صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ، شعبۂ اردوکے زیر اہتمام قومی سمینار ’قاضی عبدالستار اور ان کا عہد‘ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد

512

علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے   سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ، شعبۂ اردو  کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’قاضی عبدالستار اور ان کا عہد‘ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد ریسرچ ڈویژن ہال شعبۂ اردو میں کیا گیا جس میں مقررین نے قاضی عبدالستار اور ان کے عہد پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ نئی نسل فکشن سے سنجیدگی کے ساتھ وابستہ نہیں ہوپارہی ہے ۔ افتتاحی تقریب کا آغاز قاری محمد اعظم کی تلاوت سے ہوا۔

CAS-II کے کوآرڈینیٹر پروفیسر سید محمد ہاشم نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالستار اپنی ذات میں انجمن اور فکشن کی بے نظیر آواز تھے ۔ انھوں نے جو تخلیقی انقلاب برپا کیا وہ ان سے وابستہ عہد اور نئی نسل کے لیے روشن باب ہے ۔

صدر شعبۂ اردو پروفیسر طارق چھتاری نے موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالستار اپنے زمانے کے سب سے مشکل افسانہ نگار ہیں ۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک کے دائرے کو وسیع کیا اور اس کو صارفیت کے عہد تک لے گئے ۔ انھوں نے کہا کہ سمینار میں قاضی عبدالستار کے ساتھ ان کے عہد کو اس لیے منسلک کیا گیا ہے کہ اس عہد میں شاندار افسانہ نگاروں کی کہکشاں دکھائی دیتی ہے ۔

صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پرووائس چانسلر پروفیسر محمد حنیف بیگ نے شعبہ کی علمی سرگرمیوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ان سے طلبا کو استفادہ کا موقع میسر آتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ قاضی عبدالستار اردو زبان و ادب کے درخشاں ستارے تھے ۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ قاضی عبدالستار کے فکشن کی طرح ان کا عہد بھی زریں عہد ہے جس میں رتن سنگھ ، اقبال مجید ، اقبال متین ، عابد سہیل وغیرہ اہم فکشن نگار شامل کیے جاسکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ قاضی عبدالستار کے افسانے ترقی پسندی کے ساتھ صارفیت کے بے رحم رویے ، بے روزگاری ، تنائو وغیرہ کو پیش کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ نئی نسل میں تجربہ و مشاہدہ کا فقدان باعث تشویش ہے ۔

اے ایم یو کے ٹریژرار پدم شری پروفیسر حکیم ظل الرحمن نے کہا کہ قاضی عبدالستار افسانہ نگاری میں اس طرح رچے بسے تھے کہ ان کی ہر بات افسانہ تھی ۔ انھوں نے کبھی اپنے غم اور دکھ کو دوسروں پر ظاہر نہیں کیا اور صبروضبط کا پیکر بنے رہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ حضورؐ سے گہری عقیدت رکھتے تھے ۔

مہمان اعزازی جے این یو ، نئی دہلی کے سابق استاد پروفیسر نصیر احمد خاںنے کہا کہ قاضی عبدالستار اندر سے انتہائی نرم اور باہر سے سخت مزاج نظر آتے تھے ان کے اندر قوت برداشت بہت تھی ۔ ان کے موضوعات میں تنوع تھا اور تاریخ ان کا پسندیدہ موضوع تھ ا۔

ڈین فیکلٹی آف آرٹس ، پروفیسر مسعود انور علوی نے کہا کہ قاضی عبدالستار صاحب طرز ادیب تھے اور اردو و ہندی دونوں حلقوں میں مشہور تھے ۔

معروف فکشن نگار رتن سنگھ نے کہا کہ انہوں نے طلباء کے لئے ایسی کہانیاں لکھیں جو ذہن کو وسعت دیتی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ قاضی عبدالستار ہمارے لیے کسی مانیٹر کی طرح تھے ۔ پیتل کا گھنٹہ جیسی کہانی ہم سبھی کے لیے ایک چیلنج کی طرح ہے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر نیہا اقبال کی کتاب ’جون ایلیا : حیات اور شاعری‘ اور محمد حنیف کے افسانوی مجموعہ ’مجسموں کا شہر‘ کی رسم اجرا عمل میں آئی ۔ اظہار تشکر پروفیسر محمد علی جوہر نے کیا ۔

نظامت کے فرائض کنوینر سمینار پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے انجام دیے ۔ اس موقع پر اساتذہ طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالرز بڑی تعداد میں موجود رہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.