صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

فرضی شکایتوں کیلئے ممبئی یونیورسٹی کی مہر اور سرکاری ٹکٹ کا استعمال

763

 

ورلڈ اردو نیوز بیورو

عبدالستار دلوی

ممبئی : فرضی اور جھوٹی شکایتوں کے لئے اپنا نام اور پتہ لکھتے ہیں یہ آپ ے سنا ہوگا لیکن فرضی شکایتوں کے ممبئی یونیورسٹی کے اسٹیمپ اور سرکاری ٹکٹ کا استعمال ہونے لگا ہے یہ سن کر آپکو تعجب ضرور ہوگا ۔

ورلڈ اردو نیوز کے ہاتھ ایک ایسا خط لگا ہے جس میں اردو کے معروف صحافی اور مصنف شمیم طارق کے خلاف کی گئی جھوٹی شکایت درج ہے ۔ اس میں انصاری محمود نام کے ایک شخص کے ذریعہ شمیم طارق کے ذریعہ شائع کی گئی کسی کتاب کو لے کر اعتراض جتاتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

مذکورہ خط پر ممبئی کے مدنپورہ کا ادھورا اور جھوٹا پتہ درج ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خط بھیجنے والے کے لفافے پر ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر کا نام اور شعبہ کی مہر لگی ہے ۔

انجمن نے مذکورہ خط کو جب تفتیش کیلئے دیکھا تو ان سب فرضی اور جھوٹے پتہ کو لے کر خط آگے دے دیا لیکن اس معاملہ میں شمیم طارق جو کہ انجمن اسلام میں ہی خدمات پر مامور ہیں انہوں نے خط کا جواب دیتے ہوئے انجمن اسلام سے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی منظوری مانگی جن لوگوں نے ممبئی یونیورسٹی کے نام پر اس قسم کی جھوٹی شکایت کی ہے ۔

وہ لفافہ جس پر ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی صدر معیزہ قاضی کا نام اور موہر ہے ساتھ میں سرکاری ٹکٹ بھی

 

اس معاملہ میں جب ورلڈ اردو نیوز نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ مذکورہ خط کے لفافہ پر جن کا نام تحریر ہے وہ نام معیزہ قاضی کا ہے جو کہ ممبئی یونیورسٹی شعبہ اردو کی صدر ہیں ۔ معزیہ قاضی عبدالستار دلوی کی دختر ہیں ۔ دلوی خود کو اردو دنیا اور اردو ادب کے مصنف کے طور پر مشتہر کرتے ہیں ۔ مذکورہ لفافہ سے معلوم ہوا کہ آکر شمیم طارق کے خلاف اس قسم کی جھوٹی شکایت کرنے کے پیچھے کچھ مقاصد کارفرما ہیں ۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ شمیم طارق اور اردو کے نام پر اپنی روٹی سینکنے والے عبدالستار دلوی کے درمیان کچھ ان بن ہے اور شمیم طارق کے نظریات اور اردو کیلئے ان کا تعاون عبدالستار دلوی کو ایک نظر نہیں بھاتا اسی وجہ سے دلوی نے یہ پورا منصوبہ ترتیب دیا ہے کہ انجمن اسلام میں اس قسم کی جھوٹی شکایت کرکے وہ شمیم طارق کو نفسیاتی طور سے پریشان کرسکیں ۔ لیکن اس درمیان ان کی جانب سے جو غلطی کی گئی وہ ان کے لئے کبھی بھی گلے کی پھانس بن سکتی ہے ۔ کیونکہ جھوٹی شکایت یا کسی بھی قسم کی شکایت کیلئے ممبئی یونیورسٹی کی مہر اور سرکاری ٹکٹ کا استعمال نہیں کرنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کرنا ہے ۔

اس معاملہ میں سینئر ایڈووکیٹ رامیشور گیتے کا کہنا ہے کہ اس طرح سے کوئی بھی ممبئی یونیورسٹی کی مہر اور سرکاری ٹکٹ دفتر کیلئے استعمال نہیں کرسکتا ۔ اگر کوئی جھوٹی شکایت یا شخصی طور سے کوئی اس کا استعمال کرتا ہے تو یہ غیر قانونی اور بد انتظامی ہے اس کیخلاف ممبئی یونیورسٹی کے رجسٹرار یا وائس چانسلر کو اس کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے جس نے اس کا غلط استعمال کیا ہے ۔

اس سلسلہ میں سماجی کارکن ایڈووکیٹ شوکت علی بیڈگری نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں اس طرح کی حرکت کرنے والوں کیخلاف ممبئی یونیورسٹی نے کارروائی نہیں کی تو وہ ان لوگوں کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے درخواست کریں گے تاکہ دوبارہ کوئی ممبئی یونیورسٹی کے دستاویز کا غلط استعمال نہ کرسکے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.