کرنے پر بچوں کو مدرسہ سے باہر کا راستہ دکھاتے ہیں ۔کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے جس مدرسے میں غریب یتیم کے بچے دینی علوم حاصل کرتے ہیں ان مدرسوں کے مہتمم کی تنخواہیں ان کا لباس رہن سہن کسی امیر شخص سے کیاکم ہوتا ہے اور طالب علم کے حالات پر غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ جس طریقہ کا کھانا دیا جاتا ہے اس طریقے کا کھانا وہ اپنے گھر پر بھی نہیں کھاتے ہونگے جو نہایت ہی افسوسناک ہے ۔

سورہ بقرہ کی جس آیت کریمہ پر لکھنے کی ضرورت پیش آئی اس آیت کے پس منظر میں جب علما سے سوال کیا گیا تو برجستہ یہی جواب ملتا ہے اگر ہم یہ کہیں کہ پاکیزہ کمائی کا چندہ دیں تو یقیناً ہمارے پاس کرایہ تک نہیں ہوگا کہ ہم اپنے وطن پہنچ جائیں ۔اب آپ ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عالم اسلام جن مصائب میں مبتلا ہے اس کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہماری آمدنی پر سوالیہ نشان لگاتی ہے ۔جب ایمان کی روحانی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور لوگ ذاتی مفاد کی فکر میں رہتے ہیں تو بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم حکمراں مسلط کردیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ملک میں جتنے کالج اور یونيورسٹی نہیں ہیں اس سے کئی گنا زیادہ دینی مدارس ہیں جہاں سے نبی کریم ﷺ اسوہ حسنہ کی تعلیم نہیں بلکہ مسلکی تشدد کی تعلیم دی جاتی ہو تو بھلا ایمان کی روحانی طاقت کیسے محفوظ رہے گی ۔ دینی مدارس کو چندے کی خطیر رقم درکار ہے بھلے ہی وہ غیرشرعی طور سے حاصل کی گئی ہو ،انہیں تو بس رقم سے مطلب ہے ۔ دینی علوم ہو یا ادارہ نیز اہل وعیال کی کفالت ہو جہاں پاکیزگی نہیں اس میں برکت اور رحمت کیسے ہوسکتی ہے ؟کیا ہمارے اکابرین یہ نہیں جانتے ہیں کہ معاشرے میں نوجوان بہن بیٹیاں ہیں جن کا بیاہ نہیں ہورہا ہے ۔مطلقہ بیوہ عورتيں اور نوجوان لڑکیاں جسم فروشی کے دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہیں، نوجوان لڑکے بے روزگاری کا شکار ہیں ایسے مریض بھی ہیں جو علاج کے لئے بھیک مانگ رہے ہیں ۔روپیہ کی خاطر نوجوان اعلی تعلیم سے محروم ہے کیا ایسے لوگوں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا درست نہیں ہے ؟جہاں تک میرا خیال ہے کہ بھلے ہی کمائی کیسی بھی ہو اگر مذکورہ بالا شعبہ پر خرچ کیا جائے جس سے مسلمانوں کی پسماندگی دور ہوسکے تو یقیناً اللہ تبارک و تعالی کارساز اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے ۔

رابطہ : موبائل :9029516236

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.