صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

چینی صوبے سنکیانگ میں ایغور باشندوں کے حراستی مراکز کی نئی فوٹیج

67,919

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی ماہرین نے کہا ہے کہ چینی صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلم اقلیت کیخلاف کریک ڈاؤن کی خبریں بالکل بےبنیاد تو کبھی نہیں تھیں۔ مزید یہ کہ یہ فوٹیج ایک طرف اگر چینی حکام کے ایغور باشندوں پر کریک ڈاؤن کا ایک نیا ثبوت ہے تو دوسری طرف اس فوٹیج کو جاری کرنے والے چینی ویڈیو بلاگر کی اپنی سلامتی بھی اب خطرے میں ہے۔

یہ یوٹیوب ویڈیو تقریباﹰ بیس منٹ دورانیے کی ہے اور اس میں سنکیانگ میں ایغور آبادی کے خود مختار علاقے میں قائم ایک درجن سے زائد ریاستی حراستی کیمپوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ یوٹیوب ویڈیو ایک ایسے چینی باشندے نے بنائی ہے، جس کا نام گوآن گوآن ہے۔ اس نے آن لائن امریکی نیوز پورٹل بزفیڈ نیوز پر اس چینی صوبے میں ایغور آبادی کے لیے قائم کردہ حراستی مراکز کے بارے میں بہت سے رپورٹیں پڑھی تھیں۔ اس کے بعد گوآن گوآن نے سنکیانگ تک کا سفر کیا اور اس دوران یہ ویڈیو بنائی، جو بعد ازاں یوٹیوب پر جاری کر دی گئی۔

بزفیڈ نیوز کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے سنکیانگ میں ایسے کیمپوں کے نقشے تیار کرنے والی ایلیسن کِلنگ کے مطابق یہ فوٹیج انہی حقائق کی تصدیق کرتی ہے، جن کے بارے میں بہت سے غیر ملکی ماہرین کو یقین ہے کہ وہ سنکیانگ میں چینی حکام کی طرف سے ایغور مسلم  اقلیت کے ساتھ زیادتیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایلیسن کِلنگ نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا، ” جب آپ سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے حقائق کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ دیگر ذرائع سے ملنے والی ان معلومات پر بھی انحصار کرتے ہیں، جو مثال کے طور پر اب اس فوٹیج سے بھی ملتی ہیں۔‘‘

بزفید نیوز کی ایلیسن کِلنگ نے کہا، ”گوآن گوآن کی ویڈیو اس امر کی تصدیق میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہے کہ سنکیانگ میں ایغور اقلیت کے لیے جیلوں کی طرح کے ایسے کئی حراستی مراکز قائم ہیں۔‘‘

امریکا میں اٹلانٹک کونسل کے اسٹریٹیجک لِٹیگیشن پروجیکٹ کے ایک سینیئر فیلو ریحان اسد بھی ہیں۔ وہ خود بھی ایغور نسلی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کے کارکن ہونے کے علاوہ ایک وکیل بھی ہیں۔ ریحان اسد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ نئی ویڈیو سنکیانگ میں جاری کریک ڈاؤن کو دستاویزی طور پر ریکارڈ کرنے کے عمل ہی کا حصہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس ویڈیو سے چینی ریاست کے اس پروپیگنڈا کی نفی بھی ہوتی ہے، جس کے مطابق ایغور باشندے تو بس بہت خوش ہیں۔‘‘

ریحان اسد نے امید ظاہر کی کہ اس ویڈیو کو بنانے والے گوآن گوآن کی طرح چین میں اور بھی بہت سے شہری اسی طرح ایغور باشندوں کے خلاف زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس موضوع پر اپنی آواز بلند کریں گے۔‘‘

اپنی اس ویڈیو میں گوآن گوآن خود بھی یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے 2019ء میں ایک بائیسکل پر سنکیانگ کا دورہ کیا اور کئی نظر بندی کیمپوں کی ویڈیوز بنائیں۔ گوآن گوآن نے سنکیانگ میں قیام کے دوران اس چینی صوبے میں آٹھ مختلف شہروں میں قائم 18 حراستی مراکز کے بارے میں معلومات ریکارڈ کیں۔

گوآن گوآن نے اپنی یہ ویڈیو یوٹیوب پر گزشتہ ماہ اکتوبر میں ریلیز کی۔ اگر ان کی ٹویٹس کی تفصیلات کو مد نظر رکھا جائے، تو یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے شاید 2020ء میں بھی سنکیانگ کا دورہ کیا اور وہاں ان کمیپوں کی مزید فوٹیج تیار کی۔

اس سال جولائی میں امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے ایک نامہ نگار نے بھی سنکیانگ کا دورہ کیا تھا اور اس دوران ارمچی کے ایک حراستی مرکز کی کچھ تفصیلات بھی منظر عام پر آئی تھیں۔ اس کے علاوہ سنکیانگ کے شہر دابان چینگ میں ایک ایسے کیمپ کا ذکر بھی کیا گیا تھا، جسے پورے چین اور غالباﹰ دنیا کا سب سے بڑا حراستی کمپلیکس قرار دیا گیا تھا۔ اس کمپلیکس میں دس ہزار تک افراد کو رکھنے کی گنجائش تھی اور یہ 220 ایکٹر سے بھی زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔

یوٹیوب پر جاری کردہ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس میں گوآن گوآن نے اپنا چہرہ دکھانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ لیکن یہی بات خود ان کی اپنی زندگی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جس پر انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

گوآن گوآن نے جمعہ 19 نومبر کو اپنے یوٹیوب چینل پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ کہتے ہیں، ”میں اتنی طاقت تو نہیں رکھتا کہ خود چینی حکومت کو براہ راست چیلنج کر سکوں۔ لیکن میں وہ سب کچھ تو کر رہا ہوں، جو میرے بس میں ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو نیوز کے شکریہ کے ساتھ

Leave A Reply

Your email address will not be published.